ہجرت کے بعد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم13 سال مکہ میں رہے۔ آپ کی دعوت توحید سے قریش کے مشرکانہ خیالات پر زد پڑتی تھی۔ انہوں نے یک طرفہ طور پر آپ کو ستانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ مکہ میں آپ کے لیے رہنا ناممکن بنا دیا۔ اس وقت آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔
آپ مکہ سے اپنا سب کچھ چھوڑ کر نکلے تھے۔ تاہم اہل مکہ نے اب بھی دور تک آپ کا پیچھا کیا تاکہ آپ کو پکڑ کر مار ڈالیں۔ واقعات بتا رہے تھے کہ مکہ چھوڑنے کے باوجود مکہ والوں نے آپ کو بھلایا نہیں ہے۔ اب بھی وہ آپ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ ہر وقت یہ اندیشہ لگا رہتا تھا کہ وہ لوگ مدینہ کے اوپر جارحانہ کارروائی نہ کریں۔
ان حالات کے پیش نظر آپ نے مدینہ پہنچنے کے بعد مسلمانوں کے دستے مختلف مقامات پر بھیجنا شروع کیے جن کو سریہ کہا جاتا ہے۔ ان سرایا کا مقصد جنگ نہیں تھا۔ چنانچہ سیرت کی کتابوں میں ان سرایا کے تذکرہ میں اس قسم کے الفاظ آتے ہیں:وَلَمْ يَلْقَ كَيْدًا فَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ(سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ591)۔ یعنی، ان میں جنگ اور مڈبھیڑ نہیں ہوئی۔
ہجرت کے بعد ابتدائی ایام میں ابواء، بواط، عشیرہ وغیرہ نام کے سرایا پیش آئے۔ ان سرایا کے تذکرہ میں سیرت کی کتابوں میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں:لَيْسَ فِيهِمْ مِنْ الْأَنْصَارِ أَحَد(سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ591)۔ ان میں کوئی انصاری نہ تھا۔ انصار کو ان مہموں میں شامل نہ کرنے کی مصلحت غالباً یہ تھی کہ آپ یہ نہیں چاہتے تھے کہ جو مخاصمت قریش اور مہاجرین کے درمیان قائم ہو چکی ہے، وہ قبل از وقت انصار تک وسیع ہو جائے۔
ان سرایا کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا مقصد ابتداء دو تھا۔ اول، مکہ کے اطراف کے قبائل سے صلح کے معاہدے کرنا تاکہ قریش کو ان قبائل سے کاٹا جا سکے۔ قریش اپنی جارحانہ کارروائیوں میں ان کو اپنا شریک نہ بنا سکیں۔ چنانچہ غزوہ العشیرہ کے ذیل میں یہ الفاظ آتے ہیں:فَصَالَحَ بِهَا بَنِي مُدْلِجٍ وَحُلَفَاءَهُمْ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ فَوَادَعَهُمْ (سیرۃ ابن کثیر، جلد 2، صفحہ363)۔
ان سرایا کا دوسرا مقصد قریش کی نقل و حرکت کا پتہ لگانا تھا۔ چنانچہ سریہ سفوان کے ذیل میں آتا ہے کہ آپ نے سریہ کے سردار کو یہ تحریری ہدایت کی کہ فَتَرَصَّدْ بِهَا قُرَيْشًا، وَتَعَلَّمْ لَنَا مِنْ أَخْبَارِهِمْ(تفسیر القرطبی، جلد3، صفحہ41)۔
ان سرایا میں تیسرا سبب اس واقعہ سے پیدا ہوا ہے جس کو اہل مدینہ کے اوپر اہل مکہ کی پہلی جارحیت کہا جا سکتا ہے۔ غزوہ عشیرہ سے واپسی کے بعد آپ نے تقریباً دس دن مدینہ میں قیام کیا تھا کہ قریش کے ایک سردار کرز بن جابر فہری نے مدینہ کے مسلمانوں کی ایک چراگاہ پر چھاپا مارا اور مسلمانوں کے اونٹ اور بکریاں لے کر بھاگ گیا(سیرۃ ابن ہشام جلد2، صفحہ238)۔
اس واقعہ کے پیش نظر قریش کی حوصلہ شکنی ضروری تھی۔ چنانچہ آپ نے قریش کے تجارتی قافلوں کے اوپر دستے بھیج کر قریش کو متنبہ کیا کہ اگر تمہاری معاشیات کو برباد کرنا چاہتے ہو تو تم بھی اپنے آپ کو محفوظ نہ سمجھو۔
ایک سریہ(عبداللہ بن حجش) میں ایسا ہوا کہ ایک مسلمان نے ایک کافر کو قتل کر دیا۔ اس قتل کے سلسلہ میں بعض روایات میں یہ الفاظ آئے ہیں:فَكَانَ ابْنُ الْحَضْرَمِيِّ أَوَّلَ قَتِيلٍ قُتِلَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ (تفسیر ابن کثیر، جلد1، صفحہ432)۔ اس بنا پر بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ مدینہ پہنچ کر اسلام نے صبر کا طریقہ چھوڑ کر جنگ کا طریقہ اختیار کر لیا۔ اور ابن الحضرمی کا قتل گویا اس بات کا اعلان تھا کہ اب اسلام کی طرف سے مسلح جدوجہد کا آغاز ہو چکا ہے۔
مگر واقعہ کی تفصیلات دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کا نظریہ سراسر بے بنیاد ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ رجب2ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن حجش کی سرکردگی میں ایک دستہ نخلہ کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ کل بارہ آدمی تھے۔ روانہ کرتے ہوئے آپ نے سردار سریہ کو ایک بند تحریر دی اور فرمایا کہ اس کو اس وقت تک نہ کھولنا جب تک تم دو دن کا راستہ نہ طے کر لو۔ دو دن کا راستہ طے کرنے کے بعداس کو کھولنا اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرنا۔
دو دن کے بعد جب حضرت عبداللہ بن حجش نے اس تحریر کو کھولا تواس میں لکھا ہوا تھا:جب تم میرے اس مکتوب کو دیکھو تو چلتے رہو یہاں تک کہ تم مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ کے مقام پر پہنچ کر اترو اور وہاں قریش کو دیکھو اور ہم کو ان کے حالات سے مطلع کرو:إِذَا نَظَرْتَ فِي كِتَابِي هَذَا فَامْضِ حَتَّى تَنْزِلَ نَخْلَةً بَيْنَ مَكَّةَ وَالطَّائِفِ فَتَرَصَّدْ بِهَا قُرَيْشًا، وَتَعَلَّمْ لَنَا مِنْ أَخْبَارِهِمْ(تفسیر القرطبی، جلد3، صفحہ41)۔
اسی اثناء میں قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف جا رہا تھا۔ دستہ کے ایک شخص واقدبن عبداللہ نے قافلہ کے سردار عمر بن الحضرمی کو نشانہ لگا کر ایک تیر مارا۔ یہ تیر کسی نازک مقام پر لگا اور وہ مر گیا۔ دستہ مدینہ واپس آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکورہ قتل کا واقعہ بتایا تو آپ نے فوراً کہا:مَا أَمَرْتُكُمْ بِقِتَالٍ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ (سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 603)۔یعنی،میں نے تم کو ماہ حرام میں کسی جنگ کا حکم نہیں دیا تھا۔ بالفاظ دیگر، اگر جنگ مقصود ہوتی تو کیا میں تم کو حرام مہینہ میں روانہ کرتا۔
