طلاق کے بعد
اس سلسلہ میں دوسرا سوال یہ ہے کہ طلاق کے بعد ایک عورت کے لیے اپنے ضروری اخراجات پورا کرنے کی صورت کیا ہے۔ اس کا ایک جواب اسلام کا قانونِ وراثت ہے۔ اسلام نے خاندانی جائیداد میں عورتوں کا جو حصہ مقر ر کیا ہے اگر اس پر باقاعدہ عمل در آمد ہو تو عورت کے لیے بے سہارا ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ خاندانی جائداد میں عورت کا مستقل حصہّ مقرر کرنا ایک اعتبار سے اسی لیے ہے کہ عورت ہنگامی حالات میں اپنی کفالت آپ کرسکے۔
تاہم اسلام نے عورت کے معاشی مسئلہ کو تمام تر وراثت پر منحصر نہیں رکھا۔کیوںکہ وراثت کا معا ملہ ہمیشہ یقینی نہیں ہوتا۔ اس کا مزیدانتظام اسلام کے قانون نفقات سے ہے۔ آدمی کو اس کا جواب اسلام کے قانونِ نفقات میں تلاش کرنا چاہیے ، نہ کہ اسلام کے قانون طلاق میں ۔ یہاں ہم مختصراً چند پہلوؤں کا ذکر کریں گے۔
1۔ مطلقہ عورت اگر بے اولاد ہے یا اولاد کمانے کے قابل نہیں ہے تو اسلامی شریعت کے مطابق اس کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے والدپر ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہی صورت دوبارہ لوٹ آئے گی جو شادی سے پہلے تھی۔ شادی سے پہلے باپ اپنی لڑکی کا کفیل تھا۔ طلاق کے بعد دوبارہ وہ اپنی لڑکی کا کفیل ہوجائے گا:
فَالْإِنَاثُ عَلَيْهِ نَفَقَتُهُنَّ إلَى أَنْ يَتَزَوَّجْنَ إذَا لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ مَالٌ، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُؤَاجِرَهُنَّ فِي عَمَلٍ وَلَا خِدْمَةٍ وَإِنْ كَانَ لَهُنَّ قُدْرَةٌ، وَإِذَا طَلُقَتْ وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا عَادَتْ نَفَقَتُهَا عَلَى الْأَبِ۔ (فتح القدير للكمال ابن الهمام جلد 4، صفحہ 410)۔ يعني، باپ پر اس کی لڑکیوں کا نفقہ اس وقت تک ہے جب تک وہ شادی نہ کریں جب کہ لڑکیوں کے پاس مال نہ ہو۔ اور باپ کو حق نہیں کہ وہ انھیں کسی عمل یا خدمت پر لگائے ، اگر چہ ان کے اندر اس کی قدرت کیوں نہ ہو۔ اور جب لڑکی کو طلاق ہوجائے اور اس کی عدت پوری ہوجائے تو اس کانفقہ دوبارہ باپ پر لوٹ آئے گا۔
2۔ مطلقہ عورت اگر ماں ہے۔ یعنی وہ ایسی اولاد رکھتی ہے جو صا حب معاش ہے تو ایسی صورت میں اس کے اخراجات کی پوری ذمہ داری اس کی اولاد پر ہوگی:
أَنَّ جَمِيعَ مَا وَجَبَ لِلْمَرْأَةِ وَجَبَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ عَلَى الْوَلَدِ مِنْ طَعَامٍ وَشَرَابٍ وَكُسْوَةٍ وَسُكْنَى حَتَّى الْخَادِمِ(الدر المختاروحاشية ابن عابدين ’’رد المختار‘‘، جلد 3، صفحہ 622)۔یعنی،وہ سب جو بیوی کے لیے واجب ہے وہ سب باپ اور ماں کے لیے لڑکے پر واجب ہوگا،یعنی کھانا، پینا ، کپڑا ، مکان، یہاں تک کہ خادم بھی۔
3۔ اگر مطلقہ عورت کا باپ نہ ہو یا اس کی اولاد اس کی کفالت کرنے کے قابل نہ ہو تو دوسرے قریبی اور محرم اعزّہ اس کی معاشی کفالت کے ذمہ دار ہوں گے۔ مثلاً چچا ، بھائی ، وغیرہ۔اگر یہ تیسری صورت بھی موجود نہ هو تو اسلامی شریعت کی رو سے ریاست کا بیت المال اس کے اخراجات کو پور ا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ مطلقہ عورت کو قانونی طور پر یہ حق ہوگا کہ وہ ریاست سے اس کو وصول کرے۔
شریعت کے اسی اہتمام و انتظام کی وجہ سے اسلام کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہو ا اور نہ آج ایسا ہے کہ مسلمان عورتیں طلاق پا کر بے سہارا پڑی ہوئی ہوں اور کوئی ان کی کفالت اور سرپرستی کرنے والا موجود نہ ہو۔
