دو کردار
بنو عباس نے بنوامیہ سے اقتدار چھینا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اموی خاندان کے ایک ایک فرد کو قتل کرنا شروع کیا تاکہ کوئی تخت کا دعویدار باقی نہ رہے۔ تاہم ان کا ایک نوجوان (عبدالرحمٰن الداخل) ان کو پکڑ سے بچ گیا۔ وہ دمشق سے بھاگ کر اسپین پہنچا۔ وہاں اس نے بنوامیہ کی مشہورسلطنت قائم کی۔
بنو عباس کا دارالسلطنت بغداد تھا اور اسپین کی اموی حکومت کا دارالسلطنت قرطبہ۔ مذکورہ تاریخی پس منظر کی وجہ سے دونوں میں مسلسل رقابت رہی تھی۔ فرانس اس سمندر پار اموی سلطنت کا پڑوسی تھا۔ بغداد نے یہ کیا کہ اس نے فرانس کے عیسائی حکمراں کی خدمت میں قیمتی تحفے روانہ کیے اور اس کی حوصلہ افزائی کی تاکہ وہ اسپین کی اموی حکومت کے خلاف کارروائی کر کے بغداد کے انتقامی جذبات کی تسکین کرے۔
دوسری طرف بغداد کی عباسی سلطنت کا پڑوسی قسطنطنیہ تھا۔ سابق رومی شہنشاہیت کا وارث قیصر اپنی سلطنت کا بڑا حصہ کھو کر اس وقت قسطنطنیہ میں اپنا مرکز قائم کیے ہوئے تھا۔ قیصر نے سوچا کہ بغداد جس طرح اسپین پرحملہ کرنے کے لیے فرانس کے عیسائی حکمران کی مدد کر رہا ہے ، اسی طرح اگر میں بغداد کے خلاف مہم شروع کروں تو قرطبہ کی طرف سے مجھے مدد حاصل ہو گی۔
اس امید کے تحت قیصر قسطنطنیہ نے 209ھ میں اپنا ایک سفیر قرطبہ کے اموی حکمراں عبدالرحمٰن الثانی کے پاس بھیجا۔ بظاہر عبدالرحمٰن الثانی کو قیصر کے سفیرکا زبردست خیرمقدم کرنا چاہیے تھا۔ کیوں کہ وہ اس کے دشمن کے خلاف چڑھائی کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس طرح وہ بغداد کے خلاف اپنے انتقامی جذبات کی تسکین حاصل کر سکتا تھا۔ مگر عبدالرحمٰن نے اس کی طرف توجہ نہیں کی۔ قیصر کے سفیر نے عبدالرحمٰن الثانی سے کہا کہ اگر آپ قیصر سے دوستی کریں تو اس کے تعاون سے آپ اپنی آبائی سلطنت (شام، عراق، عرب وغیرہ) عباسیوں سے واپس لے سکتے ہیں۔ مگر عبدالرحمٰن الثانی نے قسطنطنیہ کے سفیرکو رسمی باتیں کر کے لوٹا دیا۔
انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے دشمن کے دشمن کو دوست بنانا ایک سطحی فعل ہے۔ اعلیٰ انسان وہ ہے جو اس قسم کے جذبات سے اوپر اٹھ جائے جو اصول کی بنا پر لوگوں سے معاملہ کرے ، نہ کہ دوستی اور دشمنی کی بنا پر۔
