رہنما کی اہمیت
صحیح البخاری (کتاب مناقب الانصار) میں ایک طویل حدیث آئی ہے۔ خلیفہ اول ابوبکر صدیقؓ سے ایک خاتون نے پوچھا کہ دین کا معاملہ کب تک درست رہے گا۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا :بَقاؤُكُمْ عَلَيْهِ ما اسْتَقامَتْ بِكُمْ أَئِمَّتُكُمْ (صحیح البخاری،حدیث نمبر 3834)۔ یعنی، دین صحیح پر تم لوگ اس وقت تک قائم رہو گے جب تک تمہارے رہنما درست رہیں۔
کوئی تحریک خواہ وہ اچھی ہو یا بری، ہمیشہ رہنما طبقہ اس کو چلاتا ہے۔ کسی قوم کا رہنما طبقہ ہی اس قوم کا ذہن ساز طبقہ (opinion-maker class) ہوتا ہے۔ وہی عوام کو کسی اشو پر موبیلائز کرتا ہے، وہی لوگوں کو ابھار کر کسی محاذ پر کھڑا کرتا ہے۔ کوئی تحریک خواہ بظاہر عوام کے نام پر اٹھی ہو، حقیقتاً وہ کچھ رہنماؤں کی اٹھائی ہوتی ہے۔
کسی معاملہ کی نوعیت کو عوام نہیں سمجھ سکتے۔ یہ صرف خواص ہیں جو اس کی واقعی نوعیت کو سمجھتے ہیں اور عوام کو رہنمائی دیتے ہیں۔ یہی رہنمائی کسی قوم کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہوتی ہے۔ اگر رہنما نے قوم کو صحیح رخ پر اٹھایا ہو تو وہ آخرکار اپنی منزل مقصود پر پہنچتی ہے۔ اور رہنما اگر قوم کو غلط رخ پر دوڑا دے تو ساری قربانیوں کے باوجود قوم تباہی کے گڑھے میں جا گرتی ہے۔ وہ پانے کے بجائے کچھ اور کھو دیتی ہے۔
کسی قوم کی عملی زندگی میں رہنما کا رول بے حد نازک ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ رہنما آخری حد تک سنجیدہ ہو۔ کیوں کہ اس نے اگر قوم کو غلط سمت میں دوڑا دیا تو اس کے بعد جو تباہی آئے گی اس کی ذمہ داری سب سے زیادہ اسی رہنما پر ہو گی۔
دریا میں تیرنے کے لیے وہی آدمی اترتا ہے جو تیراکی کا فن جانتا ہو۔ اسی طرح رہنمائی کے میدان میں صرف اس شخص کو آنا چاہیے جس نے اس کی ضروری شرطوں کو پورا کیا ہو— دین کا بخوبی علم، حالات موجودہ کا گہرا مطالعہ ، قوم کی ایمانی اور اخلاقی حالت کا صحیح اندازہ ، بیرونی طاقتوں کے بارے میں کامل معلومات، اس قسم کے تمام ضروری پہلوؤں پر جس کو دستگاہ حاصل ہو اسی کو رہنمائی کے میدان میں اترنا چاہیے۔ اس کے بغیر رہنمائی کا کام سنبھالنا ایک جرم ہے، نہ کہ کوئی رہنمائی۔
