زوجین کی مثال

قرآن کی سورہ نمبر51میں ارشاد ہوا ہے:وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ (51:49)۔ یعنی، ہم نے ہر چیز کو جوڑا بنایا تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ قرآن کی آیت میں موجودہ دنیاکےایک ظاہرہ کاذکرکرکےانسان کومتوجہ کیاگیا ہےکہ وہ اس پر سوچے اور اس سے نصیحت حاصل کرے۔ اس ظاہرے کی طرف قرآن میں زوجین کے لفظ سے اشارہ کیا گیاہے۔

اس آیت میں زوجین کی تفسیرپچھلےمفسرین نےمختلف اندازسےکی ہے۔ان تفسیروں میں بہرحال نصیحت کاسامان ہے۔ مگرموجودہ زمانے میں جوتحقیقات ہوئی ہیں ان کااضافہ کرتے ہوئے اس آیت کا مطالعہ کیا جائے تو اس سے نیایقین حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ آیت، قرآن کے الفاظ میں، ایمان کے ساتھ ایمان میں اضافہ (48:4) کا سبب بن جاتی ہے۔

جدیدتحقیقات سےمعلوم ہواہےکہ زوجین کااصول جوانسانوں میں ہےوہی دنیاکی ہر چیز میں پایا جاتا ہے۔ ہر چیز اپنے زوج کے بغیر نامکمل ہے، وہ اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب کہ اس کے زوج کے ساتھ اس کو شامل کیا جائے۔ مادّی ایٹم میں منفی ذرّہ (negative particle) کے ساتھ مثبت ذرّہ(positive particle)کا ہونا۔ اسی طرح نباتات میں بھی زوجین یانراور مادہ کااصول ہے۔ ان میں سےایک کومیل فلاور(staminate flower) کہا جاتا ہے۔ اور دوسرے کو فیمیل فلاور (pistillate flower)۔ اسی طرح حیوانات میں بھی جوڑے ہیں۔ ان میں سے نر کو ہی میل (he-male) اور مادہ کو شی میل (she-male)کہاجاتاہے۔اسی طرح انسانوں میں بھی جوڑےہیں جن کوہم عورت اورمردکےنام سےجانتےہیں۔ 

زوجین کےعمومی اصول کولےکرغورکیاجائےتومعلوم ہوتاہےکہ اس عموم میں ایک استثناء ہے،اوروہ ہماری انسانی دنیا ہے۔ انسانی دنیا اپنے سارے ہنگاموں کے باوجود ایک نامکمل دنیاہے۔اس کی تکمیل کےلیے اس کاایک جوڑا (زوج) درکار ہے۔ مگریہ جوڑا موجودہ دنیا میں ملتا ہوا نظر نہیں آتا۔

تجربہ یہ بتاتاہےکہ موجودہ انسانی دنیاایک مبنی برمفاددنیاہے۔یہاں سارے انسانی تعلقات مفادکےاصول پرقائم ہیں۔ انسان اپنی فطرت کےاعتبارسےایک بااصول معیاری دنیا (ideal world) چاہتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں وسائل کی محدودیت اور انسان کی آزادی جیسے مختلف اسباب ہیں جو فیصلہ کن طور پر اس میں رکاوٹ ہیں کہ یہاں وہ معیاری دنیا بن سکے جو انسان اپنے فطری تقاضے کے تحت چاہتا ہے۔

اس کمی کا تقاضا ہے کہ موجودہ دنیا کا ایک جوڑا(زوج)ہوجواس کمی کوپوراکرکےاس کی تکمیل کرے۔ موجودہ دنیامبنی برمفاد دنیاہے۔اب اس کاجوڑا(زوج)ایک ایسی دنیا ہے جومبنی براقدار(value based)دنیاہے۔ایسی ایک دنیاہی موجودہ دنیا کی کمی کی تلافی کر کے اس کی تکمیل کرسکتی ہے۔ اسی تکمیلی دنیاکانام آخرت ہے۔آخرت میں خدا نے جنت کی جودنیابنائی ہےوہ ہرقسم کی کمیوں اورمحدودیتوں سےپاک ہے۔وہ خوف اورحزن سے مکمل طورسےخالی ہے۔ وہاں وہ تمام اسباب کامل طورپرموجودہیں جو انسان کو یہ موقع دیں کہ وہ بھرپور آسودگی (complete fulfillment) کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

موجودہ دنیا میں ہرچيزکاجوڑاہونااورصرف ایک چيزکاجوڑانہ ہونااس بات کاقرینہ ہےکہ یقینی طورپراس کابھی ایک جوڑا موجودہے۔بقیہ چیزوں کےجوڑےکوموجودہ دکھائی دینے والی دنیا میں رکھ دیا گيا ہے مگر امتحان کی مصلحت کی بناپر انسانی دنیا کے اس جوڑے کونہ دکھائی دینے والی دنیا میں رکھا گيا ہے۔ مرنے کے بعد تمام انسان اسی اگلی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔اوروہاں وہ جوڑےکوعملی طور پر پالیتے ہیں۔

ربّانی تعقّل کاموضوع ایک بے حدوسیع موضوع ہے۔اس کےمختلف پہلو ہیں۔ یہاں چند مثالیں صرف موضوع کی وضاحت کےطورپردرج کی گئی ہیں۔ربّانی تعقّل کے موضوع پر راقم الحروف نے اپنی دوسری کتابوں میں اس کے دیگر پہلوؤں کی وضاحت کی کوشش کی ہے۔ وہاں اس موضوع کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion