نازک مسئلہ
خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان پر کچھ شورش پسند مسلمانوں نے قاتلانہ حملہ کیا اور 18 ذی الحجہ35ھ کو انہیں شہید کر ڈالا۔ اس وقت آپ کی عمر82 سال تھی۔ آپ کی مدت خلافت 12 سال ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ اس وقت حج کی ادائیگی کے بعد مکہ سے مدینہ کی طرف جا رہی تھیں۔ وہ مقام سرف تک پہونچی تھیں کہ حضرت عثمان کی شہادت کی خبر ملی اس کے بعد وہ راستہ ہی سے مکہ کی طرف واپس روانہ ہوگئیں مکہ پہونچیں تو ان کی آمد کی خبر سن کر لوگ آپ کی سواری کے گرد جمع ہوگئے۔ حضرت عائشہ نے مجمع کے سامنے ایک تقریر کی جس میں کہا کہ خدا کی قسم، عثمان مظلوم مارے گئے۔ خدا کی قسم، میں ان کے خون کا بدلہ لوں گی: قُتِلَ وَاللهِ عُثْمَانُ مَظْلُومًا، وَاللهِ لَأَطْلُبَنَّ بِدَمِهِ (تاريخ الطبري، جلد4، صفحہ459)۔
حضرت عائشہ اونٹ پر سوار ہو کر مکہ سے بصرہ کے لیے روانہ ہوئیں۔ مکہ اور اطراف مکہ میں منادی کر دی گئی کہ ام المومنین عائشہ بصرہ جا رہی ہیں۔ جو شخص اسلام کا حامی ہو اور خون عثمان کا بدلہ لینا چاہے، وہ قافلہ میں شریک ہو جائے۔
مکہ سے ڈیڑھ ہزار آدمیوں کا لشکر روانہ ہوا۔ باہر نکلے تو اطراف و جوانب سے لوگ جوق درجوق آ کر قافلہ میں شریک ہونے لگے۔ یہاں تک کہ جلد ہی اس لشکر کی تعداد تین ہزار ہوگئی۔
یہ لوگ چلتے ہوئے ایک مقام پر پہونچے جہاں ایک چشمہ تھا۔ حضرت عائشہ کے اونٹ کو دیکھ کر وہاں کتوں نے بھونکنا شروع کر دیا۔ حضرت عائشہ نے یہ منظر دیکھ کر چشمہ کا نام پوچھا۔ بتایا گیا کہ یہ موأب کا چشمہ ہے۔ یہ نام سنتے ہی حضرت عائشہ نے کہا کہ مجھ کو لوٹاؤ۔
لوگوں نے سبب دریافت کیا تو حضرت عائشہ نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی بیویاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں بھی وہاں موجود تھی آپ نے اپنی بیویوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ کاش مجھ کو معلوم ہوتاکہ تم میں سے کس کو دیکھ کر موأب کے کتے بھونکیں گے یہ کہہ کر حضرت عائشہ نے اونٹ کی گردن پر ہاتھ مارا۔ اونٹ وہیں بیٹھ گیا۔ اس کے بعد حضرت عائشہ ایک دن اور ایک رات وہیں مقیم رہیں۔ تمام لشکر بھی آپ کے ساتھ وہیں ٹھہرا رہا۔
اس کے بعد کچھ لوگوں نے منصوبہ بنا کر اچانک شور کر دیا کہ جلدی کرو، جلدی کرو علی تم تک پہنچ گئے۔ یہ سن کر تمام لشکر نہایت عجلت کے ساتھ بصرہ کی طرف روانہ ہوگیا۔ کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ کے اونٹ کو بھی تیزی سے اٹھا کر بھیڑ کے ساتھ روانہ کر دیا۔ حضرت عائشہ کے سوال پر انہیں بتایا گیا کہ کسی نے غلطی سے آپ کو اس چشمہ کا نام موأب بتا دیا تھا۔ درحقیقت یہ چشمہ وہ چشمہ نہیں ہے۔ اور نہ موأب کا چشمہ اس راستہ میں آتا ہے۔
یہ لوگ چلتے رہے، یہاں تک کہ وہ بصرہ کے قریب پہنچ گئے جہاں خلیفہ چہارم حضرت علی بن ابی طالب مقیم تھے۔ یہیں وہ جنگ پیش آئی جو اسلامی تاریخ میں جنگ جمل(36ھ) کے نام سے مشہور ہے۔ اس جنگ میں خود مسلمانوں کے دوگروہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف لڑے تھے۔ ایک گروہ کے قائد حضرت علی تھے جن کے ہاتھ پر حضرت عثمان کے بعد خلافت کی بیعت ہوئی تھی۔ دوسری طرف حضرت عائشہ تھی جو خون عثمان کا بدلہ لینے کے نام پر وہاں پہنچی تھیں، کیوں کہ انہیں یہ غلط فہمی ہوگئی تھی کہ حضرت علی خون عثمان کے معاملہ کو دبا رہے ہیں اور قاتلین عثمان سے انتقام لینے پر تیار نہیں۔ حضرت عائشہ اس وقت ایک اونٹ پر سوار تھیں، اس لیے اس جنگ کا نام جنگ جمل پڑ گیا۔
جنگ جمل کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مختصر یہ کہ بوقت مقابلہ حضرت عائشہ کی طرف سے لڑنے والوں کی تعداد تقریباً30 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ دوسری طرف حضرت علی کی فوج کی تعداد تقریباً20 ہزار تھی۔ حضرت عائشہ کے لشکر میں سے 9 ہزار آدمی میدان جنگ میں مار گئے۔ اور حضرت علی کی فوج میں سے ایک ہزار ستر آدمی کام آئے۔ گویا مجموعی طور پر تقریباً دس ہزار مسلمان خود مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے۔
اس واقعہ میں یہ سبق ہے کہ عوامی تحریک اٹھانا جتنا آسان ہے، اس کو کنٹرول کرنا اتنا آسان نہیں۔ خواہ اس کی قیادت ام المومنین جیسی مقدس ہستی کیوں نہ کر رہی ہو۔ جو لوگ جذباتی اشو پر پرجوش تقریریں کر کے بڑی بڑی تحریکیں اٹھاتے ہیں اور عوام کی بھیڑ اکٹھا کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ہمیشہ آغاز سے زیادہ انجام پر غور کریں۔
اس قسم کی عوامی تحریکوں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ابتدائی مر حلہ میں لیڈر نمبر1 پر ہوتا ہے، اور عوام نمبر2 پر۔ مگر جب جوش و جذبہ میں بھرے ہوئے عوام کی بھیڑ اکٹھا ہو چکی ہو تو اس کے بعد صورت حال یکسر بدل جاتی ہے۔ اب عوام کو نمبر1 کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے اور لیڈر نمبر2 کے مقام پر چلا جاتا ہے۔ اب تحریک کی رہنمائی کے لیے عملی طور پر صرف عوام کا جوش رہ جاتا ہے، نہ کہ رہنماؤں کا ہوش۔
ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ اس قسم کے عوامی کام کو بہت زیادہ سوچ سمجھ کر شروع کیا جائے۔ کیوں کہ اس قسم کے کام کو شروع کرنا ہمیشہ انتہائی آسان ہوتا ہے، مگر اس کو نیک انجام تک پہنچانا انتہائی حد تک مشکل ہے۔ حضرت عائشہ اگر حج کے بعد گھر(مدینہ) واپس جانے کا فیصلہ کرتیں تو یہ ان کے لیے بالکل سادہ اور آسان سی بات ہوتی۔ مگر موأب کے چشمہ پر جب کہ وہ بھیڑ کے درمیان تھیں تو یہی سادہ سی بات ان کے لیے ناممکن کے درجہ میں مشکل ہوگئی۔
حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہنگامی مواقع پر بیچ سے رائے بدلنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے کاموں میں بیچ سے رائے بدلنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص دریا کو چھلانگ کے ذریعہ پار کرنا چاہے، اور جب وہ اس کے درمیان میں پہونچے تو یہ فیصلہ کرے کہ مزید تیاری کے لیے اس کو پیچھے کی طرف لوٹ جانا چاہیے۔
