ٹکراؤ کے بغیر

ایک بار میں کشمیر گیا۔ ایک روز ہم لوگ شہر سے نکل کر باہر وادی کے علاقے میں گئے جہاں ایک طرف اونچے نیچے پہاڑ تھے اور دوسری طرف کھلی وادی۔ وہاں بڑی تعداد میں پانی کے چشمے بہہ رہے تھے۔ پہاڑ کے اوپر برف پگھلتی ہے تو اس کا پانی چشموں کی صورت میں بہہ کر میدان میں آتا ہے اور پھر بہتا ہوا جا کر دریا میں مل جاتا ہے۔

میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک چشمہ کی نالی کے کنارے بیٹھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ پانی جب بہتا ہوا آگے بڑھتا ہے تو اس کے راستے میں بار بار پتّھر کے ٹکڑے آتے ہیں۔ ایسے موقع پر پانی کیا کرتا ہے۔ وہ پتّھر کو ہٹانے یا توڑنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ دوشاخ ہو کر پتّھر کے دائیں اور بائیں سے گذرتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔

میں نے اس واقعے پر غور کیا تو اس میں ایک گہر اسبق چھپا ہوا تھا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھیے یہ بہتا ہوا پانی کس طرح اپنا راستہ نکال رہا ہے ۔ وہ رکاوٹوں سے لڑتا نہیں بلکہ رکاوٹوں کو اوائڈ کرتے ہوئے اپنا راستہ بنالیتا ہے۔ یہ فطرت کا پیغام ہے۔ فطرت ان بہتے ہوئے چشموں کے ذریعہ انسان کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ اگر تمہارے راستےمیں کوئی رکاوٹ آجائے تو اس سے ٹکرانے کی کوشش نہ کرو بلکہ اس کے بازو کی طرف سے اپنا راستہ بنالو۔

تمام دنیا کی سڑکوں پر یہی چشمہ والا اصول رائج ہے۔ ان سڑکوں پر ایک وقت میں بہت سی سواریاں گزرتی ہیں۔ ہر سواری یہ کرتی ہے کہ وہ دوسری سواریوں سے ٹکرائے بغیر دائیں یا بائیں مڑ کر اپناراستہ بنا لیتی ہے۔ اگر یہ سواریاں اس اصول کو نہ مانیں تو سڑک سڑک نہ رہے بلکہ وہ ایک وسیع قبرستان بن جائے۔

 چشمے کا یہ سبق میری زندگی کے لیے ایک انقلابی سبق تھا۔ اس نے مجھ کو زندگی کاراز بتا دیا۔ اس کے بعد میں نے اس طریقہ کو اپنی زندگی میں اپنالیا اور دوسروں کو بھی اسی کی نصیحت کرنے لگا۔

اس دنیا میں سماجی زندگی کی مثال ایک مصروف سڑک جیسی ہے ہر آدمی سڑک پر اپنی گاڑی دوڑاتے ہوئے اس نصیحت پر عمل کرتا ہے جس کا اعلان بہتے ہوئے چشمہ کے ذریعہ کیا جارہا ہے۔ اب اتنا اور کرنا ہے کہ اس طریقہ کو زندگی کے بقیہ معاملات میں بھی اختیار کرلیا جائے۔ کامیاب زندگی اور پر امن سماج بنانے کا یہی واحد طریقہ ہے۔

جب بھی کسی آدمی کے سامنے کوئی رکاوٹ آتی ہے، کوئی دوسرا انسان اس کو اپنے راستے میں حائل دکھائی دیتا ہے تو اس کے ذہن میں پہلا خیال یہ آتا ہے کہ اس رکاوٹ کو یا اس انسان کو اپنے راستے سے ہٹایا جائے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ جب تک سامنے کی یہ رکاوٹ دور نہ ہو اس کا سفر جاری ہونے والا نہیں۔

مگر یہ سوچ درست نہیں جس طرح بہتے ہوئے چشمے کے راستے میں ہزاروں پتھر ہوتے ہیں اسی طرح زندگی کے سفر میں بھی ہزاروں کی تعداد میں رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ اب اگر شرط یہ ہو کہ پہلے ان رکاوٹوں کو دور کرو، اس کے بعد سفر کا آغاز ہو گا، تو ایسی حالت میں سفر کبھی شروع ہونے والا ہی نہیں کیوں کہ ایک کے بعد ایک رکاوٹیں سامنے آئیں گی اور آدمی ہر رکاوٹ سے لڑتا رہے گا یہاں تک کہ اس کا آخری وقت آچکا ہو گا۔

ایسی حالت میں عملی صورت یہ ہے کہ رکاوٹوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا سفر جاری کیا جائے۔ آدمی جب اس نظر سے دیکھے گا تو اس کو معلوم ہو گا کہ رکاوٹوں کی ایک حد ہے۔ رکاوٹوں کے باوجود چاروں طرف کھلے ہوئے مقامات موجود ہیں۔ آدمی اگر اپنی نگاہ کو رکاوٹوں سے ہٹا کر ادھر ادھر دیکھے تو اپنے قریب ہی وہ ایسار استہ پالے گا جس سے گزر کر وہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو جائے۔

اس دنیا میں انسان کے لیے جو انتخاب ہے وہ بے ٹکراؤ کی زندگی اور ٹکراؤ کی زندگی میں نہیں ہے۔ بلکہ بے ٹکراؤ کی زندگی اور تباہی میں ہے۔ اب ہر انسان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ دونوں میں سے کس طریقہ کا انتخاب کرتا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion