فطرت سے مطابقت
قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے:كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۔ (2:249)
اس آیت میں’’اذن‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ عربی میں اس کے معنی اجازت ہیں۔ آیت بتاتی ہے کہ چھوٹا گروہ بھی بڑے گروہ پر غالب آ سکتا ہے، بشرطیکہ اس کو خدا کا اذن حاصل ہو جائے۔ یہ اذنِ خدا وندی کس کو ملتا ہے، اس کا جواب خود آیت کے اگلے حصےمیں موجود ہے۔ وہ جو اب یہ ہے کہ یہ اذن ان لوگوں کو ملتا ہے جو صبر کا ثبوت دیں۔
اس دنیا میں تمام واقعات فطرت کے قانون کے تحت پیش آتے ہیں۔ آدمی اگر اپنے حصے کی ذمہ داری کو انجام دیتا ر ہے، اور جلد بازی کا شکار نہ ہو تو فطرت کا عمل اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے اور اس کو کامیابی تک پہنچا دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ صبر نہ کرے اور نتیجہ کو جلد دیکھنے کے لیے قبل از وقت کوئی کارروائی کر بیٹھے تو گویا اس نے خود اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ناکام بنا لیا۔
ایک مثال اس معاملے کو بہت اچھی طرح واضح کرتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر کے اندر ایک درخت لگانا چاہتا تھا۔ اگر وہ بیج کو زمین میں ڈال کر دس سال تک انتظار کرتا تو وہ اپنے گھر میں ایک ہرا بھرا درخت دیکھنے کی خوشی حاصل کر سکتا تھا۔ مگر اس نے دس سال کا سفر ایک دن میں طے کرنا چاہا۔ چنانچہ اس نے باہر سے ایک بڑا درخت کھدوایا اور اس کو لا کر اپنے گھر میں جما دیا۔
چند دن کے بعد اس کا درخت سوکھ گیا۔ وہ اپنے گھر میں اداس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں اس کا ایک دوست اس سے ملنے کے لیے آیا۔ دوست نے اپنے ساتھی کو اداس دیکھ کر پوچھا کہ کیا بات ہے، آج تم اداس دکھائی دے رہے ہو۔ آدمی نے جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ میں جلدی میں ہوں مگر خدا جلدی نہیں چاہتا:
‘‘I am in hurry, but God isn't.’’
درخت کے لیے خدا کا اذن یہ ہے کہ پہلے ایک زرخیز زمین فراہم کی جائے۔ اس کو تیار کرکے اس میں بیج ڈالاجائے۔ پھر نشوونما کی مقررہ مدت تک اس کا انتظار کیا جائے۔ (الاعراف،7:58) اس اذن خداوندی سے موافقت کے بغیر کوئی شخص درخت کا مالک نہیں بن سکتا۔ مذکورہ شخص کی غلطی یہ تھی کہ اس نے درخت کے معاملے میں خدا کے اذن کا لحاظ نہ کیا، اس لیے وہ درخت بھی حاصل نہ کر سکا۔
اسی طرح زندگی کے معاملے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے صبر کا اصول مقرر کیا ہے۔ آدمی اگر چاہتا ہے کہ وہ حقیقی کامیابی حاصل کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے دائرے اور امکان کے اعتبار سے اپنے عمل کا آغاز کرے اور بحیثیت انسان کے اس کی جو ذمہ داریاں ہیں، ان کو ادا کرنے میں لگ جائے۔ جب وہ ایسا کرے گا تو اس کے فوراً بعد فطرت کے اسباب بھی اس کے حق میں جمع ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اب اگر اس نے اسباب فطرت کی تکمیل سے پہلے کوئی اقدام کر دیا تو وہ ناکام رہے گا، اور اگر اس نے اس وقت تک انتظار کیا جب کہ فطرت کے اسباب اس کے حق میں جمع ہو جائیں تو وہ کامیاب رہے گا۔
یہی وہ بات ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن میں اس طرح کہی گئی ہے کہ(اپنے دعوتی عمل کو جاری رکھتے ہوئے تم نتیجے کے بارے میں) صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی نہ کرو۔فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ۔ (46:35)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی ایک مثال مکی دور اور مدنی دور کا معاملہ ہے۔ مکی دور میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا تھا۔ اور ان کو ستایا جارہا تھا۔ مگر مسلمانوں کے مطالبے کے باوجود انہیں ظالموں کے مقابلے میں دفاع کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہیں یہ حکم دیا گیا کہ تم یک طرفہ صبر کرتے رہو۔ (یونس،10:109) البتہ مدینہ پہنچنے کے بعد انہیں اجازت دے دی گئی کہ وہ ظالموں کے مقابلے میں دفاع کر سکتے ہیں۔ (الحج،22:39)
اس کی وجہ یہ تھی کہ مکہ میں ابھی عملِ دعوت اس تکمیلی حد کو نہیں پہنچا تھا جس کو اتمام حجت کہا جاتا ہے۔ اس بنا پر ایسا نہیں ہوا تھا کہ مخالف گروہ کے تمام صالح افراد کٹ کر نکل آئیں اور اس کے غیر صالح عناصر اپنے انکار پر مصر رہنے کی بنا پر خدا کی پکڑ کے مستحق بن جائیں۔ جب یہ دعوتی حد آخری طور پر پوری ہوگئی اور اتمام حجت کے باوجود انکار کے نتیجے میں اہل کفر خدا کی پکڑ کے مستحق قرار پا گئے، اس وقت ان سے ٹکرانے کی اجازت دےدی گئی۔
اس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو ہندستان میں صوفیوں اور لیڈروں کے تقابل سے سامنے آتی ہے۔ ہندستان کے مسلم معاشرے میں،1947سے پہلے، صوفیوں کا غلبہ تھا، 1947 کے بعد یہاں کے مسلم معاشرہ پر لیڈروں کا غلبہ ہے۔ دونوں زمانوں کا مطالعہ کیجیے تو ان میں ایک بے حد نمایاں فرق نظر آئے گا۔ پچھلے دور میں لاکھوں کی تعداد میں ہندوؤں نے اسلام قبول کیا۔ موجودہ دور میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ اشاعت اسلام کا عمل جو پچھلے دور میں پورے تسلسل کے ساتھ جاری تھا، وہ اب ہر طرف رکا ہوا نظر آتا ہے۔
اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ موجودہ لیڈر اسلام کی تبلیغ نہیں کرتے، اور صوفیاء اسلام کی تبلیغ کرتے تھے۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ صوفیاء نے یہاں تبلیغ کا باقاعدہ عمل کیا ہو۔ صوفیاء کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے فطرت کو اپنا کام کرنے کا موقع دیا، جب کہ موجودہ لیڈر فطرت کو اپنا کام کرنے کا موقع نہیں دے رہے ہیں۔
صوفیاء کا دین محبت تھا۔ ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ مختلف فرقوں کے درمیان اچھے تعلقات قائم کریں۔ اس طرح وہ انسان کو موقع دیتے تھے کہ وہ اپنے فطری راستے پر بے روک ٹوک آگے بڑھ سکے۔ اب چونکہ اسلام اور انسانی فطرت دونوں ایک ہیں، اس لیے فطرت کا سفر ہمیشہ اسلام کی منزل پر ختم ہوتا تھا۔ لوگ اپنے آپ اسلام کی طرف راغب ہوتے اور پھر صوفیاء کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیتے۔ اس طرح کسی براہ راست تبلیغ کے بغیر اسلام فطرت کے زور پر اپنے آپ پھیلتا جا رہا تھا۔
موجودہ مسلم لیڈروں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ نفرت اور رقابت کے دین پر کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکومت(یا ہندو) کے خلاف کچھ نزاعی ا شو اٹھا رکھے ہیں اور ان کے نام پر منفی دھوم مچاتے رہتے ہیں۔ ان کی یہ سرگرمیاں دونوں فرقوں میں نفرت اور تعصب کی آگ بھڑکا کر دونوں کو ایک دوسرے سے دور کر رہی ہیں۔ یہی نفرت اور تعصب کا ماحول ہے جس نے موجودہ زمانے میں فطرت کو اپنا عمل کرنے سے روک دیا ہے۔ اسلام کا سیلاب جو صوفیاء کے زمانے میں روانی کے ساتھ جاری تھا، وہ موجودہ ہندستان میں ہر طرف رکا ہوا نظر آتا ہے۔
