جلدی میں دیر
ونسٹن چرچل (1965-1874) مشہور انگریز مد بر تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے وقت وہ برطانیہ کے وزیر اعظم تھے ۔ جب کہ برطانیہ کی سلطنت آج سے بہت زیادہ بڑی تھی۔ انھوں نے اپنے ملک کی زبر دست خدمات انجام دی ہیں۔ چرچل کا ایک قول یہ ہے:
تم جتنی جلدی کروگے اتنی ہی زیادہ دیر لگے گی
یہ زندگی کی بڑی گہری حقیقت ہے ۔ آپ ایک مکان کی تیسری منزل پر ہیں اور آپ کو کسی ضرورت کے تحت فوراً نیچے اتر نا ہے۔ تاہم آپ کو کتنی ہی جلدی ہو، آپ کو بہر حال سیڑھیوں کے ذریعہ اترنا ہو گا۔ اگر جلدی کی خاطر آپ ایسا کریں کہ تیسری منزل سے زمین کی طرف کو دیں تو یقیناً آپ بہت جلد نیچے پہنچ جائیں گے ۔ مگر یہ جلدی عملاً بہت زیادہ دیر بن جائے گی۔ کیوں کہ آپ کا ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائے گا اور آپ نیچے اتر کر اپنی منزل کی طرف جانے کے بجائے ہسپتال لے جائے جائیں گے اور وہاں مہینوں تک علاج کے بستر پر پڑے رہیں گے۔
ایک شخص اپنے گھر کے آنگن میں آم کا درخت دیکھنا چاہتا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر میں آم کا چھوٹا پودا لگاؤں تو اس کو بڑھنے میں کم از کم دس سال لگ جائیں گے ۔ اس کے باغ میں آم کا ایک پانچ سال کا درخت تھا۔ اس نے منصو بہ بنا یا کہ اس درخت کو کھود کر نکالے اور اس کو لا کر گھر کے آنگن میں لگائے ۔ وہ خوش تھا کہ اس طرح پانچ سال کا سفر ایک دن میں طے ہو جائے گا اور چند ہی سال کے بعد گھر کے اندر آم کا ایک پورا درخت کھڑا ہوا نظر آئے گا۔ اس نے پانچ سالہ درخت کی کھدائی کے لیے مزدور لگا دیے۔ کئی آدمیوں نے گھنٹوں کی محنت کے بعد اس کو کھودا اور پھر ایک بڑی چارپائی پر رکھ کر اس کو گھر کے اندر لے آئے ۔ درخت آنگن میں لگا دیا گیا۔ مگر اگلے ہی دن اس کے پتے مرجھاگئے۔ اور چند ہفتوں کے بعد آدمی کے آنگن میں شاداب درخت کی جگہ صرف سوکھی لکڑی کا ایک ٹھنٹھ کھڑا ہوا تھا۔
ایک آدمی پیسہ کمانا چاہتا تھا۔ اس نے کرا کری کی دکان کھولی۔ سال بھر اس میں بیٹھا۔ جب اس نے دیکھا کہ دکان زیادہ نہیں چل رہی ہے تو اس نے طے کیا کہ کسی اور چیز کی دکان کھولے ۔ اب اس نے بساطہ کا کام شروع کیا۔ ایک سال کے بعد اس کو محسوس ہوا کہ اس میں بھی زیادہ فائدہ نہیں ہے۔ اب اس نے اسٹیشنری کا کام شروع کر دیا۔ ایک سال میں اس سے بھی جی بھر گیا اور اس نے جو تہ کی دکان کرلی ۔ اس طرح وہ بار بار اپنی لائن بدلتا رہا اور بالآخر ما یوس اور ناکام ہو کر بیٹھ گیا ۔ اس آدمی کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس راز کو نہ سمجھ سکا کہ کسی کام میں کامیابی کے لیے وقت درکار ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ادھر دکان کھولی اور ادھر وہ شان دار طریقے سے چلنے لگی ۔ آدمی نے کئی کاموں میں جتنا وقت لگا یا وہی وقت اگر وہ ایک کام میں لگا تا تویقیناً وہ کامیاب ہو جاتا۔ اس نے ’’جلدی‘‘ چاہی اس لیے اس کو دیر ہوتی چلی گئی۔ اگر وہ جلدی نہ کرتا تو اس سے کم وقت میں وہ کامیاب ہو جاتا جتنا وقت اس نے بار بار کے ناکام تجربوں میں ضائع کر دیا۔
کسی بھی میدان میں کامیابی کے لیے ایک لازمی شرط استقلال ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ تمام پہلوؤں کے بارے میں اچھی طرح سوچ کر اپنا راستہ متعین کرے۔ اس معاملہ میں لوگوں سے مشورہ بھی کرے تاکہ اپنے فیصلہ پر اس کو پورا یقین حاصل ہو سکے ۔ زندگی میں اس طرح کا فیصلہ ایک بار کیا جاتا ہے ، بار بار نہیں۔
آدمی جب ایک بار فیصلہ کر لے تو اس کے بعد اس کو اپنے فیصلہ پر جم جا نا چاہیے ۔ اس کے بعد اگر کوئی بات سامنے آتی ہے جو اس کے فیصلہ میں تذبذب پیدا کرنے والی ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ ایسی بات کے خلاف لڑ کر اس کو اپنے دماغ سے نکال دے اور اسی ایک فیصلہ پر قائم رہے جو اس نے سوچ سمجھ کر اپنے لیے طے کیا تھا۔
ایسے ہی لوگ اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ بار بار اپنا راستہ بدلتے رہیں وہ اس دنیا میں کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔
______________________________________________________
نوٹ:یہ مضامین 28-26دسمبر 1979 کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کیے گئے۔
