دوسرے کا اعتراف
مولانا اقبال احمد سہیل غیر معمولی ذہین اور طباع آدمی تھے ۔ وہ اعظم گڑھ میں رہتے تھے۔ ان کے گھر پر چھوٹے بچوں کی تعلیم کے لیے ایک ماسٹر صاحب ، مقرر تھے ۔ وہ رات دن مولانا سہیل کے گھر پر رہتے تھے۔ اور بچوں کو اردو اور انگریزی وغیرہ پڑھاتے تھے ۔
ماسٹر صاحب کا کھانا مولانا سہیل کے گھر سے آتا تھا۔ صبح کے ناشتہ میں بعض مرتبہ ایسا ہوا کہ گھر سے ان کے لیے سالن کے ساتھ باسی روٹی آئی ۔ ماسٹر صاحب نے لڑکوں سے کہا کہ باسی روٹی مت لایا کرو۔ باسی روٹی کھانے سے دماغ کمزور ہو جاتا ہے ۔ لڑکوں نے گھر میں آکر اپنی والدہ (اہلیہ مولانا اقبال احمد سہیل)سے یہ بات کہی ۔ اس کے ساتھ لڑکوں نے یہ بھی کہا کہ ابا تو باسی روٹی بہت کھاتے ہیں مگر ان کے دماغ میں کمزوری نہیں آئی ۔ اہلیہ نے جواب دیا :
تمہارے ابا کا دماغ بہت بڑا ہے۔ اس میں کچھ کمی آجائے تب بھی فرق نہیں پڑتا۔ ماسٹر صاحب کا دماغ چھوٹا ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ اگر کم ہوا تو ختم ہی ہو جائے گا۔
ایسا ہی کچھ معاملہ دوسرے کے اعتراف کا ہے۔ اکثر لوگ دوسرے کی لیاقت کا اعتراف نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ڈرتے ہیں کہ دوسرے کی اہمیت کا اقرار کرنے سے اپنی حیثیت گھٹ جائے گی۔
دوسرے کا اعتراف کرنے کے لیے اپنے کو چھوٹا کرنا پڑتا ہے۔ اور کون ہے جو اپنے کو چھوٹا کرنے کی قیمت پر دوسرے کی حیثیت کا اعتراف کرے ۔ صرف دو قسم کے لوگ ہیں جو اپنے کو ’’ چھوٹا کرنے پر راضی ہوتے ہیں۔ یا تو وہ لوگ جو اتنے اونچے ہوں کہ کسی کی بڑائی کا اعتراف کرنے سے انھیں یہ ڈر نہ ہو کہ ان کی شخصیت میں کمی آجائےگی ۔ دوسرے وہ لوگ اس کی ہمت کرتے ہیں جنھیں اللہ کی عظمت کے احساس نے پہلے ہی سے اتنا چھوٹا بنا رکھا ہو کہ اب کسی چیز سے انھیں مزید چھوٹا ہونے کا خطرہ نہ رہے۔
