جب کرتب بازی کو کمال سمجھا جانے لگے

کہا جاتا ہے کہ خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں ایک شخص آیا اور کہا کہ اگر اجازت ہو تو میں اپنا ایک کرتب دکھاؤں۔ ہارون رشید نے اجازت دے دی۔ آدمی نے اس کے بعد اپنی جھولی سے بارہ بڑی بڑی سوئیاں نکالیں۔ اس نے ایک سوئی کو ہاتھ میں لے کر پھینکا تو وہ ایک فاصلہ پر جا کر کھڑی صورت میں زمین پر گڑ گئی۔ اب اس نے دوسری سوئی پھینکی تو وہ پہلی سوئی کے سوراخ میں جا کر اٹک گئی۔ پھر اس نے تیسری سوئی پھینکی تو وہ دوسری سوئی کے سوراخ میں پیوست ہوگئی۔ اسی طرح وہ ایک ایک سوئی پھینکتا گیا اور ہر سوئی اپنے سے پہلے والی سوئی کے سوراخ میں داخل ہوتی چلی گئی، اور بالآخر بارہ سوئیوں کا ایک جال بن گیا۔ ہارون رشید حیرت کے ساتھ یہ تماشا دیکھتا رہا۔ آخر میں اس نے دس درہم ہاتھ میں لے کر آدمی کی طرف پھینکے اور کہا:خُذْهَا، أُفٍّ لَكَ (اس کو لے، تجھ پر افسوس ہے)۔ کاش تونے کسی مفید کام میں یہ مہارت پیدا کی ہوتی۔

جب مسلمان زندہ تھے تو ان کو معلوم تھا کر تب بازی میں اور ایک حقیقی کام میں کیا فرق ہے۔ مگر آج انہیں مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ وہ اس فرق سے بے خبر ہو کر کرتب بازی پر وہ داد دے رہے ہیں، جو صرف حقیقی عمل پر دی جانی چاہیے۔ قافیہ میں  قافیہ ملانے والے شاعر، الفاظ کا گلدستہ بنانے والے مقرر، سیاسی شوشوں سے قوم کا مستقبل برآمد کرنے والے قائد، سب اسی قسم کے کرتب باز ہیں، جیسے ہارون رشید کے زمانہ کا مذکورہ شخص۔ مگر ہارون رشید نے اپنے زمانہ کے کرتب باز سے کہا تھا کہ تیرا برا ہو۔ جب کہ آج کے کرتب بازوں کو شان دار خطابات مل رہے ہیں، اور ہر طرف ان کے استقبالیہ جلسوں کی دھوم مچیہوئی ہے۔ موجودہ زمانہ کے کرتب بازوں کی فہرست میں سب سے آگے وہ انقلابی قائدین ہیں، جو تقریروں کے ذریعہ ہر روز شان دار محل کھڑے کرتے رہتے ہیں۔ ہارون کے زمانہ کے آدمی نے اگر سوئیوں کا کھیل دکھایا تھا تو یہ لفظوں کے کھیل دکھا رہے ہیں۔ ایک قائد ایک’’عظیم اسلامی اجتماع‘‘ میں تقریر کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی پرجوش تقریر کو اس جملہ پر ختم کیا— ’’مسلم نوجوانوں کو میرا پیغام ہے کہ کفر کے چراغ کو جہاں پاؤ بجھا دو‘‘۔

 اس قسم کی مجاہدانہ تقریریں آج ساری مسلم دنیا میں گونج رہی ہیں۔ انہوں نے مسلم نوجوانوں کو انتہائی جذباتی بنا دیا ہے، مگر’’کافر اقوام‘‘ پر ان کا بس نہیں چلتا۔ کیوں کہ ان قوموں نے طاقت کے تمام اسباب جمع کر کے اپنے کو انتہائی طاقت ور بنا لیا ہے اور مسلمان ان کے مقابلہ میں ہر لحاظ سے بے حد پیچھے ہیں۔ تاہم لوگوں کے بڑھے ہوئے جوشِ جہاد کو کوئی نشانہ درکار تھا۔ چنانچہ اب ہر ایک نے خود اپنے مسلم بھائیوں میں ’’کفر کے چراغ‘‘ دریافت کر لیے ہیں، اور ہر ایک ان کو بجھانے میں مشغول ہے۔ کہیں یہ جہاد گولیوں کی بوچھار کے ذریعہ جاری ہے۔ اور جہاں اس کے مواقع نہیں ہیں، وہاں اس سے کمتر کسی کارروائی کی صورت میں کفر کا چراغ بجھانے کا نعرہ عملاً اسلام کا چراغ بجھانے کے ہم معنی بن گیا ہے۔ کہیں فوجیں خود اپنے ملک پر چڑھائی کر کے فتح کے جھنڈے لہرا رہی ہیں۔ کہیں قائدین خود اپنے مسلمان سیاسی حریفوں کو قتل کر کے مجاہد کا لقب لے رہے ہیں۔ کہیں کوئی جماعت خود اپنے بھائی کو جارحانہ کارروائیوں کا نشانہ بنا کر باطل کو مٹانے کا کارنامہ انجام دے رہی ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion