اسلام کے نام پر اسلام کا قتل

پورواکارتا(انڈونیشیا) کے مسلم اسکول میں طالب علموں نے ایک تصویری پوسٹ کارڈ چھپوایا۔ اس میں ایران کے مذہبی قائد آیت اللہ خمینی کی تصویر تھی۔ پوسٹ کارڈ کی تقسیم سے پہلے حکومت کو اس کی خبر ہوگئی اور انڈونیشی پولیس نے تمام پوسٹ کارڈ ضبط کر لیے (ٹائمس آف انڈیا21 فروری1979ء)۔ اس قسم کی خبریں دوسرے مسلم ملکوں سے بھی مل رہی ہیں۔ مسلم حکمراں خومینی کے زیر اثر قائم شدہ ایرانی اسلامی حکومت کو اگرچہ سرکاری طور پر مبارک باد کے تار بھیج رہے ہیں مگر خود اپنے ملک میں ’’خمینی افکار‘‘ کی درآمد کو وہ سخت ناپسند کرتے ہیں۔ اس طرح یہ بظاہر کامیاب اسلامی تحریک عملاً الٹا اثر پیدا کر رہی ہے۔ وہ اسلام کی کامیابی کے نعروں کے جلو میں اسلام کے لیے کام کرنے کے مواقع کو برباد کر رہی ہے۔

 پاکستان، ایران اور بعض دوسرے ملکوں میں مسلم رہنماؤں نے اپنے سیاسی عزائم کے لیے ’’اسلامی حکومت‘‘ کے لفظ کو ایک کامیاب عوامی نعرہ پایا ہے۔ مگر اسلام کو سیاسی نعرہ بنانا اسلام کو اسلام کے نام پر قتل کرنا ہے۔ موجودہ حالات میں کوئی بھی مسلم ملک اپنے معاشرتی حالات کے اعتبار سے اس قابل نہیں کہ وہ اسلامی حکومت کے قیام کی زمین بن سکے ۔ مزید یہ کہ جو لیڈر اس قسم کی تحریک چلا رہے ہیں وہ خود بھی اسلامی قیادت کے اوصاف سے بالکل خالی ہیں۔ ایسی حالت میں اسلامی حکومت کا نعرہ صرف تخریبی کارروائیوں کے لیے ایک کامیاب ہتھیار بن سکتا ہے، وہ کسی بھی درجہ میں کوئی تعمیری نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔ اس قسم کی تحریکوں کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ اسلام کا لفظ مسلم حکمرانوں کے لیے اسی طرح سیاسی خطرہ کے ہم معنی بنتا جا رہا ہے جس طرح مثال کے طور پر، کمیونزم کا لفظ امریکی حکمرانوں کے لیے بنا ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مسلم ملکوں میں اسلام کے نام پر کوئی دیر پا کام کرنا دن بدن مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

 موجودہ زمانے کے مسلم قائدین اگرچہ اسلام کے نعرہ پر اٹھے ہیں مگر وہ جس زمین پر کھڑے ہوئے ہیں وہ سیاسی اور معاشی بے چینی کی زمین ہے، نہ کہ حقیقتاً اسلام کی طلب کی زمین۔ آزادی اور جمہوریت اور سوشلزم کے علم بردار جس عوامی بے چینی کو استعمال کر کے اپنی سیاسی تحریکیں چلا رہے ہیں، اسی بے چینی کو مسلم قائدین اسلام کے نام پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ اس قسم کی تحریکوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مفروضہ غیر اسلامی حکومت کو اکھاڑنے کے بعد جب مطلوبہ اسلامی حکومت بنانے کا سوال ہوتا ہے تو قائدین اور ان کا ساتھ دینے والی بھیڑ دونوں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں جو مادی سیاسی تحریکیں اٹھیں انہوں نے ہر ملک میں ’’عوام دشمن‘‘ حکومتوں کو اکھاڑ پھینکا مگر وہ حقیقی عوامی حکومت قائم نہ کر سکیں۔ یہی انجام اسلامی تحریکوں کے لیے بھی مقدر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی تحریک صالح دینی نظام قائم کر سکتی ہے جو دینی محرکات کے تحت اٹھی ہو۔ سیاسی اور معاشی بے چینی کی زمین سے ابھرنے والی تحریکیں صرف نیا فساد برپا کریں گی۔ وہ ہر گز کوئی صالح نتیجہ پیدا نہیں کر سکتیں۔ منفی بنیادوں پر جو اتحاد پیدا ہو وہ ہمیشہ انتشار پر ختم ہوتا ہے اور مخالفانہ قسم کا سیاسی شور و شربالآخر بدترین بے عملی پر۔ ایران کے واقعات میں جن لوگوں کو اسلام کا سورج ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے، بہت جلد وہ دیکھ لیں گے کہ ان کی یہ رائے سطحی خوشی فہمی کے سوا اور کچھ نہ تھی (22 فروری 1979ء)۔

موجودہ زمانہ میں بعض مسلم حکمرانوں نے اپنی حکومت کے استحکام کی یہ آسان تدبیر دریافت کی ہے کہ اسلام کے نام پر کوڑے مارو اور خوفناک سزائیں جاری کرو، تاکہ عوام اور انقلاب پسند عناصر سہم جائیں اور ان کی آمریت کے خلا ف اٹھنے کی ہمت نہ کریں۔ قدیم زمانہ میں بادشاہوں کو ایسے علما مل جاتے تھے جو ان کی ہوس ناکی کے منصوبوں کے لیے شرعی سند عطا کرتے رہیں۔ اسی طرح موجودہ زمانہ کے ان حکمرانوں کی خوش قسمتی سے ان کو ایسے افراد اور ادارے مل گئے ہیں جو ان کے تاریک منصوبوں کے حق میں یہ فتوی دے سکیں کہ یہی اسلام کا اصل مطلوب ہے، صرف اس قیمت میں کہ ان کو کچھ نذرانے اور اعزازی عہدے حاصل ہو جائیں۔

 مگر اسلام کوڑے مارنے اور ہولناک سزائیں جاری کرنے کا نام نہیں۔ اس قسم کی حدود اور تعزیرات اسلام کے پورے بامعنی وجود سے بس اتنی ہی نسبت رکھتے ہیں جیسے ایک زندہ انسان کا اپنے بڑھے ہوئے ناخن کو کاٹنا۔ اسلام خدا کی رحمتوں کا دین ہے۔ وہ جنتی فضاؤں کا دنیوی ظہور ہے۔ وہ موت کے بعد آنے والی دنیا کا موت سے پہلے والی دنیا میں مظاہرہ ہے۔ یہ جنت کے شہریوں کا دنیا میں اتر آنا ہے۔ وہ ملکوتی اوصاف جو کسی بندہ خدا کو جنت کی ناقابل بیان خوشیوں کا مستحق بناتے ہیں، جب ایسے اوصاف کے لوگ اقتدار کے مناصب پر قبضہ پالیں تو اسی کا دوسرا نام اسلامی نظام ہے۔ اسلامی نظام وہ لوگ قائم کرتے ہیں جو آسمانوں والے خدا کو زمین پر کھڑا ہوا دیکھتے ہوں۔ جو اپنے آپ کو خدائی منصوبہ میں اس حد تک گم کر چکے ہوں کہ اپنی ذات کے منصوبے ان کے لیے باقی نہ رہیں۔ اسلامی نظام برپا کرنے والے وہ ہیں جو دوسرے کے درد پر تڑپتے ہوں۔ جو دوسرے کی تکلیف کو ا پنی تکلیف سمجھتے ہوں۔ جن کا حال یہ ہو کہ ذمہ داریوں کا احساس ان سے زندگی کی خوشیاں چھین لے۔ اللہ کے سامنے جواب دہی کا فکر ان کے لیے اقتدار کی کرسی کو کانٹوں کی کرسی بنا دے۔ جو حکومتی مواقع کے ملنے پر آنسو بہانے والے ہوں ، نہ کہ قہقہہ بلند کرنے والے۔

زمین کے اوپر جب ایک درخت کھڑا ہوتا ہے اور اپنی سرسبز ٹہنیوں میں پھول اور پھل لگاتا ہے تو یہ ایک پیچیدہ ترین کائناتی منصوبہ کی تکمیل ہوتی ہے۔ اسی طرح اسلامی نظام گویا انسانی سماج میں خدا کا شرعی پھول اور پھل اگانا ہے۔ یہ ایک انتہائی لطیف اور انتہائی مشکل منصوبہ ہے۔ جس طرح ایک درخت طویل مدت تک خاموش عمل میں مصروف رہنے کے بعد اس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے ہریالے تنہ کے اوپر رنگ اور مزہ اور خوشبو کا وہ فرحت بخش مجموعہ ظہور میں لائے جس کو پھول اور پھل کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اسلامی نظام کا قیام بھی ایک بے حد سنجیدہ اور بے حد طویل منصوبہ ہے۔ یہ نہایت گہری جدوجہد کا طالب ہے۔ کچھ زندگیاں درخت کے بیج کی مانند اپنے آپ کو عظیم مقصد کی خاطر قربان کر دیتی ہیں۔ کچھ روحیں عالم حقائق میں گم ہو کر خدا کے چھپے ہوئے خزانوں کو اجتماعی سطح پر بکھرتی ہیں تو اس کے بعد وہ واقعہ رونما ہوتا ہے جس کو اسلامی نظام کہا جاتا ہے کچھ لوگ جو جیتے جی اپنے آپ کو آخرت میں پہنچا چکے ہوں جب وہ آخرت کی ابدی تجلیوں کو دنیا میں اتارتے ہیں تو اسی انعکاس نور کا نام اسلامی نظام ہوتا ہے۔ اسلامی نظام خدا کی اخروی نعمتوں کا زمینی ظہور ہے۔ جو لوگ اپنی جاہ طلبی کے تماشوں کو اسلامی نظام کا نام دیتے ہیں، ایسے لوگ اسلامی نظام قائم کرنے کا کریڈٹ تو کیا پائیں گے، البتہ یہ اندیشہ ہے کہ خدا کے یہاں وہ دھوکہ بازی کے مجرم قرار دیے جائیں۔ کیوں کہ انہوں نے اپنے ٹھنٹھ کو خدا کا سرسبزوشاداب درخت کہنے کی جسارت کی تھی (4 اپریل 1979ء)۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion