عورت کی حاکمیت
1964 میں ہالی وڈ( امر یکہ ) نے ایک فلم بنا ئی تھی جس کا نام تھا:
"Kisses for My President"
اس فلم میں دکھا یا گیا تھا کہ ایک شادی شدہ امریکی خاتون امریکا کی صدر منتخب ہوگئی ہے۔ مگر اس کے جلد ہی بعد وہ حاملہ ہوجاتی ہے۔ حاملہ ہونے کے مسائل سے وہ اتنا پریشان ہوتی ہے کہ وہ صدارتی آفس چھوڑ کر گھر چلی جاتی ہے، اور بالآ خر صدارت کے عہد ہ سے استعفا دے دیتی ہے۔
جدید مغربی دنیا میں ابھی تک اس کو ایک غیر سنجیدہ چیز سمجھا جاتا رہا ہے کہ کسی عورت کو اعلیٰ حکومتی عہدہ دیا جائے۔ 1972 کے ایک پول میں امریکا کے ووٹروں کی اکثریت نے کہا تھا کہ خاتون صدر کے مقابلہ میں انھیں ایک سیاہ فام مرد صدر زیادہ قابل قبول ہے۔ ایک شخص نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ خاتون صدر جب اسپتال میں اپنا بچہ جنے گی تو اسپتال کے بلیٹن میں اعلان کیا جائے گا کہ صدر اور نومولود بچہ دونوں بخیر یت ہیں:
‘‘The President and baby are doing well." (p.34)
اصولی معیار کے اعتبار سے ، ووٹر یہ چاہیں گے كه عورت امیدوار میں بھی وہی خصوصیات ہوں جو مرد امیدوار میں ہوتی ہیں۔ استعداد ، حوصلہ ، تجربہ، استحکام ، ذہانت۔ مگر عورت امیدوار کے معاملہ میں ووٹر کی نفسیات نہایت نازک ہوجاتی ہے۔ انھیں ابھی تک یقین نہیں کہ عورت کے اندر بھی اس قسم کی مردانہ صفات ہوسکتی ہیں۔
متعدد سائنس داں خالص سائنسی بنیاد پر عورت کو اعلیٰ حکومتی عہدہ دینے کے خلاف ہیں۔ مثلاً سرجن ایڈ گر برمن آزادیِ نسواں کی حامی خواتین کی نظر میں اس وقت معتوب ہوگئے جب کہ انھوں نے یہ کہا کہ اپنی ہارمون کیمسٹری کی وجہ سے عورتیں زیادہ جذباتی ہوسکتی ہیں اور اس بنا پر وہ اقتدار کے منصب کے لیے غیر موزوں ہوسکتی ہیں:
Surgeon Edgar Berman earned a low place in the bestiary of Women’s Liberation two years ago when he suggested that because of their hormonal chemistry women might be too emotional for positions of power.
(Time, March 20, 1972, p. 34)
1987میں امر یکہ میں خاص اس مسئلہ پر لوگوں کی رائے معلوم کی گئی۔ معلوم ہوا کہ امریکی ووٹر وں کی تقریباً ایک تہائی تعداد خیال کرتی ہے کہ امریکا کا صدر بننے کے لیے عورت کے مقابلہ میں مرد زیادہ موزوں ہیں۔ یہ بات ایک عوامی رائے شماری کے ذریعہ معلوم ہوئی ہے، جس کا اِہتمام حقوقِ نسواں کی ایک تنظیم کی فرمائش پر کیا گیا تھا۔ مطالعہ کا یہ نتیجہ جو ایک انجمن خواتین کی طرف سے شائع کیا گیا ہے، بتایا ہے کہ رائے دینے والوں میں صرف آٹھ فی صد تعداد ایسی تھی، جس کا خیال تھا کہ وہائٹ ہاؤس کے عہدہ کے لیے عورت زیادہ بہتر ہوسکتی ہے۔
49 فی صد نے کہا کہ دونوں جنسوں میں کوئی پیدائشی فرق نہیں ہے۔ اور 31 فیصد نے یہ خیا ل ظاہر کیا کہ مرد صدر بننے کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ اس رائے شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورتیں بعض دوسر ے سماجی معاملات کے لیے زیادہ لائق ہوسکتی ہیں۔ مثلاً افلاس، صحت ، تعلیم ، منشیات اور شہری حقوق :
NAY TO WOMEN: Nearly one third of American voters believed men to be better suited than women to be president of the U.S., according to a poll conducted for a women's rights group, Reuter reports from Washington. The study released by the National Women’s Political Caucus (NWPC) said only eight percent of those polled believed a woman could do better than a man in the White House. 40 percent said there was no inherent difference between the sexes, and 31 percent believed men made better presidents. The poll, conducted by the Washington-based Hickman-Maslin political research firm, showed that women were credited with being more capable of dealing with social issues, such as poverty, health care, education, drug abuse, and civil rights.
(The Times of India, New Delhi, August 14, 1987)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایران کا بادشاہ کِسریٰ مر گیا تو اس کے درباریوں نے کِسریٰ کی لڑکی کو ایران کا بادشاہ بنا دیا۔ یہ خبر آپ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پائے گی جو عورت کو اپنا حاکم بنائے(لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً)صحيح البخاری،حديث نمبر4425۔
دور جدید کی مذکورہ تحقیق اسلام کے اصول کی تصد یق ہے۔ اسلا م میں چودہ سو سال پہلے یہ کہا گیا تھا کہ عورت اقتدار اعلیٰ کے منصب کے لیے غیر موزوں ہے۔ یہ بات ماضی میں بظاہرایک خبر تھی ، آج وہ ایک مسلّمہ علمی حقیقت ہے۔ پیغمبر نے جو بات الہامی طور پر کہی تھی، اس کو انسان کے لمبے مطالعے اور تجربے نے اب ایک ثابت شدہ واقعہ بنا دیا ہے۔ یہ اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ اسلام کے اصول فطری حقائق پر مبنی ہیں ، نہ کہ محض مفروضات اور قیاسات پر۔
