آگ ٹھنڈی ہوگئی
جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) کے کانفرنس ہال میں 8 فروری 1993 کو ایک سیمینار تھا۔ یہ سیمینار ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کے تحت کیا گیا تھا۔ اس کا موضوع تھا:مذہب اور انسان دوستی۔ اس موقع پر جن لوگوں نے تقریر یں کیں ان میں سے ایک ڈاکٹر بشمبھر ناتھ پانڈے بھی تھے ۔ ڈاکٹر پانڈے نے اپنی تقریر میں کچھ واقعات سنائے۔ ان میں سے ایک واقعہ یہ تھاکہ بالاگھاٹ ( مدھیہ پردیش) میں 1926 میں ہندوؤں کا ایک جلوس نکالا گیا۔ اس جلوس کی قیادت سوامی ستیہ دیو کر رہے تھے ۔ ان لوگوں کا منصوبہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو بھڑکا کر شہر میں فرقہ وارانہ فساد کریں۔ یہ جلوس قصد اًجمعہ کے دن نکالاگیا۔ تقریبا ًدس ہزار ہند و با جا بجاتے ہوئے اور نعرہ لگاتے ہوئے عین جمعہ کی نماز کے وقت مسجد کے سامنے پہنچے۔ اور وہاں ٹہرکرشور و غل کرنے لگے۔
کرامت حسین صاحب شہر کے ایک معروف سیاسی کارکن تھے۔ ان کو پہلے سے مذکورہ منصوبہ کا حال معلوم ہو گیا تھا ۔ چنانچہ وہ اپنے سو ساتھیوں کو لے کر پہلے سے اس مسجد میں آگئے تھے۔ انھوں نے پیشگی طور پر اپنے ہر ساتھی کو پھولوں کا ایک ایک ہار دے دیا تھا۔ جب جلوس مسجد کے سامنے آکر ٹھہر گیا تو انھوں نے عام مسلمانوں سے کہا کہ آپ لوگ بالکل خاموش رہیں۔ اس کے بعد کرامت حسین صاحب سوچے سمجھے نقشہ کے مطابق، اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مسجد سے نکل کر سڑک پر آئے۔ ان لوگوں نے جلوس سے نہ روٹ بدلنے کی بات کی اور نہ نعرہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کا سواگت کرتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ جلوس کے سامنے آگئے اور ایک ایک ہندو کو ہار پہنا نا شروع کیا۔ اس کے بعد پوری فضا بدل گئی۔ جلوس کے لوگوں کے سرشرم سے جھک گئے۔ ان کے نعرے اپنے آپ بند ہو گئے۔ جولوگ مرنے مارنے کے ارادہ سے آئے تھے، وہ مسلمانوں سے گلے ملنے لگے۔ دشمنی کا ماحول اچانک دوستی کے ماحول میں تبدیل ہو گیا۔
ہر انسان انسان ہے ۔ کوئی انسان جب کسی دوسرے انسان کا دشمن بنتا ہے تو وہ محض وقتی اشتعال کے تحت ہوتا ہے۔ اگر حکمت کے ساتھ اس وقتی آگ کو ٹھنڈا کر دیا جائے تو اس کے بعد انسان اپنی اصل فطرت پر لوٹ آئے گا۔ اور پھر وہی انسان آپ کا دوست بن جائے گا جو وقتی طور پر بظاہر آپ کا دشمن دکھائی دینے لگا تھا۔
