بے قیدی کا تجربہ
امریکی میگزین نیوزویک (21 جنوری 1985) صفحہ 35 پر ایک تصویر ہے۔ اس تصویر میں امریکی خواتین کا ایک جلوس دکھائی دے رہا ہے۔جلوس کے آگے ایک نوجوان عورت ایک بینر اٹھائے ہوئے ہے۔ اس کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہواہے:
‘‘Keep your laws and your morality off my body.’’
اپنے قوانین اور اپنے اخلاق کو میرے جسم سے دور رکھو۔
مضمون میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کے لوگ اس وقت دوگروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ ایک وہ جو کھلے عام اسقاط کے قائل ہیں۔یہ لوگ اپنے کو ’’اسقاط نواز‘‘ نہ کہہ کر اپنے کو انتخاب نواز (pro-choice)کہتے ہیں۔ دوسرا گروہ جو اسقاط کا مخالف ہے وہ اپنے آپ کو زندگی نواز (pro-life)کہتا ہے۔
جدید مغربی مفکرین کا کہنا ہے کہ انھوں نے جو سب سے بڑی چیز دریافت کی هے وہ آزادی ہے۔ مگر بے قید آزادی کا تجربہ جو جدید مغرب میں ہوا وہ بتاتا ہے کہ بے قيد آزادی خیراعلیٰ نہیں ہوسکتی۔
بے قيد آزادی اگر خیراعلیٰ ہوتو وہ اس قبیح انجام تک کیسے پہنچ جاتی ہے جس کا ایک نمونہ اوپر کے اقتباس میں نظرآتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ آزادی بے حد قیمتی چیز ہے۔ مگر انسان کے لیے خير اعلیٰ پا بند آزادی ہے، نہ کہ مطلق آزادی۔ یعنی انسان کے مقابلہ میں آزادی مگر خدا کے مقابلہ میں پابندی۔
انسان خدا اور بندے کے درمیان ہے۔ جہا ںتک اپنے جیسے انسانوں کا تعلق ہے ، ان کے مقابلہ میں بلاشبہ ہر انسان کوکا مل آزادی حاصل ہے۔ مگراسی کے ساتھ دوسری شدید تر حقیقت یہ ہے کہ خدا کے مقابلے میں انسان مکمل طورپر پابند ہے۔ خدا کے مقابلے میں کسی انسان کو کوئی آزادی حاصل نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو اپنی آزادی کا استعمال اس طرح کرنا ہے کہ وہ ہر حال میں خدا کے احکام کا پابند ر ہے۔ یہی پابندی آزادی کے صحیح استعمال کی ضمانت ہے۔
