نادانی کا کلمہ
اخبارات میں ایک کیس شائع ہوا ہے۔ یہ نادرہ بیگم قریشی کا کیس ہے۔ وہ بلا سپور (مہار ا شٹر) کی رہنے والی ہے۔ اس کے شوہر نے ایک لڑکی کی پیدائش کے بعداس کو طلاق دے دیا۔ اب وہ عدالت کے ذریعہ اپنے سابقہ شوہر سے گزارہ وصول کرنے کی کوشِش کر رہی ہے۔
ٹائمس آف انڈیا یکم مئی 1986کی رپورٹ کے مطابق جب نادرہ بیگم قریشی سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں اندورکی شاہ بانو کے راستہ پرچل رہی ہے اور فوجداری قانون کی دفعہ 125 کے تحت اپنے لیے گذارہ وصول کرنا چاہتی ہے(جب کہ یہ اسلام کے خلاف ہے) تواس تیزی سے جواب دیا کہ اسلام نے میرے لیے کیاکیا ہے کہ میں اس کے اصولوں کی پابندی کروں۔ نہ جج اور نہ وکیل اس میں کامیاب ہوسکے کہ وہ مسزقریشی کو اپنا مقدمہ واپس لینے پر راضی کرسکیں۔ اس نے مسٹر قریشی کی اس پیش کش کو بھی رد کردیا کہ وہ اس کو اور اس کی لڑکی کو دوبارہ واپس لینے پرتیار ہیں۔ اس نے پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس کو پانچ سوروپیہ ماہوار گذارہ دلائے۔ مسز شاہ بانو کے برعکس وہ ابھی جوان (30 سال ) ہے اور اس نے بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے:
‘‘What has Islam done for me that I should follow its tenets? shoots back Mrs Nadira Begum Qureshi when asked why she is following in the footsteps of Mrs Shah Bano of Indore and seeking maintenance allowance under Section 125, Cr. P. C. Neither the judge nor lawyers could persuade Mrs Qureshi to withdraw her case. She rejected Mr Qureshi's offer to take her and her daughter back. The offer rejected, she called upon the court to get her Rs 500 a month as allowance. Unlike Mrs Shah Bano, she is young (30) and educated (Graduate).
یہ ایک نادان عورت کا کلمہ ہے، نہ کہ واقف کار عورت کا کلمہ۔ مذکورہ خاتون اگر تاریخ سے واقف ہوتی تو وہ جانتی کہ عورت کو جو کچھ ملا ہے اسلام ہی کے ذریعہ ملا ہے۔ حتی کہ ایک عورت کا کھڑے ہوکر یہ کہنا کہ’ اسلام نے میرے لیے کیا کیا‘ یہ بھی اسلام ہی کا عطیہ ہے۔ اسلام سے پہلے عورت کو یہ درجہ ہی حاصل نہ تھا کہ وہ برسر عام کھڑی ہوکر اس طرح آزادانہ کلام کرسکے۔
