ناقابل اعتماد کردار
ٹائم ’’ نیویارک‘‘ نے اپنے شمارہ 25 مئی 1987 میں پنٹاگان سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان ہے۔ جنس کا تعلق رازداری سے:
Mixing Sex And Secrets.
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ادارہ پنٹا گان 2.7 ملین لوگوں کے جنسی اعمال کی بابت محکمہ دفاع کے سیکوریٹی کلیرنس کے معاملہ میں پریشان ہے۔ جنوری 1987 میں پنٹاگان نے اپنے ضوابط کی توسیع کرتے ہوئے فوج کے لوگوں، شہری کارکنوں اور ٹھیکہ کے ملازموں پر یہ شرط عائد کردی ہے کہ وہ کلیرنس کے تحت یہ بتائیں کہ کیا وہ جنسی اعمال مثلاً زنا، اغلام اور محرمات کے ساتھ مباشرت میں مبتلا رہے ہیں۔ ان قوانین کا مقصد یہ اطمینان حاصل کرنا ہے کہ وہ لوگ جن کی پہنچ حکومت کے رازوں تک ہے ان میں یہ کمزوری نہیں ہے کہ ان کو بلیک میل کیا جاسکے:
‘‘The Pentagon has been fretting about the sexual practices of the 2.7 million people with Defence Department security clearances. In January (1987) the Pentagon expanded its rules to compel service personnel, civilian workers and contract employees with clearances to divulge whether they had engaged in such sexual acts as adultery, sodomy and incest. The rules were intended to ensure, that those with access to secrets are not vulnerable to blackmail.’’
(Time, New York, 25 May, 1987, p. 29)
اباحیت پسند لوگوں کا دعویٰ تھا کہ نکاح سے باہر جنسی تعلقات محض ’’ گناہ‘‘ ہیں۔ یعنی وہ خدا کے نزدیک برُے ہوسکتے ہیں، مگر انسانی معاملات میں ان سے کوئی نقصان واقع نہیں ہوتا۔ مگر تجربات نے بتایا کہ جوشخص جنسی تعلق کے معاملہ میں نکاح کے حدود کا پابند نہ ہو وہ ایک نا قابل اعتمادشخص بن جاتا ہے۔ اس کے اندر ایک ایسا اخلاقی رخنہ پیدا ہوجاتا ہے جس سے داخل ہوکر دشمن ہمارے نازک ترین رازوں تک پہنچ جائے۔
