اغیار کی رعایت

اسلام میں ایک مستقل اصول وہ ہے جس کو قرآن میں تالیف قلب کہا گیا ہے (9:60)۔ تالیف قلب کا مطلب ہے دلوں کو جوڑنا، لوگوں کو اپنے سے مانوس کرنا۔ یہ مقصد صرف اس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے کہ دوسروں کی رعایت کی جائے۔ دوسروں کے جذبات اور مفادات کا احترام کیا جائے۔ تالیف کا یہ اصول اسلامی دعوت کا ایک اہم اصول ہے۔ وہ ابدی طور پر ہر انسانی سماج میں مطلوب ہے۔

پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں تالیف قلب کے اس اصول پر عمل فرمایا۔ مثلاً جب آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو اس وقت وہاں اہل ایمان کے ساتھ مشرکین اور یہود بھی آباد تھے۔ اس وقت آپ نے اپنی طرف سے ایک منشور جاری فرمایا جس کو عام طور پر صحیفۂ مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میں آپ نے اعلان فرمایا کہ ہر گروہ کو اپنے مذہب اور کلچر کی آزادی ہو گی۔ ہر قبیلہ کے نزاعی معاملات اس کی اپنی قبائلی روایات کے تحت طے کئے جائیں گے۔ عقیدہ اور کلچر کے معاملہ میں کسی کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔

یہود کے ساتھ آپ نے خصوصی رعایت کا معاملہ فرمایا ، رمضان کے روزہ کی فرضیت سے پہلے آپ بھی انھیں دنوں میں روزہ رکھتے رہے جب کہ یہود روزہ رکھتے تھے۔ تحویل قبلہ کا حکم آنے سے پہلے تقریبا سترہ مہینہ تک آپ نے یہود کے قبلہ ( بیت المقدس) کو اپنا قبلہ بنائے رکھا۔ یہود کے قبلہ ٴعبادت کو اپنا قبلہ بنانا اس لیے تھا کہ آپ امید رکھتے تھے کہ اس طرح وہاں کے یہود آپ سے مانوس ہوں گے اور آپ کے قریب آجائیں گے(تفسیر القرطبی، جلد 2، صفحہ150)۔

پیغمبر اسلام ﷺ کا طریقہ مخالفت کے جواب میں مخالفت نہ تھا۔ بلکہ مخالفت کے جواب میں رعایت تھا۔ آپ کی سوچ یہ نہیں تھی کہ لوگوں کو دبا کر انھیں اپنا تابع بنائیں۔ اس کے برعکس، آپ کا طریقہ یہ تھا کہ لوگوں کے ساتھ شفقت اور رعایت کا معاملہ کیا جائے، ان کے دل کو نرم کر کے انھیں اپنا سا تھی بنایا جائے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion