بہتر ین رفیقہ حیات
حضرت خدیجہ بنت خویلد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی اہلیہ تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوّت ملی اور فرشتہ جبریل نے آپ کو خداکی پہلی وحی پہنچائی تو آپ پر اس کا شدید تاثر تھا۔ یہ واقعہ غار حرا میں پیش آیا تھا۔ آپ وہاں سے اتر کر اپنے مکان پر آئے۔ اور حضرت خدیجہ سے تمام واقعہ بیان کرکے فرمایا کہ مجھ کو اپنی جان کا خطرہ ہے۔ اس وقت حضرت خدیجہ نے جو جملہ کہا وہ تاریخ میں ان الفاظ میں محفوظ ہے:
كَلَّا وَاللهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا، فَوَاللهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ،وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتَحْمِلُ الْكَل وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَق (سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحه 386)۔ يعني، ہر گز نہیں، خدا کی قسم اﷲ آپ کو کبھی رسوا نہیںکرے گا۔ آپ رشتہ دار وں کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں۔ کمزوروںکا بوجھ اٹھاتے ہیں ، اور سچ بات بولتے ہیں، ناداروں کی خبر گیری کرتے ہیں اور حق کے معاملے میں ہمیشہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
اس کے بعد حضرت خدیجہ کو یہ خیال ہواکہ اس بارے میں عیسائی حضرات سے دریافت کریں۔ کیوں کہ وہ لوگ آسمانی کتابوں کے حامل ہیں اور وحی نبوّت کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔ چنانچہ وہ ایک عیسائی راہب کے پاس گئیں جومکہ سے قریب رہتے تھے۔ راہب نے انھیں دیکھ کر پوچھا کہ اے قریش کی معزز خاتون۔ آپ کس لیے آئی ہیں۔ حضرت خدیجہ نے کہا کہ میں اس لیے آئی ہوں کہ آپ مجھے جبریل کے بارے میں بتائیں کہ وہ کون ہیں۔ راہب نے کہا ، سبحان اﷲ۔ وہ خدا کاپاک فرشتہ ہے۔ وہ پیغمبر وں کے پاس آتا ہے۔ وہ موسیٰ اور عیسیٰ کے پاس آیا تھا۔
حضرت خدیجہ اس کے بعدا یک اور عیسائی کے پاس گئیں جس کا نا م عد اس تھا۔ اس سے بھی انھوں نے یہی سوال کیا کہ’’ جبریل‘‘ کون ہیں۔ عداس نے کہا کہ جبریل خدا کے فرشتے ہیں۔ وہ موسیٰ کے پاس اس وقت تھے جب کہ اﷲ نے فرعون کو غرق کیا۔ وہ عیسیٰ پر اترے اور ان کے ذریعہ اﷲ نے عیسیٰ کی مدد فرمائی۔
حضرت خدیجہ اس کے بعد ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں۔ وہ جاہلیت کے زمانہ میں عیسائی ہو گئے تھے۔ وہ ایک بڑے عالم تھے اور انھوں نے انجیل کا ترجمہ سریانی زبان سے عربی میں کیا تھا ۔ ورقہ بن نوفل نے حالات سننے کے بعد کہا اے خدیجہ ، اگر تم نے سچ کہا ہے تو یہ وہی فرشتہ ہے جو عیسیٰ پرآیاتھا، اب وہ محمد کے پاس آیا ہے۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کو لے کردوبارہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں۔ ورقہ نے آپ کی زبان سے حالات سننے کے بعد کہا، آپ کو خوش خبری ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہی پیغمبر ہیں جن کی مسیح بن مریم نے بشارت دی تھی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، قوم آپ کو جھٹلا ئے گی اور آپ سے لڑے گی۔ اگر میں اس وقت زندہ رہا تو میں ضرور آپ کا ساتھ دوں گا۔ (سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحه 386)
