احادیث
اب ایک سوال ان احادیث کا ہے جو اس سلسلہ میں نقل کی جاتی ہیں اور جن میں صراحۃًضلع (پسلی ) کا لفظ آیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ ان احادیث میں آدم و حوا کی تخلیق کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ وہ عام عورتوں کے بارے میں ہیں۔ یعنی ان احادیث میں ہر ہر عورت کی تخلیق نوعیت کا ذکر ہے، نہ کہ مخصوص طور پر حضرت حوا کی تخلیقی نوعیت کا ذکر۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:
اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ (مصنف ابن ابي شيبه، حديث نمبر 19272)۔یعنی، عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی میری نصیحت قبول کرو۔کیوں کہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں۔
اس کا یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ عورت واقعتاًپسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ کیوں کہ پورے فقرہ کے ساتھ اس کا کوئی جوڑ نہیں۔ حدیث کا مدعا عورتوں کے ساتھ اچھے سلو ک کی تاکید کرنا ہے۔ اس لیے اس کی وہی تشریح درست ہوگی جو اس اصل مدعا کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔
’’عورتیں پسلی سے پیدا کی گئی ہیں‘‘ کا فقرہ یہاں مجازی معنوں میں ہے، نہ کہ حقیقی معنوںمیں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کا معاملہ پسلی جیسا معاملہ ہے۔ وہ پسلی کی مانند ہیں۔ چنانچہ خود دوسری روایت میں یہ صراحت موجود ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ، إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا (صحيح البخاری، حديث نمبر5184 ؛ صحيح مسلم، حديث نمبر1468)۔ يعني، حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عورت پسلی کی مانند ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرو گے تو تم اس کو توڑ دو گے۔
بخاری و مسلم کی اس روایت میں واضح طورپر کا لضلع کا لفظ ہے۔ یعنی یہ کہ عورت پسلی کی مانند ہے، نہ یہ کہ وہ خود پسلی سے بنائی گئی ہے۔ پسلی کی مانند ہونے کا مطلب کیا ہے، یہ بھی صراحتہً حدیث میں موجود ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ اگر تم اس کو سید ھا کرنے کی کوشش کروگے تو تم اس کو توڑدوگے۔
’’عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے‘‘ اور ’’ عورت پسلی کی مانند ہے‘‘ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہ صرف ادبی اسلوب کا فرق ہے، نہ کہ حقیقت کا فرق۔ ہر زبان میں یہ اسلوب عام ہے کہ جب تشبیہ میں شدت پیدا کرنا مقصود ہوتو ’’ مثل ‘‘ کا لفظ حذف کردیتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کی بہادری بتانے کے لیے کبھی کہا جاتا ہے کہ وہ شیر کی طرح ہے۔ اور جب اس بات کو زیادہ زور دے کر کہنا ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ’’ وہ شیر ہے‘‘۔ جیسے میر انیس نے کربلا کے میدان کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا ہے:
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کا نپ رہا ہے
عورت کے بارے میں نفسیات اور حیاتیات کا علم بتاتا ہے کہ وہ ’’ صنف نازک‘‘ ہے۔ وہ مرد کے مقابلہ میں کمزور اور نازک ہوتی ہے۔ اس کے مزاج انفعالیت ہے۔ چنا نچہ کسی واقعہ سے وہ بہت جلد متاثر ہوجاتی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو ہر آدمی جانتا ہے خواہ وہ پڑھالکھا ہو یا بے پڑھا لکھا۔ ہر باپ جانتا ہے کہ بیٹے سے سختی کی جاسکتی ہے مگر بیٹی کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرناضروری ہے۔ کیوں کہ وہ شدت کا تحمل نہیں کرسکتی۔ چنا نچہ خودکشی کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ مردوں کے مقابلہ میں عورتیں زیادہ خود کشی کرتی ہیں، وہ ایک معمولی واقعے سے متاثر ہو کر خود کشی کر سکتی ہیں یاذ ہنی اختلال کا شکار ہوکر رہ جاتی ہیں۔
یہی وہ معلوم حقیقت ہے جس کو حد یث میں تمثیل کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ آدمی کے سینے میں پسلی کی ہڈیاں کسی قدر خم دار ہوتی ہیں۔ ان کا خم دار رہنا ہی مصلحت کے مطابق ہے۔ کوئی ڈاکٹر ایسا نہیں کرتا کہ آپریشن کے ذریعہ ان پسلیوں کو سید ھا کرنے کی کوشش کرے۔
اسی معلوم واقعہ کی مثا ل دیتے ہوئے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ ان کی فطرت کے مطابق پیش آؤ۔ عورتوں سے معاملہ کرتے ہوئے ہمیشہ یہ ذہن میں رکھو کہ عورتیں فطری طور پر نازک اور جذباتی ہوتی ہیں۔ اﷲ نے مخصوص مصالح کے تحت انھیں بالا رادہ ایسا ہی بنایا ہے اس لیے تم ان کے ساتھ ہمیشہ نرم برتاؤ کرو۔ کوئی بات بتا نا ہوتو نرمی اور خوش اسلوبی کے ساتھ بتا ؤ۔ اگر تم ان کے ساتھ سختی کرو گے توان کی شخصیت اس کا تحمل نہ کرسکے گی۔ ان کا دل اسی طر ح ٹوٹ جائے گا جس طرح پسلی سیدھا کرنے میں ٹوٹ جاتی ہے۔
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار سفر میں تھے۔ کچھ خواتین اونٹ پر بیٹھی ہوئی چل رہی تھیںساربان نے اونٹ کو زیادہ تیز چلانا چاہا۔ اونٹ جب تیز چلتا ہے تو مسافر کا جسم کا فی ہلنے لگتا ہے۔چنا نچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساربان (حضرت انجشه ) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:رُويْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ رِفْقًا بِالْقَوَارِيرِ ( اے انجشه، یہ آبگینے ہیں ، ذرا آہستہ چلو)صحيح البخاري، حديث نمبر6161؛ الحاوي الكبير للماوردي، جلد 17،صفحہ 195۔
