جب ذہن کے پردے ہٹ جائیں
ملک عبدالشکور بی اے (پیدائش1946) بدھل (راجوری) کے رہنے والے ہیں۔ وہ سگرٹ کے عادی تھے اور روزانہ تین پیکٹ پی جاتے تھے۔’’سگرٹ پینا صحت کے لیے مضر ہے۔‘‘ سگرٹ پینا اپنے کمائے ہوئے پیسہ کو آگ لگانا ہے‘‘۔ اس قسم کی کوئی بھی دلیل ان کو سگرٹ چھوڑنے پر آمادہ نہیں کر سکتی تھی۔ حتٰی کہ وہ اپنے دوستوں کو بھی اصرار کر کے پلاتے۔ چائے پینے کے بعد وہ سگرٹ کا کش لینے کو اتنا ضروری سمجھتے تھے کہ وہ اپنے دوستوں سے کہتے’’جو آدمی چائے پی کر سگریٹ نہ پئے اس کو چائے پینے کا حق نہیں‘‘۔
مگر ایک چھوٹے سے واقعہ نے ان کی محبوب سگرٹ ان سے چھڑا دی۔ سگرٹ کے ٹکڑے جو وہ پینے کے بعد پھینکتے ان کو ان کا تین سالہ بچہ فاروق قیصر اٹھا لیتا اور منھ میں لگا کر پیتا۔ ملک عبدالشکور صاحب اس کو منع کرتے مگر وہ نہ مانتا۔ ایک روز ایسا ہوا کہ بچہ کی ماں نے سختی سے بچہ کو منع کیا تو بچہ نے کہا:’’ابا بھی تو پیتے ہیں‘‘ ملک عبدالشکور صاحب نے بچہ کی زبان سے یہ سنا تو ان کو سخت جھٹکا لگا۔ اگرچہ وہ دوستوں کے سامنے اپنی سگرٹ نوشی پر قصیدہ پڑھتے تھے مگر ان کا دل خوب جانتا تھا کہ سگرٹ پینا ایک بری عادت ہے جس کا انجام نہ صرف صحت اور پیسہ کی بربادی ہے بلکہ وہ اخلاق کو بھی بگاڑنے والا ہے۔ جب کوئی شخص ان سے سگرٹ چھوڑنے کو کہتا تو وہ اس کے خلاف لفظی دلائل کا انبار لگا دیتے۔ مگر ان دلائل کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہ تھی کہ وہ اپنے ایک ’’نشہ‘‘ کو چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے اور اس کے لیے بھی تیار نہ تھے کہ اپنی غلطی کو مان لیں۔ اس لیے وہ لفظی تاویلات کے سہارے اپنے کو حق بجانب ثابت کرتے تھے۔ وہ اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے تھے کہ سگرٹ کے خلاف کسی دلیل پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔
مگر جب سگرٹ کا سوال بچہ کی زندگی کا سوال بن گیا تو اچانک وہ سنجیدہ ہوگئے۔ ان کے ذہن سے وہ تمام پردے ہٹ گئے جنہوں نے ایک سادہ سی حقیقت کو سمجھنا ان کے لیے ناممکن بنا دیا تھا۔ جو شخص مضبوط دلائل کے آگے ہتھیار ڈالنے پر تیار نہ ہوتا تھا وہ ایک بچہ کے کمزور الفاظ کے آگے بالکل ڈھ گیا۔’’اگر میں خود سگرٹ پیتا رہوں تو میں اپنے بچہ کو سگرٹ پینے سے باز نہیں رکھ سکتا‘‘ انہوں نے سوچا بچہ کا یہ کہنا کہ’’ابا بھی تو پیتے ہیں‘‘ ان کے لیے ایک ایسا ہتھوڑا بن گیا جس کی ضرب کو برداشت کر نے کی طاقت ان کے اندر نہ تھی۔ بچہ کی زبان سے یہ الفاظ سن کر ان کو سخت جھٹکا لگا۔ انہوں نے ایک لمحہ کے اندر وہ فیصلہ کرلیا جس کے لیے ان کے دوستوں کی مہینوں اور سالوں کی کوشش بھی ناکافی ثابت ہوئی تھی۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ انہوں نے طے کر لیا کہ وہ سگرٹ پینا بالکل چھوڑ دیں گے ۔ انہوں نے نہ صرف اگلے دن سگرٹ نہیں پی بلکہ مستقل طور پر سگرٹ نوشی ترک کر دی۔
باپ کو سگرٹ سے محبت تھی۔ مگر بیٹے سے اس سے زیادہ محبت تھی۔ اس نے بیٹے کی خاطر سگرٹ کو چھوڑ دیا۔ اسی طرح ہر آدمی کو اپنے مفادات اور مصالح سے محبت ہوتی ہے۔ اسلام یہ ہے کہ خدا کی محبت اتنی بڑھ جائے کہ اس کی خاطر آدمی دنیا کے مفادات اور مصالح کو قربان کر دے۔(20ستمبر1979)
