تعمیر شعور
ایک عالم ملاقات کے لیے آئے۔ وہ ایک بڑے عربی دینی مدرسہ سے فارغ ہیں اور مدرسہ کے چندہ کے لیے ہرسال سفر کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سلسلہ میں کئی بارانڈمان جا چکے ہیں ۔ انڈمان کے لیے کلکتہ سے پانی کے جہاز کے ذریعہ جانا ہوتا ہے۔ یہ مسلسل پانچ دن کا سفر ہے۔ بڑے جہاز میں ڈھائی ہزار آدمی ہوتے ہیں ۔ پانچ سو آدمی صرف عملہ کے ہوتے ہیں ۔ اس میں پولیس کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں ۔
اس طرح کی بہت سی معلوماتی باتیں انہوں نے بتائیں ۔ میں نے کہا کہ آپ نے کئی بارسمندر کے ذریعہ انڈمان کا سفر کیا ہے۔ کسی سفر میں کوئی خاص سبق آموز بات جو آپ کو ملی ہو، وہ بتائیے۔ مگر وہ کوئی سبق کی بات نہ بتا سکے۔
اسلامی نظام کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کے تمام ادارے اور اس کی سرگرمیاں (education oriented) ہوں ، مدرسہ، مسجد، اجتماع ، قیادت اور صحافت سب اس طرح چلائے جائیں کہ ان سے مسلمانوں کا شعور بیدار ہوتا رہے۔ مگر یہی وہ اصل چیز ہے جس سے ہمارے تمام ادارے بالکل خالی ہیں ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا کوئی ادارہ بھی شعور کی تربیت کا کام نہیں کر رہا ہے۔ یہ بلاشبہ موجودہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمی ہے۔ (ڈائری، 22 جنوری 1989)
