سبق لینا،نہ کہ سبق سکھانا
1947سے1971تک بنگلہ دیش کانام مشرقی پاکستان تھا۔اس وقت وہ پاکستان کامشرقی حصہ تھا۔ 1971میں بنگلہ دیش کےلوگوں نےپاکستان کےخلاف مسلح بغاوت کردی۔ اس جنگ میں انڈیانےبنگلہ دیشیوں کاساتھ دیا۔اس طرح انڈیاکی فوجی مدد کے ذریعہ مشرقی پاکستان الگ ہوکربنگلہ دیش کےنام سےمستقل ملک بن گیا۔اس واقعے کے بعد پاکستان کے لیڈروں نےکہاکہ ہم انڈیاسےانتقام لیں گے۔وہ انڈیاپربراہ راست حملہ نہیں کرسکتےتھے۔ چنانچہ انہوں نےکشمیراور پنجاب میں اپنی خفیہ مددکےذریعہ پراکسی وارچھیڑدی۔ یہ پراکسی وارصرف پاکستان کی مزیدتباہی کاذریعہ بنی۔
اس معاملہ میں پاکستان کےلیے سبق سکھانےکی پالیسی درست نہ تھی۔اس کے لیے زیادہ صحیح پالیسی سبق لینےکی تھی۔پاکستان کو 1971 کے واقعہ سےیہ سبق لینا چاہیے تھا کہ بنگلہ دیش کانام مشرقی پاکستان رکھ کراس کوایک ملک کی حیثیت سےپاکستان کاحصہ قرار دینا ایک غیرحقیقت پسندانہ سیاست تھی جوعملاچلنےوالی نہ تھی۔1971میں بنگلہ دیش کی علیٰحدگی اپنی حقیقت کے اعتبار سے انڈیا کی مداخلت کانتیجہ نہ تھی، بلکہ ایک غیرحقیقت پسندانہ سیاست کا فطری انجام تھا جو اپنے وقت پر پیش آیا۔ مگر پاکستانی لیڈروں کےذہن میں سبق سکھانے کا تصوراتنازیادہ چھایاہواتھاکہ اس واقعہ سےوہ اصل مطلوب سبق نہ لے سکے۔ چنانچہ اس کے بعدبھی وہ باربار نہایت سنگین قسم کی غیرحقیقت پسندانہ سیاست میں مبتلا ہوئے اوراس کے بھیانک انجام سےدوچارہوتےرہے۔ اس کی ایک مثال پاکستان میں جنگجوؤں کی پرورش ہےجوانہوں نے ’’عظیم ترپاکستان‘‘ کے خیالی تصورکوواقعہ بنانے کے لیے کی۔ اگرچہ اس کابھی فطری انجام یہی ہواکہ پاکستان ہر اعتبارسےایک دیوالیہ ملک بن کررہ گیا۔
