مشکل نہیں

میری زندگی کا ایک بہت بڑا سبق وہ ہے جو مجھ کو قرآن سے ملا۔ اسلام کے شروع کے زمانے میں جب مسلمان بہت تھوڑے تھے اور ان کے مخالفین ان کو بہت زیادہ ستاتے تھے۔ اس وقت ان کے ذہن میں یہ سوال تھا کہ مشکلات کے اس طوفان میں اپنا کام کس طرح کیا جائے۔

 اس وقت قرآن میں ایک آیت اتری جس میں انھیں اس معاملے میں رہنمائی دی گئی۔ وہ آیت یہ تھی:اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (94:6)۔ یعنی، مشکل سے نہ گھبر اؤ، کیونکہ مشکل کے ساتھ ہی اس دنیا میں آسانی بھی موجود ہے۔ قرآن کی اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ مشکل کے بعد آسانی ہے بلکہ یہ فرمایا کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یعنی جہاں مشکل ہے وہیں عین اسی وقت آسانی بھی موجود ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں پر ابلم کے ساتھ اس کا حل بھی موجود ہو۔ جہاں پر ابلم یا کٹھنائی ہو وہیں ایسے مواقع (opportunities) بھی موجود ہوں جن کو استعمال کر کے آدمی آگے بڑھ سکے۔ اس دنیا میں پر ابلم اور حل دو ایسے جڑواں بھائی ہیں جو کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔

میں اپنی زندگی میں کئی بار نقصان یا نا کامی سے دوچار ہوا ہوں مگر میں نے ہر بار اسی اصول کو استعمال کیا۔ چنانچہ جب بھی میں نے غور کیا تو میں نے پایا کہ جہاں پر ابلم پیدا ہوا وہیں اس کا حل بھی موجود تھا۔ مثلاً یہ کہ جہاں اوسط درجہ کی محنت سے کام نہ بن رہا ہو وہاں آدمی زیادہ محنت کر کے اپنا کام بنالے۔

میں نے ایک بار ایک منظر دیکھا۔ اسکول کے بچے تقریباً ایک سو کی تعداد میں اسکول سے نکل کر سڑک پر آگئے۔ وہ فٹ پاتھ پر چلنا چاہتے تھے مگر تنگ فٹ پاتھ پر وہ بھیڑکی صورت میں نہیں چل سکتے تھے۔ انھوں نے اپنے استاد کی ہدایت پر یہ کیا کہ دودو کی صورت میں لمبی قطار بنالی اس طرح وہ آسانی کے ساتھ فٹ پاتھ سے گذر گئے۔ ایسا نہیں ہوا کہ وہ پوری سڑک پر پھیل کرٹریفک کے لیے مسئلہ پیدا کریں۔

 ان طالب علموں کے لیے دائیں اور بائیں پھیلنے کا موقع نہیں تھا۔ انھوں نے آگے اور پیچھے پھیل کر اپناراستہ طے کر لیا۔ اس واقعے کو دیکھ کر میں نے یہ سمجھا کہ مشکل میں آسانی ہونے کا مطلب کیا ہے۔ یہ ایک مثال ہے جو اس معاملے کو بہت خوبی کے ساتھ بتارہی ہے۔ سڑک کے سفر کا یہ واقعہ زندگی کے دوسرے تمام معاملات میں رہنمائی دے رہا ہے۔

مشکل میں آسانی کا یہ معاملہ نیچر کا ایک اٹل قانون ہے۔ اس کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ نیچر کا یہ طریقہ ہے کہ جب بھی کہیں ایک مسئلہ پیدا ہو تا ہے تو وہ خود ہی اپنے آپ اس کے حل کی طرف دوڑ پڑتی ہے۔ وہ ایک خود کار نظام کی طرح مشکل کے ساتھ آسانی لاتی ہے۔

مثلاً ایک شخص جب کسی مشکل صورت حال سے دو چار ہوتا ہے تو نیچر کے پر اسس کےتحت اپنے آپ اس کے دماغ کے ذرات اور زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس کی ذہنی دنیا میں ایک نئی بیداری آجاتی ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ سوچنے لگتا ہے۔ اس طرح وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ زیادہ بڑھی ہوئی سوچ اور زیادہ بڑھی ہوئی طاقت سے آئی ہوئی مشکل کو حل کر سکے۔

آپ کے راستہ میں چٹان حائل ہو تو اس کے کنارے اپنا راستہ نکال لیجیے۔ ٹکراؤ کے ذریعہ جو مسئلہ حل نہ ہو رہا ہو اس کا حل صابرانہ تدبیر میں دریافت کیجیے۔ جہاں بولنا بظاہر کارآمد نہ ہو وہاں خاموشی کا اسلوب اختیار کیجیے۔ جو کام جسمانی طاقت کے ذریعہ بنتا ہوا نظر نہ آئے وہاں عقل و دانش کی طاقت کو استعمال کیجیے  ۔

یہی موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کا واحد اصول ہے۔ اس دنیا میں کامیاب وہ ہے جو اس اصول کو دریافت کر کے اسے اپنے حق میں استعمال کرے اور نا کام وہ ہے جو فطرت کے اس اصول کو دریافت نہ کر سکے اور نتیجتاً اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی میں ناکام رہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion