چالیس سالہ انتظار
قرآن میں بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے— موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم، اس پاک زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے۔ اور اپنی پیٹھ کی طرف نہ لوٹو، ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں ایک زبردست قوم ہے۔ ہم ہر گز وہاں نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہوں گے۔ دو آدمی جو اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے اور ان دونوں پر اللہ نے انعام کیا تھا، انہوں نے کہا کہ تم ان پر اقدام کرکے شہر کے پھاٹک میں داخل ہو جاؤ۔ جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم ہی غالب ہوگے۔ اور اللہ پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو۔ انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ ہم کبھی وہاں داخل نہ ہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں ہیں۔ پس تم اور تمہارا خدا دونوں جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ موسیٰ نے کہاکہ اے میرے رب، اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر میرا اختیار نہیں۔ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان جدائی کر دے۔ اللہ نے کہا کہ وہ ملک ان پر چالیس سال کے لیے حرام کر دیا گیا۔ یہ لوگ زمین میں بھٹکتے پھریں گے۔ پس تم اس نافرمان قوم پر افسوس نہ کرو۔ (المائدہ، 5:21-26)
یہ واقعہ زیادہ تفصیل کے ساتھ بائبل(گنتی، استثنا، یشوع) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بائبل کے علما کے مطابق، حضرت موسیٰ1440 ق م میں بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے گئے۔ وہاں انہوں نے خدا کے حکم کے تحت بنی اسرائیل سے یہ بات کہی کہ شام وفلسطین کی زمین خدا نے تمہارے لیے مقدر کی ہے۔ تم اقدام کرکے وہاں داخل ہو جاؤ۔
اس علاقےمیں اس وقت عمالقہ(Amalekites) کی حکومت تھی۔ بنی اسرائیل ان سے ڈر رہے تھے۔ چنانچہ وہ اقدام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے علاوہ صرف دو آدمی ایسے تھے جنہوں نے اٹھ کر اس اقدام کی تائید کی۔ بائبل میں ان کا نام یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا بتایا گیا ہے۔
بنی اسرائیل نے جب اس معاملے میں پست ہمتی کا مظاہرہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے عمالقہ کے ملک میں داخلے کے منصوبے کو چالیس سال تک کے لیے مؤخر کر دیا۔ بنی اسرائیل کے متعلق خدا کا حکم ہوا کہ ’’تمہاری لاشیں اسی بیابان میں پڑی رہیں گی۔ اور تمہاری ساری تعداد میں سے بیس برس سے لے کر اس سے اوپر اوپر کی عمر کے تم سب جتنے گنے گئے اور مجھ پر شکایت کرتے رہے، ان میں سے کوئی اس ملک میں جس کی بابت میں نے قسم کھائی تھی کہ تم کو وہاں بساؤں گا، جانے نہ پائے گا‘‘۔ (گنتی29:14-30)
اس حکم کا مطلب یہ تھا کہ بنی اسرائیل کے تمام زیادہ عمر کے لوگ ختم ہو جائیں، اور صرف وہ نئی نسل باقی رہے جو سینا کے صحرائی ماحول میں پرورش پا کر بڑی ہوئی ہے، اس وقت وہ عمالقہ کے اوپر جہاد کریں اور خدا کی مدد سے کامیابی حاصل کریں۔
خدا کے اس حکم کے مطابق بنی اسرائیل صحرا میں پھرتے رہے۔ یہاں تک کہ تقریباً چالیس سال میں جب ایسا ہوا کہ پرانی نسل ختم ہوگئی اور نئی نسل بن کر تیار ہوگئی تو انہوں نے عمالقہ کے ملک(شام و فلسطین) میں جہاد کیا۔ یہ جہاد1400 ق م میں مذکورہ یوشع بن نون کی قیادت میں انجام پایا۔ اور اللہ کی مدد سے کامیاب ہوا۔
اس واقعے پر غور کیجیے۔ اللہ تعالیٰ کی براہ راست وحی کے تحت جہاد کا ایک حکم سامنے آتا ہے۔ مگر اس کے باوجود اس پر عمل کو چالیس سال تک کے لیے مؤخر کر دیا جاتا ہے، صرف اس لیے کہ جن لوگوں کو جہاد کرنا تھا، ان کے اندر جہاد کی استعداد ثابت نہ ہو سکی۔ اگرچہ کم ازکم چار آدمی(موسیٰ، ہارون، یوشع، کالب) جہاد کے لیے پوری طرح تیار تھے جن میں دو پیغمبر بھی تھے۔ مگر فریق ثانی کے مقابلے میں یہ تعداد ناکافی تھی، اس لیے جہاد کو ملتوی کر دیا گیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ جہاد اس کا نام نہیں ہے کہ آدمی انجام کی پروا کیے بغیر مقابلے کے میدان میں کود پڑے، خواہ اس کے نتیجے میں یک طرفہ طور پر اس کی ہلاکت ہی کیوں نہ ہونے والی ہو۔ جہاد کا مقصد نتیجہ حاصل کرنا ہے ، نہ کہ لڑ کر مر جانا۔ اگر حالات کے اعتبار سے ضروری اسباب موجود نہ ہوں تو لازم ہے کہ آدمی جہاد سے رک جائے۔ وہ افراد کے اندر مطلوبہ استعداد پیدا ہونے کا انتظار کرے، خواہ اس انتظار کی مدت چالیس سال تک کیوں نہ وسیع ہو رہی ہو۔
