بسم اللہ الرحمن الرحیم
اتباعِ صراط، اتباعِ سُبل
پچھلی امتوں میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں، ان میں سے ایک بنیادی خرابی یہ تھی کہ وہ مختلف فرقوں میں بٹ گئے ۔ اور خدا کے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا:مِنَ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ۔ (30:32)
یہی خطرہ شدید طور پر اگلی امت کے لیے بھی تھا۔ اس لیے قرآن و حدیث میں نہایت تاکید کے ساتھ اہلِ اسلام کو یہ نصیحت کی گئی کہ تم ان کی پیروی نہ کرنا:وَلَاتَكُوْنُوْاكَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْاوَاخْتَلَفُوْامِنْۢ بَعْدِمَاجَاۗءَھُمُ الْبَيِّنٰتُ ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔ (3:105) یعنی، اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور باہم اختلاف کرلیا بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح احکام آچکے تھے۔ اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
اس سلسلے میں قرآن میں جو ہدایات دی گئی ہیں ، ان کا خلاصہ مندرجہ ذیل آیت میں ملتا ہے:
وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (6:153) یعنی، (اے پیغمبر کہہ دوکہ) یہ میری راہ ہے سیدھی۔ پس تم اس پر چلو اور (متفرق) راستوں پر نہ چلو وہ تم کو اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔ یہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم بچو۔
اس آیت کی تشریح ایک روایت میں ملتی ہے۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:
عَنْ ابْنُ مَسْعُودٍ، رضي الله عنه -قَالَ:خَطَّ لنا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم یوماً خَطًّا بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ’’:هَذَا سَبِيل اللهِ مُسْتَقِيمًا‘‘. وَخَطَّ عَلَى يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ’’:هَذِهِ السُّبُل لَيْسَ مِنْهَا سَبِيلٌ إِلَّا عَلَيْهِ شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ‘‘. ثُمَّ قَرَأَ:وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ۔ ( مسند احمد، حدیث نمبر 4437) یعنی، حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا یک روز ہمارے سامنے ا یک سیدھی لکیر کھینچی۔ پھر فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے۔ اس کے بعد آپ نے اس سیدھی لکیر کے دائیں اور بائیں لکیریں کھینچیں پھر فرمایاکہ یہ متفرق راستے ہیں۔ ان میں سے ہر راستہ پر ایک شیطان ہے جو اس کی طرف بلاتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی:اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے، پس تم اسی کی پیروی کرو ۔(6:153)
ان آیتوں اور حدیثوں کے مطابق عمل کے دو طریقے ہیں۔ ایک اتباع صراط، اور دوسرے اتباع سُبل۔ ان دونوں طریقوں میں جو فرق ہے وہ اسلام اور کفر کا نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ ان میں سے ایک کھلی ہوئی دینداری ہے اور دوسری کھلی ہوئی بے دینی۔ بلکہ یہ دونوں ہی دین کے نام پر کیے جانے والے عمل ہیں۔تاہم دین کے نام پر کیے جانے کے باوجود ان میں سے ایک مطلوب دینداری ہے اور دوسری غیر مطلوب دینداری۔ چنانچہ قرآن کی دوسری سورہ میں ان میں سے ایک کو اقامتِ دین اور دوسرے کو تفرّق فی الدّین سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (42:13)
اب دیکھیے کہ اتباع صراط کیا ہے اور اتباع سُبل کیا ہے۔ صراط کے معنی سیدھی اور وسیع شاہراہ کے ہیں۔ اور سُبل سے مراد متفرق راستے ہیں۔ دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ صراط اور سُبل دراصل اصول اور فروع کی تعبیر ہے۔ صراط سے مراد دین کی اصولی اور اساسی تعلیمات ہیں اور سُبل سے مراد دین کی جزئی اور فروعی تعلیمات ہیں۔ اس سلسلے میں حسب ذیل آیت کا مطالعہ کیجیے:
شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحاً وَالَّذِي أَوْحَيْنا إِلَيْكَ وَما وَصَّيْنا بِهِ إِبْراهِيمَ وَمُوسى وَعِيسى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ۔ (42:13) یعنی، اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کر دیا جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا ، یہ کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ ڈالو۔
