گھر کا انتظام

قرآن میں  عورتوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ (33:33)۔ يعني،اور تم اپنے گھر میں  قرار سے رہو۔مفسرین نے اس کی تشریح الْزَمْنَ ‌بُيُوتَكُنَّیا       أُمِر ‌بِالْقَرَارِ ‌فِي ‌الْبُيُوتِ کے الفاظ سے کی ہے۔ یعنی اپنے گھروں میں  ٹھہرو، اپنے گھروں کو اپنا دائرہ عمل بناؤ۔

موجودہ زمانہ میں  عورت بیرونی نمائش کا ایک سامان بن کررہ گئی ہے۔ اسلام کا نقشہ اس کے مقابلہ میں  یہ ہے کہ عورت گھر کے اندر رہے اور داخلی ذمہ داریوں کو سنبھالے۔ گھر کا انتظام ، افراد خاندان کی خانگی ضروریات ، امور خانہ داری کا بندوبست ، بچوں کی دیکھ بھال ، یہ سب عورت کی ذمہ داری ہے۔ اور یہ سب وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ میں  شامل ہے۔

گھر کو سنبھالنا ، چھوٹے پیمانہ پر ایک ریاست کو سنبھالنا ہے۔ یہ اتنا ہی اہم اور معزز کام ہے جتنا ملکی ریاست کا کام ہوسکتا ہے۔ عورت کو چاہیے کہ وہ گھر کے معاملات کا انتظام ایک با عزت ذمہ داری کے طور پر کر ے۔ گھر کو معیاری گھر بنا نے میں  وہ اپنی پوری صلاحیت وقف کردے۔ وہ گھر کے باغ کی مالی بن جائے۔ یہی مطلب ہے اس حدیث کا جس میں  رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:المَرْأَةُ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَهِيَ مَسْؤلَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا(صحيح البخاری، حديث نمبر5188؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 1829)۔ يعني، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اور وہ اس کی جو اب دہ ہے۔

گھر گر ہستی یا امور خانہ داری کی مہارت عورت کا سب سے بڑا زیور ہے، جو مسلم عورت اس زیور سے مزین ہووہی کا مل عورت ہے۔ جو عورت اس امتحان میں  پوری اترے وہی اﷲ کے یہاں عزت اور کامیابی کی مستحق قرار دی جائے گی۔ جو عورت دنیا میں  ایک مکان کو آبادکرے وہی جنت کے زیادہ اعلیٰ مکان میں  آباد کاری کے لیے منتخب کی جائے گی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion