جہاد کے نام پر

اٹھارویں صدی عیسوی کے آخر میں روہیل کھنڈ(شمالی ہند) میں روہیلہ خاندان کے نواب رحمت خاں کی حکومت تھی۔ یہ افغانی نسل سے تعلق رکھتے تھے ا ور ہوش سے زیادہ جوش کے مالک تھے۔ ان کے اس مزاج کی وجہ سے ایسٹ انڈیا کمپنی سے ان کی مخالفت ہوگئی۔ کمپنی نے اودھ (لکھنؤ) کے نواب شجاع الدولہ کو نواب رحمت خاں سے لڑا دیا۔ اس جنگ میں نواب شجاع الدولہ کو ایسٹ انڈیا یا کمپنی کی مدد حاصل تھی چنانچہ ان کو کامیابی ہوئی اور 1774 میں میرن پور کٹرہ کی جنگ میں نواب رحمت خاں مارے گئے۔ اس کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت نواب شجاع الدولہ کی حکومت اودھ اور روہیل کھنڈ (لکھنؤ سے لے کر بریلی) تک قائم ہوگئی۔ تاہم یہ حکومت صرف27 سال باقی رہی۔1801ء میں ادائیگی قرض کے نام پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے روہیل کھنڈ کو براہ راست اپنے قبضہ میں لے لیا۔

 اس زمانہ میں ایک مفتی محمد عیوض بدایونی تھے جو بریلی میں افتاء کے فرائض انجام دیتے تھے۔ ان کا تقرر نواب رحمت خاں کے زمانہ میں ہوا تھا۔ تاہم بعد کے زمانہ میں بھی وہ بدستور اپنے عہدہ پر باقی رہے۔ طویل خاندانی روایت کی وجہ سے عوام کے اندر ان کو بڑا ادب و احترام حاصل تھا۔ عوام کے علاوہ حکومت کے حلقے بھی ان کی عزت کرتے تھے۔ اس دو طرفہ مقبولیت کو اگر وہ حکمت کے ساتھ استعمال کرتے تو وہ کوئی بڑا دینی کام کر سکتے تھے۔ مگر اس کو انہوں نے بے معنی تصادم میں ضائع کر دیا۔

1814 ء کا واقعہ ہے جب کہ روہیل کھنڈ میں انگریزی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ انہوں نے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اقدام کیا۔ انہوں نے ایک قانون پاس کیا جو    ’’چوکیداری ٹیکس‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس قانون کا مقصد یہ تھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت بڑے بڑے شہروں میں پولیس کی تنظیم قائم کی جائے اور اس خرچ کو چوکیداری ٹیکس وصول کر کے پورا کیا جائے۔

 چوکیداری ٹیکس کا قانون روہیل کھنڈ کے علاقہ کے دوسرے مقامات پر کسی احتجاج یا مزاحمت کے بغیر نافذ ہوگیا۔ لیکن بریلی میں صورت حال برعکس تھی۔ بریلی نوابی دور سے مسلمانوں کا مرکز تھا۔ یہاں سابق نواب رحمت خاں کے بچے ہوئے افراد خاندان موجود تھے۔ انہوں نے چوکیداری ٹیکس کو بہانہ بنایا اور اس کے نام پر انگریزی حکومت کے خلاف شورش پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس معاملہ میں مفتی محمد عیوض نے ان کا پورا ساتھ دیا۔

 اب سیاست اور مذہب دونوں ایک ہوگئے۔ مفتی محمد عیوض نے فتویٰ دیا کہ چوکیداری ٹیکس سراسر ناجائز ہے کیوں کہ یہ مسلمانوں کے اوپر جزیہ لگانے کے ہم معنی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس علاقے کے مسلم عوام اس ٹیکس کے خلاف ہوگئے۔ خاص طور پر افغانی پٹھان بڑی تعداد میں اٹھ کھڑے ہوئے جو پہلے سے انگریزوں سے بگڑے ہوئے تھے، کیوں کہ انگریزوں نے ان کی افغان حکومت کو اس علاقہ سے ختم کیا تھا۔

 مفتی محمد عیوض کے فتوے کے بعد مسلمانوں کے دبے ہوئے جذبات ابھر آئے۔ شہر بریلی میں زبردست ہڑتال کی گئی۔

مٹرڈمبلٹن اس وقت یہاں ضلع مجسٹریٹ تھے۔ مٹرڈمبلٹن نے چوکیداری ٹیکس کی وصولی کے لیے 16 اپریل1816ء کی قطعی تاریخ مقرر کر دی اور اس کا اعلان کرا دیا۔ جب یہ تاریخ آئی تو بریلی کے مسلم عوام بڑی تعداد میں مفتی محمد عیوض کے مکان کے سامنے جمع ہوگئے۔ مفتی صاحب نے اس مجمع کی قیادت سنبھال لی۔ ان کو معلوم ہوا کہ انگریز مجسٹریٹ گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی طرف آ رہا ہے۔ انہوں نے عوام کو ہدایت کی کہ انگریز مجسٹریٹ کو آگے بڑھنے سے روکیں اور اس کو یہاں نہ آنے دیں۔ اس کے بعد جو ہونے والا تھا وہی ہوا۔ انگریز مجسٹریٹ نے بھی آگے بڑھنے پر اصرار کیا جس کی وجہ سے انگریزی پولیس اور مفتی محمد عیوض کے حامیوں کے درمیان تصادم ہوگیا۔ اس کا نقصان مفتی محمد عیوض اور اس کے حامیوں کو پہنچا کیوں کہ ان کے پاس لاٹھی ڈنڈے کے سوا اور کوئی ہتھیار نہ تھا جب کہ انگریز پولیس بندوقوں سے مسلح تھی۔ اس نے مجمع پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں بہت سے افراد ہلاک ہوگئے اور اس سے زیادہ زخمی ہوئے۔

 تاہم مفتی محمد عیوض نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے حسینی باغ(بریلی) میں مسلمانوں کو جمع کیا اور یہاں پرجوش تقریر کرتے ہوئے جہاد کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ انگریزی حکومت سے اسلام کو خطرہ ہے۔ اس لیے اس سے لڑنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اب اطراف کے علاقوں سے بھی لوگ آنے لگے اور چند دن کے اندر تقریباً پانچ ہزار روہیلہ پٹھان تلواروں اور آتشیں ہتھیاروں سے مسلح ہو کر مفتی محمد عیوض کی سرداری میں جمع ہوگئے۔

انگریزوں نے مصالحت دکھائی اور گفت و شنید سے مسئلہ کو حل کرنا چاہا۔ مگر مفتی محمد عیوض صاحب جھکنے کے لیے تیار نہ تھے۔ دوسری طرف بریلی، رامپور، پیلی بھیت، بجنور، بدایوں، شاہجہاں پور تک کے پٹھان جہاد کا اعلان سن کر آتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کی تعداد تقریباً15 ہزار ہوگئی۔

مفتی محمد عیوض کے حوصلے اب بہت بڑھ گئے۔ انہوں نے صلح کے لیے انگریز مجسٹریٹ کے سامنے مندرجہ ذیل چار شرطیں پیش کیں۔

1۔      چوکیداری ٹیکس کو منسوخ کیا جائے۔

2۔     بریلی کے انگریز کوتوال کو ہمارے حوالے کیا جائے تاکہ ہم اس کے اوپر شرعی سزا نافذ کریں۔

3۔     پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کے وارثین کو معقول معاوضہ دیا جائے۔

4۔     چوکیداری ٹیکس کے تمام مظاہرین کی عام معافی کا اعلان کیا جائے۔

انگریز حکومت تمام شرطوں کو مان سکتی تھی۔ مگر وہ دوسری شرط کو کسی قیمت پر نہیں مان سکتی تھی۔ دوسری طرف مفتی محمد عیوض کے حامیوں کے حوصلے اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ گفت و شنید کے دوران بھی وہ پرامن نہ رہے۔ عین اس زمانہ میں ان میں سے کچھ لوگوں نے ڈسٹرکٹ جج مسٹرکولیسٹر کے لڑ کے کو قتل کر دیا۔ بالآخر انگریز سپاہیوں کی بڑی تعداد نے 18 اپریل1816 کو مفتی محمد عیوض کے حامیوں پر حملہ کر دیا۔ سخت جنگ ہوئی مگر انگریزی بندوقوں کے مقابلہ میں روہیلے افغانوں کے روایتی ہتھیاروں نے شکست کھائی۔ تقریباً تین سو روہیلے جان سے مارے گئے۔ اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے۔

اس کے بعد روہیلے افغانوں کے حوصلے پست ہوگئے۔ وہ میدان چھوڑ کر بھاگے۔ مفتی محمد عیوض کا تیاری کے بغیر جہاد ایک ہی دن کے مقابلہ میں ختم ہوگیا۔ اس کے بعد مفتی محمد عیوض بریلی چھوڑ کر رامپور چلے گئے جہاں صرف ایک سال میں ان کا انتقال ہوگیا— چوکیداری ٹیکس کو برداشت نہ کرنے والا بالآخر ملت کو اس سے بہت زیادہ بڑی بربادی کے حوالے کر کے اس دنیا سے چلا گیا۔

اس قسم کی بے معنی لڑائیاں جو ایک سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے ملت کے اندر جاری ہیں وہ ہرگز جہاد نہیں ہیں۔ یہ جہاد کے نام پر اپنے جان و مال کو ضائع کرنا ہے۔

جہاد دراصل اللہ کی راہ میں کوشش کرنا ہے۔ اور اللہ کا کام دعوت الی اللہ ہے۔ اہل ایمان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی تمام ممکن قوتوں کو دعوت الی اللہ کے میدان میں لگائیں۔ وہ دوسری قوموں کو ہدایت خداوندی کے راستہ پر لانے کی کوشش کریں۔ یہی اہل ایمان کا اصل جہاد ہے۔

 مسلمانوں کو اس اصل جہاد کا صحیح احساس نہیں۔ اگر ان کو اس کا احساس ہو تو چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھنے کو اپنے لیے حرام سمجھ لیں۔ کیوں کہ چھوٹی چھوٹی غیر متعلق باتوں میں الجھنے سے داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا ختم ہوتی ہے اور متعدل فضا کے بغیر کسی کو کوئی دعوت نہیں دی جا سکتی۔

 مسلمانوں پر لازم ہے کہ چھوٹی چھوٹی ناخوشگواریوں کو برداشت کریں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو وہ یقینی طور پر خدا کے نزدیک مجرم ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مدعو اقوام سے لڑ پڑنا اور اس کو جہاد بتانا صرف ان کے جرم میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ کسی بھی حال میں ان کو بری الذمہ قرار نہیں دیتا۔ یہ یقینی طور پر نفسانیت ہے، نہ کہ خدائی جہاد۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion