روزہ:اخلاقی ڈسپلن

روزہ ایک عبادت ہے۔ اسی کے ساتھ وہ اخلاقی ڈسپلن کی تربیت ہے ۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے ساتھ لوگوں کے درمیان زندگی گزارے۔ لوگوں کے ساتھ اس کا سلوک ذمہ دارانہ سلوک ہو نہ کہ بے قید سلوک۔ روزہ بتاتا ہے کہ تم اپنی آزادی کو محدود طور پر استعمال کرو نہ کہ لامحدود طور پر۔ روزه خود عائد کردہ پابندی (self-restraint) کا سبق ہے۔ یہ خود عائد کردہ پابند زندگی ہی تمام اصلاحات کی جان ہے۔

  ایک روایت کے مطابق ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے۔ پس جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو وہ نہ فحش گوئی کرے اور نہ شور کرے ۔ اور اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ کہ دے کہ میں تو روزہ دار ہوں:

وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ (صحیح البخاری، حدیث نمبر1904؛ مسند احمد، حدیث نمبر 7693)

روزہ بظا ہر کھانا اور پانی چھوڑنے کا نام ہے۔ مگر اسی کے ساتھ اس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ روزہ جس طرح آدمی سے یہ کہتا ہے کہ تم کھانا اور پینا چھوڑ دو، اسی طرح روزہ اس سے یہ بھی کہتا ہے کہ اگر تم سچے روزہ دار ہو تو تم کو چاہیے کہ تم گندی بات منہ سے نہ نکالو۔ تم شوروغل نه کرد حتی کہ اگر کوئی شخص تم کو گالی دینے لگے تب بھی تم اس کے جواب میں گالی نہ دو بلکہ یک طرفہ طور پر اس کو نظر انداز کر دو۔

یہ حدیث روزہ کی اسپرٹ کو بتاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان میں کھانے پینے کا ترک ایک علامتی ترک ہے۔ کھانے کا وقتی روزہ ایک اور مستقل روزہ کی تربیت ہے۔ یہ جزئی روزہ داری کے ذریعہ ایک وسیع تر روزہ داری کے لیے آدمی کو تیار کرنا ہے۔

اسلامی زندگی حقیقتاً ایک روزہ دارانہ زندگی ہے ۔ اسلام کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیا میں بے قید بن کر نہ رہے ۔ بلکہ وہ حرام و حلال میں فرق کرے ۔ وہ میٹھا بول بولے اور کڑوا بول نہ بولے۔ وہ لوگوں کے ساتھ انصاف کا سلوک کرے اور بے انصافی والے سلوک سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ لوگوں کے حقوق ادا کرے اور حق تلفی سے اپنے آپ کو دور رکھے ۔ روزہ گویا ایک سالانہ کورس ہے جس کے ذریعہ آدمی کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ سماج میں دوسروں کے ساتھ اخلاقی ڈسپلن کے ساتھ رہ سکے۔

اخلاقی ڈسپلن کی زندگی یک طرفہ برداشت کا تقاضا کرتی ہے ۔ وہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ آپ دوسروں کی طرف سے ناخوش گوار تجربہ پیش آنے کے باوجو د مشتعل نہ ہوں ۔ دوسروں کی زیادتی کو بھلا کر آپ ان سے معتدل انداز میں معاملہ کر سکیں ۔ یہ ایک کڑی آزمائش ہے اس لیے آدمی کو رمضان میں کھانے پینے جیسی ناگزیر ضرورت کے معاملہ میں برداشت کی روش پر چلایا جاتا ہے۔ کیوں کہ جو شخص زیادہ بڑی چیز کو برداشت کرلے اس کے لیے چھوٹی چیز کو برداشت کرنا آسان ہو جائے گا۔

حدیث میں ہے کہ مومن کی مثال اور ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے کھونٹی کے ساتھ رسی میں بندھا ہوا گھوڑا۔ وہ گھومتا ہے پھر وہ کھونٹی کی طرف واپس آجاتا ہے(مسند احمد، حدیث نمبر 11335)۔ روزہ بھی گویا اسی قسم کا ایک روک ہے۔ آپ روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں ایک شخص آپ کو کوئی بری بات کہہ دیتا ہے ، آپ کو غصہ آجاتا ہے۔ مگر فوراً ہی پیاس کی وجہ سے سوکھا ہوا حلق آپ کو یاد دلاتا ہے کہ آپ روزہ سے ہیں۔ آپ اپنے غصہ کو ضبط کرلیتے ہیں۔ اور کڑوا بول بولنے والے کو نرم انداز سے جواب دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

ایک شخص آپ کو جسمانی تکلیف پہنچاتا ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ اس کو تکلیف پہنچا کر اس سے انتقام لیں ۔ عین اسی وقت بھوک کی وجہ سے نڈھال جسم آپ کو یاد دلاتا ہے کہ آپ نے خدا کے لیے روزہ رکھا ہے۔ اس کے بعد آپ کے ہاتھ اور پاؤں رک جاتے ہیں۔ جس آدمی سے آپ انتقام لینا چاہتے تھے اس کے لیے دعا کر کے بات کو وہیں ختم کر دیتے ہیں۔

شیطان مختلف مواقع پر آپ کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس وقت روزہ آپ کا مددگار بن جاتا ہے ۔ روزہ کی تربیت اور روزہ کی عبادت سے آپ کے دل میں جو نرمی اور روح میں جو صفائی پیدا ہوتی ہے وہ آپ کے لیے شیطان کے حملوں کے مقابلہ میں ڈھال کا کام کرتی ہے۔ اور آپ کو شیطان کے فتنہ کا شکار ہونے سے بچالیتی ہے ۔

______________________________________________________

نوٹ:یہ تقریر آل انڈیا ریڈ یو (نیشنل چینل ) نئی دہلی سے 4مارچ 1994کو نشر کی گئی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion