ایک واقعہ
دہلی کے ایک مسلمان وکیل نے مجھ سے ایک واقعہ بیان کیا۔ ان کے یہاں ایک مسلمان آئے۔ انھوں نے بتایا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہوں، آپ طلاق نامہ کا مضمون بنا دیجئے۔ مذکورہ مسلمان اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاق دینا چاہتے تھے۔
وکیل صاحب اسلام کے قانون کو جانتے تھے۔ انھوں نے مذکورہ مسلمان سے کہا کہ ایک وقت میں تین طلاق دینا اسلام میں سخت برا ہے۔ آپ کو اگر طلاق دینا ہے تو اسلام کے مقررہ طریقہ کے مطابق تین طُہر میں اس کی تکمیل کیجیے۔ وہ راضی ہوگئے۔ واپس جاکر انھوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں تم کو ایک طلاق دیتا ہوں۔ مگر جب اگلامہینہ آیا تو ان کے جذبات ٹھنڈے پڑچکے تھے۔ انھوں نے اپنے سابقہ فیصلہ سے رجوع کرلیا اور اپنی بیوی سے دو بارہ تعلقات قائم کرلیے۔ وہ وکیل صا حب سے دوبارہ ملے اور کہا کہ آپ نے میرے ساتھ بہت احسان کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر میں نے جوش کی حالت میں اپنی بیوی کو اسی وقت آخری طلاق دےدیا ہوتا تو میرا گھر برباد ہوجاتا۔
