مایوسی نہیں
ایک شخص راستہ چل رہا تھا۔ اچانک اس نے محسوس کیا کہ اس کے آگے ایک کھائی ہے جس نے اس کے راستہ کو بند کر دیا ہے۔ اچانک اس کو محسوس ہوا کہ اب شاید اس کے لیے آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ تھوڑی دیر ٹھہر کر اس نے سوچا۔ اس کی سمجھ میں آیا کہ اگر وہ چند قدم پیچھے چلا جائے تو عین ممکن ہے کہ اس کو دوسرا متبادل راستہ مل جائے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ وہ کچھ دور پیچھے چلا تھا کہ اس کو ایک اور راستہ مل گیا۔ اس نے اس راستہ کو پکڑ لیا اور اس پر چلتا ہوا آگے نکل گیا۔
جب ایک راستہ آپ کو بند نظر آئے تو آپ مایوس نہ ہوں۔ اس دنیا میں ہر طرف راستے کھلے ہوئے ہیں۔ آپ اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو کام میں لا کر اس دوسری جانب سے اپنی منزل کو پہنچ سکتے ہیں۔
اس دنیا میں راستہ صرف اس انسان کے لیے بند ہے جو رکاوٹ کو جانے اور امکان کو نہ جانے۔ امکان کو جاننے والے کے لیے اس دنیا میں کبھی کوئی راستہ بند نہیں ہو تا۔
تاریخ میں بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ایک آدمی کو اپنے راستہ میں رکاوٹ پیش آئی یا کسی وجہ سے اس کا راستہ بند ہو گیا مگر وہ ہمت نہیں ہارا، اس نے اپنی عقل کو استعمال کیا۔ اس نے دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا۔ اس نے لوگوں سے مشورہ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اپنی مشکل کا حل دریافت کر لیا۔ اس نے اپنے لیے ایک اور کھلا ہوار استہ دریافت کر لیا جس پر چل کر وہ اپنا سفر جاری رکھ سکے اور آخر کار کامیابی کی منزل تک پہنچ جائے۔
مقابلہ کی اہمیت
آدتیہ و کرم بر لا آنجہانی گھنشیام داس برلا کے پوتے تھے۔ یکم اکتوبر 1995 کو بالٹی مور (امریکہ ) میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 51سال تھی۔ وہ 8 ہزار کرور روپیہ کے انڈسٹریل ایمپائر کے چیئر مین تھے۔ انھوں نے اپنی غیر معمولی لیاقت کے ذریعہ اپنے کاروبار کو ہندستان سے لے کر بیرونی ملکوں تک پھیلا دیا تھا۔
مسٹر آدتیہ برلا نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ انھوں نے بہت پہلے اس بات کو محسوس کر لیا تھا کہ تحفظ (protection) کی پالیسی انڈیا کی صنعت کے لیے مفید نہیں ہے۔ وہ کہتے تھے کہ بزنس میں صرف اس وقت ترقی ہو سکتی ہے جب کہ وہ بین الا قوامی معیار پر ٹھہر سکے :
Business can progress only when it is internationally competitive.
وہ نہایت حوصلہ مند انسان تھے۔ ان کے بارے میں ایک شخص نے کہا کہ دنیا ان کی مارکیٹ تھی اور اعلیٰ کار کردگی ان کا طریقہ تھا:
The world was his market and efficiency was his strategy.
وہ ہندستانی گورنمنٹ کی تحفظ کی پالیسی کے برابر خلاف تھے۔ انھوں نے ایک بار کہا کہ ہم مقابلہ سے نہیں ڈرتے بلکہ خود مقابلہ کو ہم سے ڈرنا چاہیے :
We are not afraid of competition, let competition be afraid of us.
یہی اس دنیا میں زندگی اور ترقی کا رازہے۔ خدا نے اس دنیا کا نظام مقابلے کے اصول پر قائم کیا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بڑی جگہ صرف اسی کو ملتی ہے جو مقابلہ کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتا ہو ۔ تحفظ اور مراعات کے ذریعہ اس دنیا میں کوئی بڑی کامیابی ملناممکن نہیں۔
مسائل کا سامنا کرنا آدمی کی قوت کو بڑھاتا ہے۔ وہ ایک عام انسان کو غیر معمولی انسان کےدرجہ تک پہنچادیتا ہے۔
