حافظہ کامسئلہ
ایک صاحب ہیں جواپنےماضی کی بعض تلخ یادوں کی وجہ سےسخت پریشان رہتے ہیں۔یہاں تک کہ اس کی وجہ سےان کی صحت خراب ہوگئی ہے۔ان کےسامنےمیں نے ایک اردوشاعرکاایک شعرپڑھا۔وہ شعریہ تھا:
یادماضی عذاب ہےیارب چھین لےمجھ سےحافظہ میرا
انہوں نےاس شعر کو سنتے ہی کہاکہ بہت خوبصورت شعرہے۔ ان کا تبصرہ سن کر میں نے کہا کہ میرے نزدیک تو یہ بہت بدصورت شعر ہے۔ پھر میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حافظہ ایک عظیم نعمت ہے۔حافظہ ہی کی وجہ سےہم چیزوں کو جانتے ہیں اور پہچانتے ہیں۔ اگر یہ دعاءقبول ہوجائےاورآدمی کاحافظہ ختم ہوجائےتووہ بظاہرایک انسان ہوگا مگر اپنی حقیقت کےاعتبارسےوہ بھیڑبکری سےبھی بدترہوجائےگا۔میں کئی ایسے آدمیوں کو جانتا ہوں جن کاحافظہ بڑھاپےیا بیماری کی وجہ سےختم ہوگیاتھا۔ان کاحال یہ ہواکہ وہ نہ کچھ بول سکتےتھےاورنہ کسی کوپہچانتےتھے۔وہ بےبسی کی حالت میں چندسال اسی طرح زندہ رہے اور پھر مرگئے۔
اس معاملہ میں سوچنےکاصحیح طریقہ یہ ہےکہ آدمی حافظہ کوختم کرنے کے بجائے حافظہ کی ناخوش گوارباتوں کوخوش گوار بنانےکی کوشش کرے۔وہ ان کاتجزیہ کرکے انہیں اپنےلیے غیرمؤثربنادے۔
مثلاً ایک شخص کے اوپر کسی آدمی کا قرض ہے۔ وہ قرض نہیں دےپارہاہےاوراس بناپروہ غم میں گھل رہا ہے۔ ایسےآدمی کےلیے صحیح طریقہ یہ ہےکہ قرض کواپناغم نہ بنائے۔ وہ اپنے آپ کواس سے بچائے کہ قرض کے مسئلہ کے ساتھ ایک اور مسئلہ اس کی زندگی میں شامل ہوجائے اور وہ ذہنی ٹینشن(mental tension)ہے۔جب کہ ٹینشن کامسئلہ بلاشبہ قرض کےمسئلہ سےزیادہ شدید ہے۔ قرض کامسئلہ اگرصرف مسئلہ ہے توٹینشن ایک قسم کی ذہنی خودکشی۔کامیاب زندگی کارازیہ ہےکہ آدمی اپنے آپ کواس نادانی سے بچائے کہ وہ ایک چھوٹے مسئلہ کواپنےلیے زیادہ بڑامسئلہ بنالے۔
