پاکبازی کی اہمیت

موجودہ زمانہ میں  صنفی اباحیت کا طریقہ بہت بڑے پیمانہ پر اختیار کیا گیا۔ مغربی دنیا میں  نکاح سے پہلے جنسی تعلق قا ئم کرنا عام ہوگیا، حتی کہ اس کو ایک فلسفہ بنا دیا گیا۔ کہا گیا مستقل شریک حیات کے انتخاب کے لیے یہ زیادہ محفوظ اور بہتر طریقہ ہے کہ پیشگی طورپرپوری طرح اس کا تجربہ کر لیا جائے۔ مرد اور عورت نکا ح سے پہلے اسی طرح کھلے طورپر ایک دوسرے سے ملنے لگے جس طرح ایک مرد اور ایک عورت نکاح کے بعد آزاد انہ طور پر ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

مگر یہ طر یقہ فطرت سے ٹكراؤ تھا۔ تخلیقی نظام کی خلاف ورزی نے ایسے ایسے مسائل پیدا کیے جن کا حل موجودہ ڈھانچہ میں  نا ممکن نظر آنے لگا۔ ان نتائج نے لوگوں کے اندر نظر ثانی کا ذہن پیداکیا۔ حتیٰ کہ اب خود وہی لوگ اس طریقہ کے مخالف ہورہے ہیں جواس سے پہلے نہایت پر جوش طور پر اس کی حمایت کررہے تھے۔

اس سلسلے میں  امریکا کی ایک بڑی سبق آموزرپورٹ اخبارات میں  شائع ہوئی ہے۔ اے ایف پی (AFP) کے حوالہ سے ٹا ئمس آف انڈیا(18 مارچ 1987) نے اس رپورٹ کا خلاصہ حسب ذیل الفاظ میں  نقل کیاہے:

A survey, carried out in America on more than 1400 college students aged 18-19, reveals that young women are more attracted to male virgins than they were 10 years ago. The New York psychologist, Mr Srully Blotnick, whose company carried out the survey, said: ‘‘The male virgin may not make the best lover, but usually he's eager to learn and he's the safest.’’ The safest, that is, from the risk of AIDS and other sexually transmittable diseases. Mr Blotnick said it was the risk of sexually-related diseases that makes the male virgins so attractive to women. His latest survey showed that 22 per cent of college women now want their next lover to be a virgin, compared to just nine per cent 10 years ago.

امریکا میں  کالج کے 1400 سے زیادہ طلبا کا جائزہ لیا گیا۔ ان طلبا کی عمریں 18-19 سال کی تھیں۔یہ جائزہ بتا تا ہے کہ امر یکہ کی نوجوان عورتیں ازدواجی تعلق کے لیے پا کبا ز مردوں کی طرف زیادہ راغب ہیں، جب کہ دس سال پہلے ایسا نہ تھا۔ نیویارک کے ماہر نفسیات مسڑسرولی بلاٹنک جن کی کمپنی نے یہ جائزہ لیا ہے، انھوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ پا کبا ز مرد بہت اچھا محبت کرنے والا نہ ہو مگر عام طور پر وہ سیکھنے کا شوق رکھتا ہے اور وہ محفوظ ہے۔ وہ ایڈز اور دوسری متعدی جنسی بیما ریوں کا خطرہ اپنے ساتھ لیے ہوئے نہیں ہوتا۔ مسڑبلاٹنک نے کہا کہ یہ دراصل جنس سے تعلق رکھنے والی بیماریوںکا خطرہ ہے جس نے پاکباز مرد کو عورتوں کی نظر میں  اتنا زیادہ جاذب بنا دیا ہے۔ ان کے اس جائزہ نے بتایا ہے کہ کالج کی عورتوں میں  اب 22 فی صد وہ ہیں جو پا کبازمرد چاہتی ہیں، جب کہ دس سال پہلے اس قسم کی عورتوں کی تعداد صرف 9 فی صد تھی۔

ہند ستان ٹائمس (19 مارچ 1987 ) نے امریکی نیوز ایجنسی کی اس خبر کو شائع کرتے ہوئے اس پر یہ سر خی قائم کی ہے— پا کباز مرد کی مقبولیت :

‘‘Male Virgins in Vogue.’’

شادی کے لیے پاکبازی کی شرط طرفین کے لیے صنفی آزادی میں  رکاوٹ تھی۔ چنانچہ آزادیِ نسواں کی تحریک کے ابتدائی دور میں  اس کا مذاق اڑایا گیا اور اس کو محض ایک مذہبی افسانہ قرار دیا گیا۔ مگر تجر بہ نے بتایا کہ یہ مذہبی افسانہ نہیں بلکہ ایک حیاتیا تی حقیقت ہے۔

اگر آپ اپنے لیے درست اور بے ضرر جوڑ اچاہتے ہیں تو آپ کو پا کبازی کی شرط کو قبول کرناپڑے گا۔ پا کبازی اس سے پہلے صرف ایک مذہبی حکم نظر آتی تھی۔ آج وہ صحت مند ازدواجی تعلق کے لیے ایک لازمی اصول کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ خدائی احکام کے مبنی برحقیقت ہونے کا یہ کیسا عجیب ثبوت ہے جو خود انسانی تجربہ نے موجودہ زمانہ میں  فراہم کیا ہے۔ اس کے بعد بھی آدمی اگر خدائی شریعت کی اہمیت کو نہ مانے تو یہ اس کی دھاندلی ہوگی، نہ کہ مبنی بر حقیقت رویہ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion