تہذیب جدید کا مسئلہ
موجود ہ زمانےمیں مغربی تہذیب نے بہت سے مسئلے پیداکیے ہیں۔ یہ مسئلے حقیقی سے زیادہ مصنوعی ہیں۔ مغربی تہذیب نے بہت سے معاملات میں غیرفطری انداز اختیار کیا۔ اس کے نتیجہ میں غیر فطری مسائل پیدا ہوئے۔ اس کے بعدمزید غلطی یہ ہوئی کہ انھوں نے غیر فطری طور پر ان کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح مسائل میں اضافہ ہوتا چلاگیا۔
انھیں میں سے ایک طلاق کا مسئلہ بھی ہے۔ مغرب میں آزادیِ نسواں کے نام پر جو تحریک شروع ہوئی وہ اپنے ابتدائی جذبہ کے اعتبار سے بالکل غلط نہ تھی۔ مگر اس کے علم بردار اس کی حد کو نہ جانتے تھے۔ چنانچہ آزاد سماج بنانے کی کوشش بالآ خراباحیت پسند سماج(permissive society)تک جاپہنچی۔ عورتوں اور مردوں کے درمیان لامحدود اختلاط شروع ہوگیا۔ اس نے نکاح کے بندھن کو کمزور کردیا۔ مرد اور عورت میاں اور بیوی نہ رہے بلکہ حدیث کے الفاظ میں ذوّاقین اور ذوّاقات بن گئے(المعجم الاوسط للطبراني، حديث نمبر 7848)۔ اس کو مزید تقویت صنعتی دور کی اس آسانی سے حاصل ہوئی کہ عورت فوراً ہی اپنے لیے آزاد معاش حاصل کرسکتی تھی۔ جدید صنعتی معاشرہ میں ایک عورت جتنی آسانی سے اپنے لیے ذریعہ معاش حاصل کرلیتی ہے۔وہ اس سے پہلے کبھی عورت کے لیے ممکن نہ تھا۔ اس کی وجہ سے مرد کی قوّامیت متاثر ہوئی اور عورتیں مرد کے زیر اثر رہنے پر راضی نہ ہوسکیں اور معاشرتی زندگی میں وہ مسائل پیدا ہوئے جنھوں نے طلاقوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھا دی۔
طلاق کو روکنے کے لیے مغربی حکماءنے یہ تد بیر کی کہ مرد پر یہ قانونی پابندی لگادی کہ طلاق کے بعدبھی اس پرلازم ہوگا کہ وہ عور ت کو گزارہ دیتا ر ہے۔ یہ گزارہ مغربی معیار کے مطابق مقرر ہوا۔ چنانچہ اکثرحالات میں طلاق کے معنی مرد کے لیے یہ ہوگئے کہ وہ اپنے سرمایہ کا بڑاحصہ اپنی مطلقہ بیوی کو دیدے اور مزید زندگی بھر کما کما کر اس کا حصہ اسے ادا کرتا رہے۔
اس غیر فطری صورت حال کی ایک مثال لارڈ بر ٹر ینڈر سل ہے۔
بر ٹر ینڈرسل (1872-1970) ایک نہایت ذہین اور تعلیم یافتہ انگریز تھا۔ اس کو ایک ایسی عورت درکار تھی جو اس کی ذہنی سطح کے مطابق اس کی رفیق حیات بن سکے۔ اس نے شادی کی مگر تجربہ کے بعد اس نے محسوس کیا کہ اس کی بیوی اس کی پسند کے مطابق نہیں ہے۔ ناموافقت ظاہر ہونے کے بعد اس نے فوراً اس سے علاحدگی اختیار نہیں کی۔ سخت ذہنی اذیت کے باوجود اس کے بعد وہ تقریباً دس سال تک اس کے ساتھ نباہ کرتا رہا۔ آخرکار اس نے اس کو طلاق دے کر دوسری شادی کی۔ دوسری عورت سے بھی نباہ نہ ہوسکا اور پھر اس کو چھوڑکر بر ٹر ینڈرسل کو تیسری شادی کرنی پڑی۔
یہ طلاق بر ٹر ینڈرسل کو بہت مہنگا پڑا۔ طلاق کے بعداس کو ازروئے قانون اپنی بیویوں کو جو رقم ادا کرنی پڑی اس نے برٹر ینڈ رسل کی معاشیات کو برباد کردیا۔ چنانچہ وہ اپنی سوانح عمری میں لکھتاہے:
The financial burden was heavy and rather disturbing: I had given £ 10,000 of my Nobel Prize cheque for a little more than £ 11,000 to my third wife, and I was now paying alimony to her and to my second wife as well as paying for the education of my younger son Added to this. there were heavy expenses in connection with my elder son's illness: and the income taxes which for many years he had neglected to pay now fell to me to pay.
(Bertrand Russell, Autobiography, 1978, pp. 563-64)
’’مالیاتی بوجھ میرے اوپر بہت بھاری اور پر یشان کن تھا۔ مجھ کو اپنے نوبیل انعام کے گیارہ ہزار پاؤنڈمیں سے دس ہزار پاؤنڈاپنی تیسری بیوی کو دے دینا پڑا۔ اور اب میں اس کو اور اپنی دوسری بیوی کو نان نفقہ کی رقم بھی ادا کررہا تھا۔ اور اسی کے ساتھ اپنے چھوٹے بچے کی تعلیم کی ادائیگی بھی میرے ذمہ تھی۔ مزید اضافہ یہ کہ میرے بڑے لڑکے کی بیماری کے سلسلہ میں بھی بھاری اخراجات تھے۔ اور اس لڑکے کئی سال کا انکم ٹیکس جو وہ ادا نہیں کر سکا تھا وہ بھی مجھ کو ہی ادا کرنا پڑا۔‘‘
مغرب کا یہ قا نون بظاہر عائلی زندگی میں اصلاح کے لیے بنا یا گیا تھا۔ مگر وہ مغربی ممالک کے لیے الٹا پڑا۔ بر ٹر ینڈ رسل کے مذکورہ تجربہ جیسے تجربات بے شمار لوگوں کو پیش آئے۔ لوگوں نے دیکھا کہ بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں انھیں اس کی بہت بڑی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ لوگوں کو نکاح کا طریقہ بے حدمہنگا معلوم ہوا۔ حتیٰ کہ ان کے اندر نکاح کے خلاف رجحان پیدا ہوگیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عورت اور مرد نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہنے لگے۔ چنانچہ آج مغرب کی نئی نسل میں تقریباً 50 فی صد وہ لو گ ہیں جو غیر منکوحہ بیویوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ جدید مغربی عورت کے بارے میں ایک رپورٹ کا خلاصہ اخبارات میں حسب ذیل الفاظ میں شائع ہوا ہے:
فرانس میں ایسے مردوں اور عورتوں کی تعداد تیز ی سے بڑھ رہی ہے جو نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہتے ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ فر انس میں 12 ملین شادی شدہ جوڑے ہیںاورایک ملین سے زیادہ غیر شادی شدہ جوڑے۔ 1972 سے روایتی نکاح کی تعداد میں بہت کمی واقع ہوئی ہے۔ امریکا کے بارے میں اعدادو شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عورتوں میں نکاح کی شرح تیزی سے کم ہورہی ہے کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ نکاح کی تعداد میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ امریکی عورتیں شادی اور روزگار میں ٹکراؤ محسوس کرتی ہیں۔ شادی شدہ زندگی کے ساتھ کام کرنا انھیں مشکل معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے بہت سے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے میا ں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا شروع کردیا ہے بغیر اس کے کہ انھوں نے باقاعدہ نکاح کیا ہو۔
عملی شادی ، ایک مرد اور ایک عورت کا ایک ساتھ رہنا بغیر اس کے کہ انھوں نے نکاح کیا ہو، نہ صرف یہ کہ ہیم برگ میں تیزی سے بڑھ رہا ہے بلکہ وہ ایک خاص جرمن انداز بنتا جارہا ہے۔ اب یہ رجحان پیدا ہورہا ہے کہ غیر شادی شدہ جوڑوں کے درمیان قانون دانوں کے ذریعہ زیادہ مفصل قسم کے معاہد ے کیے جائیں۔ پچھلے دس برسوں میں ایسے غیر شادی شدہ جوڑوں کی تعداد چارگنا بڑھ گئی ہے جو ایک ساتھ (میاں بیوی کی طرح) رہتے ہیں۔ یہ بات ایک حالیہ جائزہ میں بتائی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے دس برس کے دوران 18سال اور 25سال کے درمیان عمر کے لڑکوں اور لڑکیوں میں دس گنا حدتک عملی شادیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس طرح اب مغربی جرمنی میں ان جوڑوں کی تعداد بڑھ کر ایک ملین تک پہنچ جاتی ہے جو ہر صبح کو ایک ساتھ اٹھتے ہیں۔ حالاں کہ انھوں نے اپنے آپ کو نکاح کے بندھن میں نہیں باندھا۔
Togetherness Without Marriage
De Facto marriage—a man and a woman living together without being legally married—is not only on the increase in Hamburg. but has taken a special German twist with a trend to engage lawyers for elaborate contracts between the non-spouses.
In the last ten years, the number of unmarried couples living together has quadrupled according to a poll by Emnid, a market research agency. Among people in the 18-25 age bracket, there are actually ten times as many defacto marriages as ten years ago that adds up to one million West German couples who wake up every morning with one another, but have never tied the knot. (UNI-DPA)
(The Times of India, New Delhi, November 17, 1985)
Sociologists in France are puzzled why more and more men and women there prefer living together without marriage as ‘‘cohabiting couples’’ rather than as married couples. Though unmarried couples have no legal existence in France and there is insecurity over issues like custody and inheritance, the practice has caught on in a big way. Official statistics published in Le Monde reveal that against 12 million married couples in France, there are now over a million ‘‘cohabiting couples’’. Since 1972, the number of traditional marriages has been declining and hit its all time low in 1985. "What is happening to the institution of marriage?" ask sociologists.
Curiously, the cohabiting couples enjoy greater tax benefits than married couples. The tax deduction and allowance doubles up because of separate assessments and municipalities certify that a couple is cohabiting giving it the same welfare and public transport benefits as married couples. Sociologists including Pierrealain Audirac attribute the trend to four major causes.
Spread of contraceptives has made marriage unnecessary until a couple wants children; there is a reluctance to make long-tenn commitments; working women enjoy greater independence and can stay unmarried or get divorced more easily and pervasive unemployment as changed attitudes. According to the United States' National Centre For Health Statistics. the marriage rate for American women is at an all time low. Its lates survey reveals that for the first time since 1940, the marriage rate for single women in the 15-44 age group has dropped below the magic figure of 100 per 1,000. This has naturally reflected in the number of marriages. While in 1982, over 2.5 million marriage were performed, a year later this number came down to 2.445, 604.
Some sociologists have suggested that for good or bad, American women, especially those belonging to the middle and upper middle class, see a conflict between marriage and their pursuit of a career. Indeed, despite the resurgence of traditionalism, women are forgoing the marriage option because of an increasing acceptance of men and women living together without tying the matrimonial knot. Furthermore, there is even less disapproval of unmarried women having children.
(The Times of India, New Delhi, May 17, 1986)
