فلسطین:ایک علامت
فلسطینی مسلمان1948ء میں اپنے وطن فلسطین سے بے گھرکیے گئے۔ اس کے بعد وہ اطراف کے علاقوں مصر اور شام اور اردن سے نکالے گئے۔ لبنان ان کا آخری مرکز تھا، اب 1982ء میں وہ یہاں سے بھی نکلنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ پچھلے 35 سال سے ان پر جتنا ظلم ہو رہا ہے اتنا ظلم شاید اسلامی تاریخ کے کسی دور میں کسی بھی مسلم گروہ پر نہیں ہوا۔
یہ معاملہ کوئی سادہ یا مقامی معاملہ نہیں۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جس کا تعلق ساری دنیا کے مسلمانوں سے ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ تمام دنیا کے مسلمان کے لیے ایک انتباہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان بحیثیت مجموعی خدائی عتاب کی زد میں ہیں اور فلسطینی مسلمانوں کا معاملہ اس کی ایک علامت ہے۔ خدا مسلمانوں کو رد کر چکا ہے۔ اور یہ اس کے باوجود ہے کہ ان کے درمیان ایسے بزرگ موجود ہیں جو بین الاقوامی اسٹیج پر کھڑے ہو کر یہ تقریر کر رہے ہیں کہ:اِكْتَشَفَتِ الْأُمَّةُ الْعَرَبِيَّةُ نَفْسَهَا (عرب قوم نے اپنے آپ کو دریافت کرلیا)۔ ان میں ایسے مفکرین اسلام موجود ہیں جو موجودہ عہد کو اسلام کا عہد بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ان کے درمیان آج اسلام کے نام پر اتنی سرگرمیاں جاری ہیں کہ وہ یہ کہنے کی پوزیشن میں ہیں کہ ہم نے سارے عالم میں اسلام کی ہوائیں چلا دی ہیں۔
