خدا کی مدد

ہجرت کے چھٹے سال حدیبیہ کے مقام پر جودس سالہ معاہدہ کیا گیا، اس کی ایک دفعہ یہ تھی۔’’ قریش کا جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے گا۔ اس کو آپ واپس کردیں گے اور آپ کے ساتھیوں میں  سے جو شخص قریش کے پاس چلا جائے گا اس کو وہ واپس نہ کریں گے؛ اس معاہدے کی تکمیل کے وقت قریش کی نمائندگی سہیل بن عمروکر رہے تھے معاہدہ ابھی لکھا ہی جارہا تھا کہ سہیل بن عمرو کے لڑکے ابوجندل آگئے۔ وہ مسلمان ہوگئے تھے۔ مگر مکہّ والوں نے ان کو قید کر رکھا تھا۔ مکہ سے حدیبیہ (موجودہ شمیسی ) تک 13 میل کا فاصلہ طے کر کے وہ اس طرح آپ کے کیمپ میں  پہنچے کہ اب بھی ان کے پیر وں میں  بیڑیاں تھیں اور جسم پر مارپیٹ کے نشانات تھے۔ انھوں نے آپ سے فریاد کی کہ مجھ کو اس قید سے نجات دلائی جائے۔ صحابہ کے لیے بھی اپنے مومن بھائی کی یہ حالت دیکھ کرضبط کرنا مشکل ہوگیا۔ مگر سہیل بن عمرونے کہاکہ معاہدہ کی تحریر چاہے مکمل نہ ہوئی ہو ، شرائط تو ہمارے اور آپ کے درمیان طے ہوچکی ہیں۔اس لیے ابوجندل کو ہمارے حوالہ کیا جائے۔ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے اس دلیل کو تسلیم کرتے ہوئے ابوجندل کو ان کے حوالہ کردیا۔

اور وہ روتے ہوئے مکہ واپس گئے۔ اسی طرح ابو بصیر اور دوسرے مسلمان جو قریش کی قید سے بھاگ کر مدینہ آئے، ان کو حسب معاہدہ قریش کو واپس کیا جاتا رہا۔

مگر اس کے بر عکس مسلمان عورتوں کے معاملہ میں  اس اصول کی پابندی نہیں کی گئی۔ قرآن میں  آیت اتری:

’’ اے ایمان والو، جب مومن عورتیں ہجرت کركے تمہارے پاس آئیں تو ان کی جانچ کرلو، پھر جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومن ہیں تو ان کو کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ ‘‘(60:10)

اس سلسلے میں  ، مثال کے طور پر یہ واقعہ آتا ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچیں مکہ والوں کو معلوم ہوا تو انھوں نے معاہدہ کا حوالہ دے کر ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ام کلثوم کے دوبھا ئی ولید بن عقبہ اور عمارہ بن عقبہ انھیں واپس لے جانے کے لیےمدینہ آئے۔ اس کے باو جود ان کو واپس نہیں کیا گیا(مغازي للواقدي، جلد 2، صفحه 631)۔

بظاہریہ معاہدہ کی خلاف ورزی تھی۔ اور قریش کے لیے زبر دست موقع تھا کہ وہ آپ کی بد عہدی کا شور مچاکر آپ کو بد نام کریں۔ مگر قریش آپ کے ساتھ انتہائی دشمنی کے باوجود بالکل خاموش ہوگئے انھوںنے اس کے خلاف احتجاج تک نہ کیا۔ ایسا کیو ں کر ہوا۔ سیرت اور تفسیر کی عام کتابوں میں  اس کا کوئی جواب نہیں ملتا۔ قاضی ابوبکر ابن العربی نے لکھاہے کہ قریش اس لیے خاموش ہوگئے کہ اﷲ تعالیٰ نے بطور معجزہ اس معاملہ میں  ان کی زبان بند کردی تھی (احكام القرآن لابن العربي، جلد 4، صفحه 229)۔ بلا شبہ یہ اﷲتعالیٰ کی مد د تھی۔ مگر ان معنوں میں  نہیں جن معنوں میں لفظ ’’ معجزہ‘‘ عام طور پر بولاجاتاہے۔

معاہدہ کے الفاظ پر غور کرکے اس کی حقیقت سمجھی جاسکتی ہے۔ دوسری اکثر روایات کی طرح معاہدہ حدیبیہ کی شرائط بھی اکثر راویوں نے اپنے اپنے الفاظ میں  بیان کی ہیں۔ مثال کے طورپر زیر بحث شرط کے متعلق مختلف روایتوں کے الفاظ ملا حظہ ہوں:

1۔      مَنْ ‌جَاءَ ‌مِنْكُمْ ‌لَمْ ‌نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ ، وَمَنْ جَاءَكُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا

        )صحيح مسلم، حديث نمبر 1784(

2۔      مَنْ أَتَى مُحَمّدًا مِنْهُمْ بِغَيْرِ إذْنِ وَلِيّهِ رَدّهُ إلَيْهِ

        (مغازي الواقدي، جلد 2، صفحه 611)۔

3۔      مَنْ أَتَى مُحَمَّدًا مِنْ قُرَيْشٍ بِغَيْرِ إذْنِ وَلِيِّهِ رَدَّهُ عَلَيْهِمْ

        )سيرت ابن هشام، جلد 2، صفحه 317(

4۔      لَا ‌يَأْتِيكَ ‌مِنَّا رَجُلٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ ‌إِلَيْنَا

        (صحيح البخاري، حديث نمبر 2731-32)۔

آخری روایت بخاری ( كتاب الشروط، ‌‌بَابُ‌الشُّرُوطِ فِي الْجِهَادِ وَالْمُصَالَحَةِ) کی ہے اور باعتبار سند قوی ہونے کی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ غالباً معاہدہ کی مذکورہ شرط کے اصل الفاظ یہی تھے۔اگر یہ مان لیا جائے تو اس فقرہ میں  رجل (مرد) کے لفظ نے مسلمانوں کو موقع دیاکہ وہ مکہ سے آئی ہوئی مسلم خواتین کو اس دفعہ سے مستثنیٰ قرار دے سکیں۔

معاہدہ کی یہ شرط مسلمانوں کی طرف سے نہ تھی بلکہ مکہ والوں کی طرف سے تھی۔ ان کی جانب سے سہیل بن عمرو نے معاہدہ میں  دفعہ کے یہ الفاظ لکھوائے تھے۔ہوسکتا ہے کہ دفعہ کے الفاظ لکھواتے وقت سہیل کے ذہن میں  ’’ کوئی شخص ‘‘ کا مفہوم ہوجس میں  عورت اور مرد دونوں شامل ہوتے ہیں مگر اپنے اس ذہنی مفہوم کو لفظ کی شکل دیتے ہوئے اس کی زبان سے جو لفظ نکلا وہ ’’ رجل‘‘ تھا جو عربی زبان میں  صرف مرد کے لیے بولا جاتا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ام کلثوم بنت عُقبہ کے مدینہ پہنچنے کے بعد جب آپ کے بھائی رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں  حاضرہوئے اور اپنی بہن کی واپسی کا مطالبہ کیا تو امام زُہری کی روایت کے مطابق ، آپ نے ان کو واپس دینے سے انکار کردیا اور فرمایا:کَانَ الشَّرْطُ فِی الرِّجَالِ دُونَ النِّسَاء ( شرط مردوں کے بارے میں  تھی، نہ کہ عورتوں کے بارے میں ) احکام القرآن لابن العربی ،جلد 2، صفحه 229؛ تفسیر رازی، جلد 29، صفحه 522)۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ سے پہلے تک خود قریش بھی غالباً اس غلط فہمی میں  تھے کہ معاہدہ کی یہ دفعہ ہر طرح کے مہاجرین کے بارے میں  ہے خواہ وہ مرد ہوں یا عورت۔ مگر جب آپ نے توجہ دلائی کہ معاہدہ میں  رجل ( مرد) کا لفظ لکھا ہوا ہے تو انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اﷲ تعالیٰ نے ایک لفظ کے ذریعہ مسلم خواتین کو ذلّت کی واپسی سے بچالیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion