بچوں کے لیے زیادہ بہتر تحفہ
جو لوگ زیادہ بڑی ترقی حاصل نہ کر سکیں وہ اکثر اس احساس میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ کیا کریں کہ اُن کے بچے اُس معاشی کمی میں مبتلا نہ ہوں جس میں وہ خود مبتلا ہوئے۔ اس احساس کے تحت وہ ایک ایسی چھلانگ لگا دیتے ہیں جو نتیجہ کے اعتبار سے اُن کے لیے برعکس ثابت ہوتی ہے۔
یہ بچوں کے بارے میں سوچنے کا صحیح طریقہ نہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے صحیح فارمولا یہ ہے کہ— اپنے لیے قناعت، اور بچوں کے لیے ترقی۔ یعنی حالات کے اعتبار سے آپ جس معاشی کامیابی تک پہنچے ہیں اس پر قناعت کرتے ہوئے زندگی گزاریے۔ اس معاملہ کو بچوں کے اوپر چھوڑ دیجیے کہ وہ وسیع دنیا میں ہاتھ پاؤں ماریں اور اپنی محنت کے ذریعہ زیادہ ترقی حاصل کریں۔ آپ بچوں کے لیے صرف ابتدائی زینہ بننے پر قانع ہو جائیے۔ اگلے زینوں پر چڑھنا اور اوپر کی منزل تک پہنچنا یہ بچوں کے لیے چھوڑ دیجیے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی باپ کی طرف سے اپنے بچوں کے لیے سب سے بہتر عطیہ یہ نہیں ہے کہ وہ اُن کے لیے دولت کا ڈھیر چھوڑے۔ اس کے برعکس، زیادہ بہتر عطیہ یہ ہے کہ وہ بچوں کو ایسے حالات دے سکے جو انہیں عمل پر ابھارنے والے ہوں۔ بچوں کے اندر محنت کا جذبہ ہونا سب سے بڑا سرمایہ ہے، نہ کہ باپ کی طرف سے ملی ہوئی دولت۔ محنت کے بغیر جو دولت ملے وہ کوئی اچھی چیز نہیں۔ اس قسم کی دولت وہ چیز ہے جس کو ایزی منی (easy money) کہا جاتا ہے۔ اور یہ ایک ثابت شدہ واقعہ ہے کہ ایزی منی اس کے پانے والے کو فائدہ کم پہنچاتی ہے اور نقصان زیادہ۔
