صحابہ کی شادی
دوراول میں شادی کوئی دھوم کی چیز نہ تھی۔ وہ ایک ایسی چیز تھی جس کو بس سادہ طورپر انجام دے لیا جائے۔ اس کے رسوم اور اس کے اخراجات اتنے مختصر ہوں کہ وہ طر فین کے لیے کسی بھی اعتبار سے بوجھ نہ بنے۔ صحابہ کے یہاں شادی کی تقر یب ہر قسم کے تکلف اور نمائش سے با لکل خالی ہوتی تھی۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم بوجھ ہو:إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مَؤُونَةً (مسنداحمد، حديث نمبر24529)۔ اور کم بوجھ والا نکاح یقیناً وہ ہے جو اپنے موجودہ وسائل کے ذریعے آسانی کے ساتھ ہوجائے، نہ کہ وہ جس کا تحمل اس کے وسائل نہ کر سکتے ہوں۔
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا معاملہ آیا جس کا نکاح ایک خاتون سے طے ہوا تھا۔ آپ نے اس سے پو چھا کہ تمہارے پاس مَہر دینے کے لیے کیا ہے۔ اس نے کہا کہ کچھ نہیں۔ آپ نے دوبارہ پوچھا۔ اس نے کہا کہ میر ے پاس کچھ بھی نہیں۔ اس کے بعد آپ نے اس سے یہ نہیں کہا کہ تم جاکر کسی سے قر ض لاؤ اورپھر اس کے ذریعہ سے نکاح کرو۔ بلکہ اگلا سوال آپ نے یہ کیا کہ کیا تمہارے پاس کچھ قرآن ہے ( قر آن کا کچھ حصہ تم کو یاد ہے) اس نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا جاؤ، میں نے قرآن کے اسی محفوظ حصہ کو مہر قرار دے کر اس خاتون کے ساتھ تمہارا نکاح کردیا:زَوَّجْتُكَها بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ (صحيح البخاري، حديث نمبر 5132)۔
مشہور صحابی حضرت عبد الر حمن بن عوف نے مدینہ میں شادی کی۔ اس وقت مدینہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ مگر انھوں نے بس خاموشی سے ایک خاتون کے ساتھ نکاح کر لیا۔ اس سلسلہ میں امام احمدؒ نے مفصل روایت نقل کی ہے جس کا ایک حصہ یہ ہے:
فَجَاءَ وَعَلَيْهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ’’:مَهْيَمْ‘‘ فَقَالَ:يَا رَسُولَ اللهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ’’:مَا أَصْدَقْتَهَا؟‘‘ قَالَ:وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ(مسند احمد،حديث نمبر13863)يعني، حضرت عبدالرحمن بن عوف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان کے اوپر زعفران کی خوشبو کا اثر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اس کو کتنا مہر دیا۔ انھوں نے کہا کہ کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابرسونا۔
