تعدّ دِ ازواج
قرآن میں اجتماعی زندگی کے بارے میں جو احکام دیےگئے ہیں، ان میں سے ایک حکم وہ ہے جو تعددازواج ( چار عورتوں تک نکاح کرنے) کے بارے میں ہے۔ اس سلسلے میں آیت کے الفاظ یہ ہیں:
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً (4:3)۔یعنی، اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیم بچوں کے معاملہ میں انصاف نہ کر سکو گے تو (بیوہ) عورتوں میں جو تم کو پسند ہوں ان سے دو دو، تین تین ، چار چار سے نکاح کر لو۔ اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی نکاح کرو۔
یہ آیت غزوۂ احد (شو ال 3ھ) کے بعد اتر ی۔ اس کا شانِ نزول یہ ہے کہ اس جنگ میں 70 مسلمان شہید ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ سے مدینہ کی بستی میں اچانک 70 گھر مردوں سے خالی ہوگئے۔ نتیجۃً یہ صورت حال پیش آئی کہ وہا ں بہت سے بچے یتیم اور بہت سی عورتیں بیوہ ہوگئیں۔ اب سوال پیدا ہوا کہ اس معاشرتی مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے۔ اس وقت قرآن میں مذکورہ آیت اتر ی اور کہا گیا کہ جو لوگ استطاعت رکھتے ہوں وہ بیوہ عورتوں سے نکاح کر کے یتیم بچوںکو اپنی سر پرستی میں لے لیں۔
اپنے الفاظ اور اپنے شانِ نزول کے اعتبار سے بظاہر یہ ایک وقتی حکم نظرآتا ہے۔ یعنی اس کا تعلق اس صورت حال سے ہے جب کہ جنگ کے نتیجے میں آبادی کے اندر عورتو ں کی تعداد زیادہ ہوگئی تھی اور مردوں کی تعد اد کم۔مگر قرآن اپنے نزول کے اعتبار سے زمانی ہونے کے باوجود ، اپنے اطلاق کے اعتبار سے ایک ابدی کتاب ہے۔ قرآن کے اعجاز کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ وہ زمانی زبان میں ابدی حقیقت بیان کرتا ہے۔ اس کا یہ حکم بھی اس کی صفتِ خاص کا مظہر ہے۔
زیادہ شادی کا معاملہ صرف مرد کی مرضی پر منحصر نہیں۔ اس کی لازمی شرط (inescapable condition)یہ ہے کہ معاشرہ میں زیادہ عورتیں بھی موجود ہوں۔ اگر زمین پر ایک ہزار ملین انسان بستے ہوں ، اور ان میں 500 ملین مرد ہوں اور 500 ملین عورتیں، توایسی حالت میں مردوں کے لیے ممکن ہی نہ ہوگا کہ وہ ایک سے زیادہ نکاح کریں۔ ایسی حالت میں ایک سے زیادہ نکاح صرف جبر اً کیاجاسکتاہے، اور جبری نکاح اسلام میں جائز نہیں۔ اسلامی شریعت میں نکاح کے لیے عورت کی رضامندی ہر حال میں ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس طرح عملی طور پر دیکھیے تو قرآن کے مذکورہ حکم کی تعمیل صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ سماج میں وہ مخصوص صورت حال پائی جائے جو اُحد کی جنگ کے بعد مدینہ میں پائی جارہی تھی، یعنی مردوں اور عورتوں کی تعداد میں نابرابری۔ اگر یہ صورت ِ حال نہ پائی جارہی ہو توقرآن کا حکم عملاً ناقابل نفاذ ہوگا۔ مگر انسانی سماج اور انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قدیم مدینہ کی صورت حال محض وقتی صورت حال نہ تھی، یہ ایک ایسی صورتِ حال تھی جو اکثر حالات میں زمین پر موجود رہتی ہے۔ مذکورہ ہنگامی حالت ہی ہماری دنیا کی عمومی حالت ہے۔ یہ قرآن کے مصنف کے عالم الغیب ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے اپنی کتاب میں ایک ایساحکم دیا جو بظاہر ایک ہنگامی حکم تھا، مگر وہ ہماری دنیا کے لیے ایک ابدی حکم بن گیا۔
