حکم آنے کے بعد
شراب اور جوا اسلام میں حرام ہیں۔ مگر ان کے بارے میں احکام بتدریج اتارے گئے۔ شروع میں یہ آیت اتری کہ شراب اور جوا گناہ کے فعل ہیں، اگرچہ اس میں لوگوں کے لیے کچھ ظاہری فائدے بھی ہیں (2:219)۔
اس وقت عرب کے لوگ جوئے اور شراب کے عادی تھے۔ انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں صاف لفظوں میں منع نہیں کیا گیا ہے تو یہ کہہ کر بدستور ان میں مشغول رہے کہ یہ دونوں چیزیں ہم پر حرام نہیں کی گئی ہیں۔ صرف یہ کہا گیا ہے کہ ان میں گناہ ہے اور کچھ فائدہ بھی:فَقَالَ النَّاسُ مَا حَرَّمَا عَلَيْنَا إِنَّمَا قَالَ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ (تفسير ابن كثير ، جلد3، صفحہ 161) ۔
اس کے بعد سورۃ المائدۃ میں صاف حکم اترا کہ شراب اور جوا گندی چیزیں ہیں اور شیطانی فعل ہیں، تم ان سے بچو (5:91)۔ یہ حکم دیتے ہوئے جب قرآن میں یہ الفاظ آئے کہ:فَهَلْ أَنتُمْ مُنْتَهُونَ—یعنی، کیا تم ان سے باز آؤ گے۔ تو صحابہ کرام بول اٹھے:انْتَهَيْنَا رَبَّنَا، انْتَهَيْنَا رَبّنا— یعنی ، اے ہمارے رب ہم باز آئے، اے ہمارے رب ہم باز آئے (تفسیر الطبری، جلد 10، صفحہ 572) ۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کو اسے سنایا۔ وہ شراب پیتا تھا اور اس کے گھر میں شراب موجود تھی۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں:
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَا فُلَانُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللهَ حَرَّمَهَا؟ فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلَى غُلَامِهِ فَقَالَ:اذْهَبْ فَبِعْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم:يَا فُلَانُ بِمَاذَا أَمَرْتَهُ؟ فَقَالَ:أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعَهَا. قَالَ إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَافَأَمَرَ بِهَا فَأُفْرِغَتْ فِي الْبَطْحَاءِ (مسند احمد، حدیث نمبر 2041)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہااے شخص ، کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ نے شراب کو حرام کردیا ہے۔ اس کے بعد اس شخص نے اپنے لڑ کے سے کہا کہ جاؤ شراب کو بیچ دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاکہ اے شخص تم نے اپنے لڑکے کو کیا حکم دیا ہے۔ آدمی نے کہا میں نے یہ حکم دیا ہے کہ وہ شراب کو بیچ دے۔ آپ نے فرمایا، جس چیز کا پینا حرام ہے اس کا بیچنا بھی حرام ہے اس کے بعد اس نے حکم دیا اور اس کی شراب بطحاء میں بہا دی گئی۔
مومن کے اندر بھی وہی جذبات ہوتے ہیں جو دوسرے انسانوں میں ہوتے ہیں۔ کبھی خواہش کے زیر اثر وہ لفظی تاویل کرتا ہے، کبھی اس کے اوپر مال کی محبت غالب آ جاتی ہے۔ مگر یہ سب اس وقت تک ہے جب تک خدا کا حکم اس کے سامنے نہ آئے۔ خدا کا واضح حکم سامنے آتے ہی وہ اس کے آگے جھک جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ لفظی تاویلوںکو بھی بھول جاتا ہے اور اسی کے ساتھ مال یا کسی دوسری چیز کی محبت کو بھی۔
موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان یہ نہیں ہے کہ وہ فرشتہ ہونے کا ثبوت دے۔ یعنی کبھی کوئی غلطی نہ کرے اور نہ کبھی کوئی برا خیال اس کے دل میں آئے۔ اس قسم کی پارسائی فرشتوں سے مطلوب ہے، نہ کہ انسان سے۔ انسان سے اس کے رب کو جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ تنبیہ کے بعد غلطی پر اصرار نہ کرے۔
انسان کو جن جذبات کے ساتھ پیداکیا گیا ہے اور جس قسم کی دنیا میں اس کو رکھا گیا ہے، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کے دل میں غلط خیالات آئیں گے۔ وہ غلط باتیں سوچے گا اور عملاً بھی غلط کام کر گزرے گا۔ مگر اس قسم کی کسی غلطی کو وقتی غلطی ہونا چاہیے ، نہ کہ مستقل۔ جب بھی آدمی کا ضمیر ٹو کے یا کوئی خارجی آواز اس کی غلطی پر اس کو متنبہ کرے تو اس وقت اس کو ضد اور ہٹ دھرمی کے بجائے سیدھے طریقہ پر اپنی غلطی کا اعتراف کر لینا چاہیے اور فوراً اپنی اصلاح کی کوشش میں لگ جانا چاہیے۔
انسان کا کمال غلطی کر کے دوبارہ پلٹ آنے میں ہے، نہ کہ سرے سے غلطی نہ کرنے میں ۔ غلطی ہو جانا جرم نہیں ہے۔ بلکہ غلطی پر قائم رہنا جرم ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جنت ان متقیوں کے لیے ہے جن کا حال یہ کہ جب وہ کوئی برائی کر بیٹھیں یا اپنی جان پر کوئی ظلم کر ڈالیں تو وہ اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کرے اور وہ جانتے ہوئے اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے (3:135)۔
