آزادانہ تحقیق کا نتیجہ

قدیم زمانے میں مذہب کو صرف تقدس کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا۔ لوگوں  کے ذہنوں پریہ تصور چھایا ہواتھاکہ مذہبی عقائد اس سے بلند ہیں کہ ان کو کسی جانچ اور بحث کا موضوع بنایاجائے۔ مگر موجودہ زمانے میں سائنس کے زیر اثر جو فکری انقلاب آیا ہے، اس  نے تحقیق (inquiry) کو سب سے زیادہ اونچا درجہ دے دیا ہے۔ آج کا انسان یہ سمجھتا ہے کہ ہر چیز کی آزادانہ تحقیق (free inquiry) ہونی چاہیے۔ کسی بات کو صرف اس وقت ماننا چاہیے جب کہ آزادانہ تحقیق کی کسوٹی پروہ ثابت شدہ بن گئی ہو۔

جدید انسان نے اس فکر کا استعمال جس طرح جامد مادہ کی دنیا میں کیا، اسی طرح اس نے اس کا استعمال مذہب پر بھی کیا۔ مذہبی کتابوں اور ان کی تعلیمات کی جانچ کی جانے لگی۔ اس جانچ نے پہلی بار خالص علمی سطح پر یہ ثابت کیا کہ اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب غیر معتبر ہیں۔ علمی اور تاریخی اعتبار سے وہ قابلِ اعتماد نہیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔

مسیحیت کی بنیادتثلیث (trinity)کے عقیدہ پرقائم ہے۔ آپ کسی مسیحی عالم سے عقیدۂ خدا پر گفتگو کریں تو وہ کہے گا کہ خدا کی فطرت تثلیث ہے:

‘‘The nature of God is trinity.’’

تثلیث کا مطلب ، ارباب چرچ کی تشریح کے مطابق ، تین میں ایک ، ایک میں تین (3 in one, one in 3) ہے۔ اب آج کا انسان جو ہر معاملے کو عقل سے سمجھنا چاہتا ہے وہ عیسائی عالم سے سوال کرتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک اور ایک اور ایک مل کر ایک ہوں:

How can 1+1+1=1?

مسیحی عالم پہلے ناقابل فہم اصطلاحوں میں اس کو سمجھانا چاہے گا اور جب وہ دیکھے گا کہ جدید ذہن اس کے جواب سے مطمئن نہیں ہو رہا ہے تو آخر کار وہ یہ کہہ دے گا کہ وہ چیزیں ہیں جن کو ہم سمجھ نہیں سکتے:

‘‘These are things that we cannot understand.’’

مگر اس قسم کا کوئی جواب جدید انسان کے لیے ناقابل فہم اور ناقابلِ قبول ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ جب وہ کائنات کامطالعہ کرتا ہے تو کائنات پوری طرح معلوم ریاضیاتی ڈھانچہ (mathematical frame) میں ڈھل جاتی ہے۔ چنانچہ ایک سائنس داں کو اسے دیکھ کر یہ کہنا پڑا کہ کائنات کا خالق ایک اعلیٰ درجہ کا ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) ہے۔ مگر خود خالق کے عقیدے کو مسیحیت جس انداز میں پیش کرتی ہے وہ سراسر غیر ریاضیاتی اور غیر عقلی ہے۔

اس صورت حال نے جدید انسان کو ایک نازک مقام پر کھڑا کر دیا ہے۔ اپنی فطرت کے زور پروہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے خدا کو پائے۔ وہ خالق کائنات پر ایمان لا کر اس کا پرستار بن جائے۔ مگر مروّجہ مذاہب اس کے سامنے خدا کا جو تصور پیش کر رہے ہیں وہ اس کی فطرت کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے اور اس کے علمی اور عقلی ڈھانچےکے بھی خلاف ۔

اس طرح جدید فکری انقلاب نے آج کے انسان کو عین اسلام کے کنارے پہنچا دیا ہے۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے کہ انسان کے سامنے توحید کا سچا تصور پیش کیا جائے جو فطرت اور علم دونوں کے عین مطابق ہے۔ یہاں دونوں باتوں میں وہ ٹکراؤ نہیں جو موجودہ محرف مذاہب میں پایا جا رہا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion