دوسرا چانس
دہلی میں ایک ڈگری کالج ہے جس کو ایک ہندو سنستھا چلاتی ہے۔ اس میں لکچرر شپ کی ایک جگہ نکلی۔ جن لوگوں نے درخواست دی ان میں سے ایک مسلمان بھی تھے ۔ انٹرویو ہوا تو ایک ہند و امیدوار کو چن لیا گیا مسلم امیدوار نا کام کر دیے گئے۔
مذکورہ مسلمان سے میری ملاقات ہوئی تو وہ بہت جھنجلائے ہوئے تھے ۔ انھوں نے اس کو تعصب کا معاملہ سمجھا ۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اس کے خلاف اخبار میں لکھیں اور مذکورہ کالج کے تعصب کو اکسپوز کریں۔ میں نے انھیں منع کیا۔ میں نے کہا کہ ابھی تو آپ نے صرف ایک چانس کو کھویا ہے ۔ زندگی میں ہمیشہ ایک چانس کے بعد دوسرا چانس آتا ہے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ پہلے چانس کے کھوئے جانے پر بد دل نہ ہو بلکہ دوسرے چانس کا انتظار کرے۔
ایک سال کے بعد پھر اسی کالج میں ایک لکچر رکی جگہ نکلی۔ اس کا اعلان اخبار میں چھپا تو مذکورہ مسلمان نے دوبارہ اس کے لیے اپنی درخواست بھیج دی۔ اس بار ایسا ہوا کہ لکچر شپ کی اس جگہ کے لیے مذکورہ مسلمان کے علاوہ دو ہندو امیدوار بھی تھے ۔ دونوں کو دو طاقتور ہندوؤں کا سپورٹ حاصل تھا۔ یہ ایک نازک مسئلہ تھا۔ کالج کے ذمہ دار دونوں ہندوؤں کو نہیں لے سکتے تھے اور ان میں سے ایک کو لینے کا مطلب یہ تھا کہ دوسرے ہند و امیدوار کا سپورٹر نا راض ہو جائے ۔ اس نزاکت کاحل انھوں نے یہ تلاش کیا کہ دونوں ہندوؤں کو چھوڑ کر مذکورہ مسلمان کو منتخب کرلیا۔ یہ مسلمان ابھی تک اسی کالج میں کام کر رہے ہیں اور اب انھوں نے دلّی میں اپناذاتی گھر بنا لیا ہے۔
یہی زندگی میں کامیابی کا راز ہے ۔ اگر آپ سے پہلا چانس کھو جائے تو آپ ہرگز بددل نہ ہوں۔ بلکہ سادہ طور پر صرف یہ کریں کہ دوسرے چانس کا انتظار کریں ۔ اگر آپ ایسا کر سکیں تو یقینی طور پر دوسرا چانس آپ کے لیے آئے گا اور جو کامیابی آپ کو پہلی کوشش میں نہیں ملی تھی وہ بلا شبہ دوسری کوشش میں آپ کو مل جائے گی۔ دنیا مواقع سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں ہر ایک موقع کے بعد دوسرا موقع آتا ہے ، ٹھیک اسی طرح جیسے تاریک شام کے بعد روشن صبح ۔
