وہ ایٹم بم خریدنے گئے

(لیبیا کے فوجی انقلاب ستمبر1969 کے بعد صدر معمر قذافی قاہرہ آئے) ایک موقع پر جب کہ صدر ناصر ان کو بتا رہے تھے کہ اسرائیل اور عربوں کے درمیان ٹینک، ہوائی جہاز وغیرہ میں طاقت کی نسبت کیا ہے۔ قذافی نے بھڑک کر کہا: نہیں، نہیں۔ ہمیں سیدھے ایک بھرپور جنگ کرنا چاہیے اور اسرائیل کا خاتمہ کر دینا چاہیے۔ ناصر نے ضبط کرتے ہوئے کہایہ ناممکن ہے۔ بین الاقوامی صورت حال ہم کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ نہ روس اور نہ امریکہ ایسی صورت حال پیدا ہونے کی اجازت دیں گے جس سے ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہو۔ قذافی نے پوچھا: ’’کیا اسرائیل کے پاس ایٹم بم ہیں‘‘۔ ناصر نے کہا: ہاں اس کا غالب امکان ہے۔ قذافی نے دوبارہ پوچھا: کیا ہمارے پاس بھی ایٹم بم ہیں۔ ناصر نے کہا:نہیں۔ ہمارے پاس نہیں ہیں۔

 دو یا تین ماہ بعد لیبیا کی دوسرے درجہ کی بڑی شخصیت میجر جالود اچانک مصر آئے اور ناصر سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ سفر بہت خفیہ ہے اور ان کا واحد مقصد صدر ناصر سے ملنا ہے۔ صدر ناصر نے ملاقات کے وقت پوچھا کہ ان کو کیا مشورہ درکار ہے۔ جالود نے کہا: ہم ایک ایٹم بم خریدنے جا رہے ہیں۔ ناصر نے پوچھا وہ کہاں سے اس کو خریدنے جارہے ہیں۔ جالود نے کہا کہ ان کو معلوم ہے کہ امریکی اور روسی ہمارے ہاتھ ایٹم بم بیچنے کے لیے تیار نہ ہوں گے۔ مگر امید ہے کہ چینی اس کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ ناصر نے کہا کہ جہاں تک وہ جانتے ہیں ایٹم بم خرید کر کبھی حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ جالود نے کہا: ہم کوئی بڑا ایٹم بم نہیں چاہتے۔ بس جنگی تدبیر کے طور پر ایک (اوسط درجہ کا) بم کافی ہوگا۔ ہم نے چینیوں سے رابطہ قائم کیا اور ان سے کہا کہ ہم اپنا ایک آدمی وہاں ملاقات اور گفتگو کے لیے بھیجنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم خیر مقدم کے لیے تیار ہیں۔ اب میں چین جا رہا ہوں۔

 جالود بھیس بدل کر روانہ ہوئے۔ انہوں نے لیبی پاسپورٹ کے بجائے مصری پاسپورٹ لیا اور پاکستان اور ہندوستان کے راستے سے سفر کر کے پیکنگ پہنچے۔ چینیوں کو خبر نہ تھی کہ اس سفر کا مقصد کیا ہے۔ مگر چواین لائی کے ساتھ ملاقات کا ایک وقت مقرر ہوگیا۔ اس ملاقات میں لیبیا کی انقلابی کونسل کے نائب صدر نے بتایا کہ وہ ایک بہت ضروری معاملہ کے لیے پیکنگ آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین تمام ایشیائی ملکوں کے لیے باعث فخر ہے۔ آپ لوگوں نے پس ماندہ ملکوں کی مدد کے لیے بہت کچھ کیا ہے اور دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ لوگ اتنے ہی طاقت ور ہیں جتنا کہ مغرب۔ اس لیے ہم لیبیا سے آپ کی مدد حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ہم آپ کے اوپر بوجھ بننا نہیں چاہتے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ چیزیں بہت زیادہ داموں میں تیار ہوتی ہیں۔ ہم ایک ایٹم بم خریدنا چاہتے ہیں‘‘۔ چاؤ این لائی نے اس کے جواب میں نہایت نرم لہجہ اختیار کیا۔ انہوں نے معیاری چینی اخلاق کے ساتھ کہا کہ ایٹم بم فروخت نہیں کیے جاتے۔ چین کو یقینا اس سے خوشی ہوگی کہ وہ ریسرچ کے کام میں لیبیا کی مدد کرے جس طرح چند سال پہلے چین نے مصر کو تحقیقاتی مدد دینے کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری لیبیا کو خود اپنے آپ کرنی ہوگی۔ ہر قوم کو خود کفیل بننے کی کوشش کرنا چاہیے۔ وغیرہ۔ چنانچہ میجر جالود چین سے خالی ہاتھ واپس آگئے۔ (صفحہ77-76)

 کہا جاتا ہے کہ صدر ناصر جب مصر میں برسراقتدار آئے تو انہوں نے بھی ایٹم بم کی خریداری کے لیے ایک وفد روس بھیجا تھا اور وہاں ان کو وہی جواب دیا گیا جو لیبی وفد کو چین میں جواب دیا گیا۔

ایک تسبیح کے بدلے 20 ملین پونڈ

لیبیا میں یکم ستمبر1969 کے انقلاب کے نتیجہ میں شاہ ادریس کی حکومت ختم ہوگئی اور موجودہ حکومت قائم ہوئی۔ اس واقعہ کی خبر جب پہلی بار صدر جمال عبدالناصر کو دی گئی تو حاضرین نے اس پر مختلف انداز سے تبصرہ شروع کیا۔ صدر ناصر نے اس موقع پر اپنا ایک واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مجھے یاد ہے کہ ایک موقع پر جب کہ ہم کو ہتھیار خریدنے کے لیے رقم کی فوری ضرورت تھی۔ میں نے حسن صبری الخولی کو شاہ ادریس کے پاس بھیجا اور ان سے اس موقع پر تعاون کی درخواست کی۔ شاہ ادریس نے فوراً وعدہ کر لیا کہ وہ ہم کو20 ملین پونڈ دے دیں گے، صرف ایک شرط پر— وہ یہ کہ ان کو وہ تسبیح واپس کر دیں جو ان کے خاندان کے ایک بزرگ نے الازہر کی مسجد کے لیے دی تھی اور جس کے متعلق ان کا خیال تھا کہ وہ اب بھی مسجد کی کسی کھونٹی پر لٹکی ہوئی ہے۔ میں نے حسن الخولی سے کہا کہ وہ الازہر جائیں اور مذکورہ تسبیح حاصل کریں اور اس کو شاہ ادریس تک پہنچا دیں۔

 حسن الخولی نے فوراً ایسا کیا اور شاہ ادریس نے وعدہ کے مطابق ہم کو20 ملین پونڈ کی رقم پیش کر دی (صفحہ 68-69)۔

ہارنے والے کو خوش آمدید!

1967 کی مصر۔ اسرائیل جنگ میں مصر کو بری طرح شکست ہوئی۔ اس کے بعد ہی اگست1967 میں خوطوم کانفرنس ہوئی۔ ناصر کانفرنس میں شرکت کے لیے پہنچے تو خوطوم کے ہوائی اڈّے پر تقریباً پانچ لاکھ آدمی ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ امریکی میگزین نیوز ویک نے اپنی رپورٹ میں اس کا عنوان قائم کیا: مفتوح کو خوش آمدید (Hail to the Conquered) تاہم اسی اجلاس میں شرکت کے لیے اگلے دن شاہ فیصل مرحوم آئے تو ہوائی اڈہ پر ان کا استقبال کرنے کے لیے کوئی بھیڑ موجود نہ تھی۔ تھوڑے سے لوگ جو آئے انہوں نے بھی جو نعرہ لگایا وہ یہ تھا’’ناصر کا ساتھ دو‘‘۔  (صفحہ52)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion