کبھی ایسا ہوتا ہے
کہ عوامی بھیڑ میں سچائی دب کر رہ جاتی ہیں
حضرت مسیح کو اللہ نے بہت سے معجزے دیے تھے۔ وہ مٹی کے پرندہ پر پھوک مارتے اور وہ سچ مچ پرندہ بن کر اڑنے لگتا۔ وہ اندھے اور کوڑھی پر ہاتھ پھیرتے اور وہ فوراً اچھے ہو جاتے اور دیکھنے لگتے، وہ مرے ہوئے انسان سے کہتے کہ اٹھ، اور وہ دوبارہ زندہ ہو کر کھڑا ہو جاتا۔ وہ بتا دیتے کہ کس کے پیٹ میں کیا ہے اور کس کے گھر میں کن چیزوں کا ذخیرہ ہے ۔ (آل عمران 3:49)
یہ حیران کن باتیں آپ کے استادہ الٰہی ہونے کا ثبوت تھیں۔ مگر یہود نے ان کو آپ کے انکار کا بہانہ بنا لیا۔ انہوں نے کہا: ’’یہ کوئی معلم دین یا قانون ساز نہیں، بلکہ شعبدہ باز ہے اور گلیل کے سادہ مزاج باشندوں میں اس نے شہرت و مقبولیت حاصل کر لی‘‘ تاہم فلسطین کے مشرک رومیوں کا تاثر دوسرا تھا۔ مشرک قوموں کا عام مزاج یہ رہا ہے کہ جس کے اندر کوئی غیر معمولی بات دیکھتی ہیں اس کو خدا سمجھ لیتی ہیں۔ برنابا حواری کی انجیل میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح کے معجزوں کو دیکھ کر اس زمانہ کے مشرک رومی سپاہیوں نے آپ کو خدا اور بعض نے خدا کا بیٹا کہنا شروع کر دیا تھا۔
حضرت مسیح کے بعد جب سینٹ پال آپ کے مذہب میں داخل ہوا تو اس کو مسیحیت کے پھیلانے کے لیے سب سے آسان نسخہ یہ سمجھ میں آیا کہ عوامی ذہن کی رعایت سے مسیحیت کی ایک ایسی تعبیر پیش کی جائے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ حضرت مسیح کی تعلیم کے مطابق آپ کے ابتدائی پیرو موسوی شریعت پر عمل کرتے تھے۔ سینٹ پال نے اعلان کر دیا کہ ایک عیسائی ، شریعت یہود کی تمام پابندیوں سے آزاد ہے۔ اس زمانہ کے رومیوں اور یونانیوں کے مذہب متھرا پرستی (mithrism) کے عقائد کو صرف الفاظ بدل کر مسیحیت میں داخل کر لیا اور کہا کہ مسیح خدا کے بیٹے تھے اور صلیب پر جان دے کر وہ اولاد آدم کے پیدائشی گناہ کا کفارہ ہو گئے ہیں، اب صرف ان پر ایمان لانا ہی نجات کے لیے کافی ہے۔
حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں نے سینٹ پال کی اس خود ساختہ مسیحیت کی سخت مخالفت کی، مگر سینٹ پال نے اپنے گھڑی ہوئی مسیحیت میں اس وقت کے عوام کے لیے جو اعتقادی کشش اور سہولت رکھ دی تھی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ کثرت سے مسیح دین میں داخل ہونے لگے۔ حتٰی کہ جدید مسیحیوں کا ایک سیلاب امنڈ پڑا۔ اس عوامی ریلے میں سچے مسیحی جو تعداد میں بہت کم تھے۔ دب کر رہ گئے۔ تاہم تیسری صدی عیسوی کے اختتام تک بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جو حضرت مسیح کو بندہ اور رسول مانتے تھے اور آپ کی الوہیت کے عقیدہ کو غلط قرار دیتے تھے۔ مگر چوتھی صدی کے آغاز میں جب مشرقی رومی شہنشاہ قسطنطین (337-272) بعض سیاسی محرکات کے تحت عیسائی بن گیا تو سینٹ پال کی ایجاد کردہ مسیحیت کو سیاسی اقتدار کی سرپرستی بھی حاصل ہو گئی 325ء میں نقیہ (Nicaea) کی کونسل میں 318 مسیحی نمائندے جمع کیے گئے تاکہ مسیحیت کا سرکاری عقیدہ متعین کریں۔ اس میں 313 نمائندوں نے سرکاری تشریح کی حمایت کی بقیہ اس کے خلاف رہے۔ پادری اے ریس (Arius) اس کو چیلنج کرنے کے لیے اٹھا تو قسطنطین نے یہ کہہ کر اس کو خاموش کر دیا کہ ’’اگر تم اس کو نہیں مانتے تو دوسری چیز ہمارے پاس تلوار ہے‘‘۔
قسطنطین کے مسیحیت قبول کرنے کے بعد ساری رومی سلطنت میں مسیحی مذہب پھیل گیا۔ یہ تمام مسیحی اسی نئے مسیحی مذہب پر ایمان لائے تھے جو اولاً سینٹ پال اور اس کے بعد ترتولین (230-150) وغیرہ نے وضع کیا تھا۔ اس عوامی طوفان سچے مسیحیوں کے لیے زندہ رہنے کی کوئی شکل نہ تھی۔ اولاً خاموش اور اس کے بعد وہ دھیرے دھیرے ختم ہو گئے۔
اسلام کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ خود اللہ نے قرآن کو محفوظ رکھنے کی ذمہ لیا ہے، جب کہ پچھلی آسمانی کتابوں کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری ان کے حاملین کے اوپر تھی۔ اسلام کے لیے یہ خطرہ نہیں کہ وہ کبھی بدل کر کچھ سے کچھ ہو جائے یا مٹ کر ختم ہو جائے۔ مگر حفاظت کا یہ وعدہ متن اسلام کے لیے ہے، گروہ اسلام کے لیے نہیں ہے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ اسلام پر بھی ایسا زمانہ آئے کہ کتابی حیثیت سے تو متن اسلام (قرآن) مکمل طور پر محفوظ ہو۔ مگر عملاً ایسا ہوکہ آسمانی مذہب کے بجائے ’’بزرگوں کا مذہب‘‘ اس طرح رائج ہو جائے کہ عملاً وہی قرآن کی جگہ لے لے۔ جیسا کہ دوسری قوموں میں ہوا ہے۔ قرآن کی تلاوت تو خوب ہو رہی ہو، مگر دین کو بزرگوں سے لیا جانے لگے۔ حتٰی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اسلام کی یہ خود ساختہ شکل عوام میں اس قدر مقبول ہوا کہ اسلام کے سچے پیرو اس کے طوفان میں دب کر رہ جائیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ وہ غلط ہے، بہت سے لوگ اس لیے اس کے ساتھ لگ جائیں کہ عوامی پھیلاؤ کی وجہ سے دنیوی فائدے اس سے وابستہ ہو گئے ہیں۔ علما اس کے خلاف بولنے سے اس لیے ڈریں کہ ان کے مدرسوں کے چندے بند ہو جائیں گے۔ قائدین اس لیے اس سے قطع تعلق نہ کریں کہ انہیں اندیشہ ہو کہ ان کے استقبال کرنے والوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔ بہت سے کتاب اللہ کا علم رکھنے والے اس کو کتاب اللہ کے موافق نہ پائیں۔ مگر اس لیے اس کے گروہ میں شامل رہیں کہ ملک کے اندر اورملک کے باہر اس کے پھیلے ہوئے حلقہ سے وہ بہت سے مفادات حاصل کر سکیں گے۔
عوامی مقبولیت کبھی سچائی کی سند نہیں رہی ہے۔ بلکہ کسی تحریک کا زیادہ پھیلاؤ اکثر یہ شبہ پیدا کرتا ہے کہ اس کے اندر کوئی غلطی تو شامل نہیں، کیوں کہ حق کو ماننے والے ہمیشہ کم ہوتے ہیں اور اس کو پانے والے بھی کم۔
