دوقسمی سوچ
سوچ کی ایک قسم وہ ہے جس کونفسیات کی اصطلاح میں ثنائی یادوقسمی سوچ (dichotomous thinking)کہاجاتاہے۔یعنی چیزوں کوبلیک اینڈوہائٹ میں تقسیم کرکےسوچنا۔یہ طریقہ اکثراوقات ہلاکت کاباعث ہوتاہے۔آدمی کےپاس صرف دو معیار ہوتے ہیں، جب کہ وہاں تیسرامعیاربھی موجودہوتاہے۔مگرآدمی اپنےمخصوص ذہن کی بنا پر دو صورتوں میں بندھارہتاہے۔وہ تیسری صورت سےبےخبری کی بناپراس کواستعمال نہیں کر پاتا، جب کہ اسی تیسری صورت میں اس کی نجات چھپی ہوئی ہوتی ہے۔مثلاً ایک فرقہ کی طرف سے اس کا مذہبی جلوس نکلتا ہے۔وہ نعرہ لگاتا ہوا دوسرے فرقہ کے محلے سے گزرتا ہے۔محلے کے لوگ نعرہ کو اپنے خلاف سمجھ کر اس پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔اس کے نتیجے میں دونوں فرقوں کےدرمیان ٹکراؤ ہو جاتا ہے جو جان اور مال کے بھیانک نقصان پر ختم ہوتاہے۔
اس مثال پرغورکیجیے۔ محلہ کےلوگ اپنےمخصوص ذہن کی بناپرمعاملہ کوصرف دورخ سے دیکھ پاتےہیں۔قابل اعتراض نعرہ کوگواراکرنایااس کوبندکرنا۔چونکہ نعرہ کو گوارا کرنا انہیں بزدلی اوربےعزتی معلوم ہوتی ہےاورنعرہ کوبندکرناانہیں ایک بہادرانہ فعل نظر آتا ہے۔ اس لیے وہ نعرہ کوبندکرنےکےلیے اقدام کرتےہیں تاکہ اپنی مطلوب پسندیدہ چیز کو حاصل کرسکیں۔مگرنعرہ کوبرداشت نہ کرنےکانتیجہ عملاًیہ نکلتا ہے کہ انہیں خونی فساد کو برداشت کرناپڑتاہے۔
اس تباہی کاسبرب دوقسمی طرزفکرہے۔اگرمحلےوالےیہ جانیں کہ ان کےلیے ایک تیسری ممکن صورت بھی ہے،اوروہ ہےنعرہ کونظراندازکرنا۔اگریہ لوگ اس تیسری صورت پرعمل کریں توصرف پانچ منٹ کےبعدوہ دیکھیں گےکہ نعرہ لگانے والے اپنے راستے پر آگےجاچکےہیں اورن کےاشتعال انگیزنعرےفضامیں اس طرح گم ہوچکےہیں جیسےکہ ان کا کوئی وجودہی نہ تھا۔
