شخصیت نہیں بلکہ اصول

ایک عالم نے ایک علمی مسئلہ میں اپنے شیخ طریقت پر تنقید کی۔ کسی نے کہا کہ آپ اپنے شیخ پر تنقید کر رہے ہیں۔ عالم نے جواب دیا:نَحْنُ نُحِبُّ شَيْخَنَا وَلٰكِنَّ الْحَقَّ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنَ الشَّيْخِ۔ یعنی، ہم اپنے شیخ سے محبت کرتے ہیں مگر حق ہم کو شیخ سے بھی زیادہ محبوب ہے۔

مذکورہ عالم کا یہ قول ایک اہم حقیقت کو بتاتا ہے۔ وہ یہ کہ جب کسی مسئلہ میں کوئی تنقیدی بات کہی جائے تو خواہ بظاہر وہ کسی متعین شخص کے حوالے سے کہی گئی ہو ، مگر وہ ایک اصول پر تنقید ہوتی ہے۔ اس قسم کی تنقید میں شخصیت کا حوالہ ضروری ہے، کیوں کہ شخصی حوالے کے بغیر تنقید ایک مجہول اظہار رائے بن جائے گی اور تنقید کا اصل مقصد حاصل نہ ہو گا۔

تنقید یا اختلاف رائے کا عمل اسلام کی پوری تاریخ میں ہمیشہ جاری رہا ہے۔ صحابہ کے درمیان آپس میں بہت سے اختلافات تھے اور اکثر کھلے انداز میں اس کا اظہار ہوتا تھا۔ اسی طرح تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علما وغیرہ، کے درمیان ہمیشہ اختلافات رہے ہیں اور ان کا کھلا اظہار بھی ہمیشہ کیا جاتا رہا ہے۔ مگر کبھی کسی نے ان اختلافات کو برا نہیں بتایا اور نہ یہ کہا کہ اختلاف اور تنقید کا طریقہ ختم کر دینا چاہیے۔ اسلامی تاریخ کے پورے قدیم دور میں تنقید اور اختلاف کو ہمیشہ گوارا کیا جاتا رہا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ تنقید و اختلاف کو اصول کی نسبت سے دیکھتے تھے نہ کہ شخصیتوں کی نسبت سے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب دین انسانیت باب ’’حریت فکر‘‘)۔

تنقید کو ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سننا اور اس پر غور کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی شخصیتوں کی عظمت میں گم نہیں ہے۔ اس کے نزدیک اصل اہمیت اصول کی ہے نہ کہ شخصیت کی۔ ایسا آدمی کسی شخصیت کے مجروح ہونے کو گوارا کر لے گا مگر حق کا مجروح ہونا اس کو گوارا نہ ہو گا۔ ایسا اس وقت ہو تا ہے جب کہ لوگوں کے اندر حقیقی دینی روح زندہ ہو۔ مگر جب کسی قوم پر زوال کا دور آجائے تو اس وقت شخصیتیں ہی لوگوں کا مرجع بن جاتی ہیں۔ اب لوگ اصول کے بارے میں حسّاس نہیں ہوتے۔البتہ وہ اپنی محبوب شخصیتوں کے بارے میں بے حد حسّاس ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دور زوال میں تنقید لوگوں کے لیے  ایک مبغوض چیز بن جاتی ہے۔ یہ لوگ جب بھی کوئی ایسی تنقید سنتے ہیں جس کی زد ان کے مفروضہ اکابر پر پڑرہی ہو تو وہ سخت برہم ہو جاتے ہیں ، ان کی یہ برہمی بظاہر ناقد کے خلاف ہوتی ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ ابھی تک معرفت حق کی لذت سے آشنا نہ ہو سکے۔ حق کے نام سے وہ صرف کچھ شخصیتوں کو جانتے ہیں نہ کہ خود حق و صداقت کو۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion