ظالم کے لیے کامیابی نہیں
نظام الملک طوسی سلطنت سلجوقیہ کا وزیراعظم تھا۔ اس نے دوسلجوقی حکمراں، الپ ارسلاں اور ملک شاہ کے زمانہ میں نہایت کامیابی کے ساتھ حکومت کا نظام سنبھالا۔ وہ حکومت کے معاملات میں اتنا زیادہ دخیل تھا کہ کہا جاتا ہے کہ بادشاہ کا کام تخت پر بیٹھنا رہ گیا تھا یا شکار کھیلنا۔ سلجوقی حکومت کے حریفوں نے نظام الملک کو قتل کرا دیا۔ ایک شخص نے صوفی کے بھیس میں 1092ء میں اس پر حملہ کر کے اسے ختم کر دیا۔ نظام الملک کے مرتے ہی سلجوقی سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔
نظام الملک طوسی کی لیاقت کو عام طور پر مورخین نے تسلیم کیا ہے۔ پی۔ کے ہٹی نے اپنی کتاب’’ہسٹری آف دی عربس‘‘ میں نظام الملک کی بابت لکھا ہے کہ اسلام کی سیاسی تاریخ میں وہ ایک درخشندہ نام کی کی حیثیت رکھتا ہے:
One of the ornaments of the political history of Islam (p.477)
نظام الملک طوسی کا زمانہ گیارھویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے۔ اس کے مختلف کارناموں میں مشہور مدرسہ نظامیہ کا قیام (67-1065ء) بھی ہے۔ وہ اسی مدرسے سے اپنے لیے انتظامیہ اور عدلیہ کے لیے تربیت یافتہ افراد حاصل کرتا تھا۔ نظام الملک نے طریق حکومت پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا فارسی نام سیاست نامہ ہے۔ اس کتاب میں اس نے لکھا ہے:المَلکُ یَبْقَی مَعَ الْکُفْرِ وَلَا یَبْقَی مَعَ الظُّلْمِ(سياست نامه ، سير الملوك ، صفحہ48)۔ یعنی، حکومت کفر کے ساتھ باقی رہ سکتی ہے مگر وہ ظلم کے ساتھ باقی نہیں رہ سکتی۔
یہ اصول بادشاہ کے لیے بھی صحیح ہے اور ایک عام آدمی کے لیے بھی۔ ہر آدمی کا اپنا ایک دائرہ عمل ہوتا ہے۔ بادشاہ کا دائرہ بڑا ہوتا ہے اور عام آدمی کا چھوٹا۔ جو آدمی کامیابی کے ساتھ زندہ رہنا چاہتا ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دائرہ میں ظلم کرنے سے بچے۔ اگر اس نے دوسروں پر ظلم کرنے سے اپنے کو نہ بچایا تو یقینی طور پر وہ قدرت کی پکڑ میں آ جائے گا۔ ،خدا کی سنت ہے کہ آدمی کے دوسرے جرموں کی سزا تو اس کو آخرت میں دی جاتی ہے مگر جو شخص ظلم کرے اور ناحق دوسروں کو ستائے اس کی سزا اسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے۔ ظلم کرنے والا خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا، خواہ جلد پکڑا جائے یا دیر میں ۔
ظلم ایک ایسی برائی ہے جس کا خمیازہ اولاد تک کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ظلم کرنے والا خواہ کوئی حکمراں ہو یا غیر حکمراں، اگر وہ اپنے ظلم پر قائم رہتا ہے تو لازماً ایسا ہوگا کہ اس کے ظلم کا انجام اس کے خاندان تک پہنچے گا۔ آدمی اپنے بچوں کی خاطر ظلم کرتا ہے حالانکہ بچوں کے حق میں اس سے زیادہ بری وراثت اور کوئی نہیں۔
