شتم رسول کا مسئلہ

 اس معاملے کو سمجھنے کے لیے  ایک مثال لیجیے۔ تمام فقہا اس پر متفق ہیں کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ پر شتم کرے، خواہ وہ اشارتاً ہی کیوں نہ ہو ، اس کی لازمی سزا قتل ہے۔ شاتم رسول کو بطور حد قتل کیا جائے گا (يُقْتَلُ حَدًّا) اس معاملے میں بہت کم کسی قابل ذکر فقیہ کا استثناء پایا جاسکتا ہے۔ اس حکم کی تفصیل کے لیے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کیجیے:

1۔  الصارم المسلول على شاتم الرسول، ابن تيميه

2۔ السيف المسلول علیٰ من سب الرسول، تقی الدین ابوالحسن على السبكي

3۔ تنبيه الولاة والحكام على أحكام شاتم خير الأنام أو احد اصحابه الكرام، ابن عابدين الشامي

اس مسئلہ پر جب بھی کوئی شخص کوئی مضمون یا کتاب لکھتا ہے تو وہ ہمیشہ یہی کرتا ہے کہ ان فقہا کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرتا ہے کہ شتم رسول کی سزا اسلام میں قتل ہے، اور یہ کہ یہ ایک ایسا متفق علیہ مسئلہ ہے جس پر شاید کسی فقیہ کا کوئی اختلاف نہیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شریعت کا مسئلہ یہی ہے کہ شاتم رسول کو لازماً بطورحد قتل کیا جائے تو یہ مسئلہ دور اوّل کے اسلام میں کیوں موجود نہ تھا۔ اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس زمانے میں بہت سے ایسے افراد موجود تھے جو شتم رسول کا فعل کررہے تھے، مگر انہیں قتل نہیں کیا گیا۔

اس سلسلے میں ایک انتہائی واضح مثال مدینہ کے عبد اللہ بن ابی ابن سلول کی ہے۔ وہ ایک کھلا ہوا شاتم رسول تھا۔ وہ رات دن شتم رسول کے کام میں مشغول رہتا تھا۔ اس کا شاتم ہونا  غیر مشتبہ طور پر ثابت تھا۔ پھر بھی لوگوں کے اصرار کے باوجود ، رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم نہیں دیا یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرا۔ اس عدم قتل کا سبب کیا تھا۔ علامہ ابن تیمیہ (وفات 827ھ)نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ— وَإِنَّمَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَهُ لِمَا خِيفَ فِي قَتْلِهِ مِنْ نُفُورِ النَّاسِ عَنِ الْإِسْلَامِ لَمَّا كَانَ ضَعِيفًا (الصارم المسلول على شاتم الرسول،179)۔ یعنی رسول اللہ ﷺ صرف اس لیے اس کے قتل سے باز رہے کیوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ اس کے قتل سے لوگ اسلام سے برگشتہ ہو جائیں گے ، کیوں کہ (اس وقت) اسلام ضعیف تھا۔ دور اوّل کے زمانے  میں اور عباسی خلافت کے زمانے میں بننے والی فقہ کے درمیان یہ فرق کیوں۔

 جیسا کہ معلوم ہے ، فروری1989ء میں ایران کے آیت اللہ خمینی نے یہ فتویٰ دیا کہ سلمان رشدی نے اپنی کتاب سیٹ ینک ورسیز (Satanic Verses) کے ذریعہ پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس کو قتل کر دیں۔ یہ فتویٰ جب چھپا تو غالباً راقم الحروف کے واحد استثناء کو چھوڑ کر دنیا بھر کے تمام مسلمانوں نے اس فتویٰ   کی تائید کی۔اس کی حمایت میں زبردست مظاہرے ہوئے۔ مگر مسلمانوں کی عالمی تائید کے باوجود سلمان رشدی کو قتل کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ مزید یہ کہ قتل کے اس فتویٰ اور مسلمانوں کی طرف سے اس کی حمایت کے نتیجے میں اسلام ساری دنیا میں بدنام ہو گیا۔ اور اس کی تصویریہ بن گئی کہ اسلام خدانخواستہ ایک وحشیانہ مذہب ہے۔

موجودہ زمانے میں آزادی ِرائے کو انسان کا سب سے بڑا حق سمجھا جاتا ہے۔ یہ گویا ان کا مذہب ہے۔ اس بنا پر پوری جدید دنیا نے اس فتویٰ کو اپنے مذہب (آزادی) پر براہ راست حملہ سمجھا۔ یہ لوگ پوری طاقت کے ساتھ رشدی کے دفاع پر آگئے۔اس کے ساتھ جدید میڈیا نے اس معاملے کو اتنا پھیلایا کہ اس کی خبر ساری دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچ گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس اندیشہ کی بنا پر مدینہ کے عبد اللہ بن ابی کے قتل سے پر ہیز کیا وہ اندیشہ سلمان رشدی کے خلاف قتل کے فتویٰ کے نتیجے میں ہزار گنا زیادہ بڑے پیمانے پر اہل اسلام کے لیے پیش آگیا۔

اب ان دو متقابل نظیروں پر غور کیجیے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی نظیر بتاتی ہے کہ شتم رسول کے معاملے میں ، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ بڑے پیمانے پر ہو ، یہ دیکھا جائے گا کہ شاتم کو اگر قتل کیا جائے تو اس کا عملی نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر حالات پر اہل اسلام کا اتنا کنٹرول نہ ہو کہ وہ قتل کے منفی نتائج کو روک سکیں تو اہل اسلام قتل کا اقدام نہیں کریں گے۔ وہ اس معاملے کو اللہ کے حوالہ کر دیں گے۔ اس کے بر عکس، فقہا کی مثال بتاتی ہے کہ جب کوئی شخص شتم کا فعل کرے تو اس کو فوراً قتل کر دیا جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کی نظیر سے اپنے لیے ہدایت نہیں لی۔ان کی نظر فقہا کے مسلک پر اٹک کر رہ گئی۔ فقہا کی پیروی میں متحد ہو کر وہ قتل شاتم کے علم بردار بن گئے۔

اس سوال کا جواب تقلید ہے۔ موجودہ زمانے  کے مسلمان متفقہ طور پر یہ رائے بناچکے تھے کہ اب امت کے لیے براہ راست قرآن و سنّت سے اجتہاد کا دروازہ بند ہے۔ اب صرف اجتہاد مقید ہی کا دروازہ ان کے لیے کھلا ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اب مسلمان براہ راست قرآن اور سنّت سے مسائل اخذ نہیں کر سکتے۔ اب ان کے لیے صرف ایک ہی ممکن صورت ہے، اور وہ یہ کہ وہ فقہا کے فتوؤں کو جانیں اور پورے تقلیدی جذبہ کے ساتھ اس پر قائم ہو جائیں۔ چنانچہ انہوں نے رشدی کے معاملے میں یہی کیا۔

 جیسا کہ عرض کیا گیا، موجود ہ فقہ کی تدوین اس وقت ہوئی جب کہ اہل اسلام کو مکمل اقتدار حاصل تھا۔ ان کو حالات پر اتنا زیادہ کنٹرول تھا کہ کسی قوم کی طرف سے اگر باغیانہ روش کا اندیشہ ہوتا تو خلیفہ صرف دھمکی کا ایک خط لکھتا اور باغی گروہ پست ہمت ہو کر خاموش ہو جاتا۔ اسی قسم کے ایک واقعہ پر عربی شاعر نے یہ پر فخر شعر کہا تھا:

إِذَا مَا أَرْسَلَ الْأُمَرَاءُ جَيْشًا                إِلَى الْأَعْدَاءِ أَرْسَلْنَا الْكِتَابَا

 مگر موجودہ زمانے میں حالات بدل چکے تھے۔ اب اہل اسلام کو پہلے کی طرح حالات پر کنٹرول حاصل نہ تھا۔ مزید یہ کہ ان کے لیے بہت سے ناموافق حالات پیدا ہو چکے تھے۔ مثلاً آزادی کا موجودہ زمانے  میں خیراعلیٰ (summum bonum) کی حیثیت اختیار کرلینا اور اظہار رائے کی آزادی کو مقدس حق کے طور پر مان لیا جانا۔ اسی طرح جدید میڈیا کا ظہور میں آنا جو گویا گرم خبر (hot-news) کی عالمی ایجنسی ہے ،وغیرہ۔

انہی نئے حالات کا یہ نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کی عالمی حمایت کے باوجود سلمان رشدی کو قتل کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ مزید یہ ناقابل تلافی نقصان ہوا کہ اسلام ساری دنیا میں بدنام ہوگیا۔ جدید انسان کی نظر میں اسلام کی یہ تصویر بن گئی کہ اسلام خدا نخواستہ دہشت گردی کا مذہب ہے ، وہ اپنے پیروؤں کو مذہبی جنون (fanaticism) کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ نتیجہ تھا بدلے ہوئے زمانے  میں حاکمانہ دور کی فقہ کو نافذ کرنے کا۔

سلمان رشدی کے معاملے میں موجودہ زمانے کے مسلمان اگر اجتہاد مطلق کا طریقہ اختیار کرتے تو وہ اس معاملے میں براہ راست قرآن و سنّت سے روشنی حاصل کرتے اور پھر انہیں معلوم ہو جاتا کہ اس مسئلہ کا حل قتل کا فتویٰ نہیں ہے بلکہ ردّعمل سے بچتے ہوئے پُرامن دائرہ میں اپنی دعوتی کوشش کرنا ہے۔ مگر چونکہ وہ اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر دور اقتدار میں بننے والی فقہ کے اندر اٹکے ہوئے تھے اس لیے ان کو وہی حاکمانہ مسئلہ نظر آیا جو فقہ کی ان کتابوں میں لکھا ہوا تھا، یعنی:الشَّاتِم يُقتل حداً۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion