خاموشی میں نجات
حدیثوں میں مختلف انداز سے خاموشی کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا:مَنْ صَمَتَ نَجَا (مسنداحمد، حدیث نمبر 6654)۔ یعنی، جوشخص چپ رہااس نےنجات پائی۔
اس کامطلب یہ نہیں کہ آدمی بولناچھوڑدے ،وہ بالکل خاموش رہے۔ اس کامطلب دراصل یہ ہے کہ آدمی خاموش رہ کرمعاملے کوسمجھے،اس کےبعدوہ بولے۔یہ بلاشبہ ایک بہترین طریقہ ہے۔آدمی کوچاہیےکہ وہ باقاعدہ اپنی تربیت کرکےیہ عادت ڈالےکہ وہ بولنے سے زیادہ خاموش رہے۔ وہ بولے تو اس وقت بولے جب کہ وہ سوچنے کا کام کر چکا ہو۔
یہ تربیت اس طرح کی جاسکتی ہےکہ روزانہ کےمعمول کی بات چیت میں وہ بالقصد اپنے آپ کو اس کا عادی بنائے۔ اگر آدمی اپنی روز مرہ کی معمولی بات چیت میں یہ عادت ڈال لے تو اپنی اس عادت کی بنا پر وہ اس وقت بھی ایسا ہی کرے گا جب کہ خلاف معمول کوئی بات پیش آگئی ہو۔
عام طورپرلوگ یہ کرتےہیں کہ جب ان کےسامنےکوئی بات آتی ہےتوفوری طورپر اس کا جو جواب ان کے ذہن میں آتا ہے، اس کو اپنی زبان سے بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ طریقہ درست نہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے سوچنے کا عمل کیا جائے اور پھر اس کے بعد بولنا شروع کیاجائے۔جولوگ ایساکریں وہ اس انجام سےبچ جائیں گےکہ وہ اپنے بولے ہوئے الفاظ پر پچھتائیں۔ وہ اپنے کہے ہوئے بول کو لوٹانا چاہیں، حالاں کہ کسی کا کہا ہوا بول دوبارہ اس کی طرف لوٹنے والا نہیں۔
عام طورپرایساہوتاہےکہ جب کوئی خلاف مزاج بات سامنےآتی ہےتو آدمی بھڑک کرناپسندیدہ اندازمیں کلام کرنےلگتا ہے۔اس سےبچنےکاآسان طریقہ یہ ہےکہ روزمرہ کی معمولی بات چیت میں آدمی اس کی عادت ڈالےکہ وہ پہلےسوچے اورپھر بولے۔ جب ایسا ہوگاکہ معمول کی بات چیت میں وہ بولنے سے پہلے سوچنے کا عادی ہوجائے گا تو وہ اپنی اس عادت کی بنا پر خلاف معمول بات چیت میں بھی اسی طریقہ پرکاربندرہےگا۔عام بات چیت میں اپنےآپ پرکنٹرول رکھ کربولنےکی عادت اس کو اس قابل بنادےگی کہ وہ ہنگامی مواقع پربھی اپنےآپ پرکنٹرول رکھ کربولے،وہ ذہنی ڈسپلن کےساتھ بات چیت کرے۔
دنیاکےاکثرفتنےالفاظ کےفتنےہیں۔کچھ الفاظ نفرت اورتشدّدکےجذبات کو بھڑکاتے ہیں۔ اور کچھ دوسرے الفاظ امن اورانسانیت کاماحول قائم کرتےہیں۔ اگر آدمی صرف یہ کرے کہ وہ بولنے سے پہلے سوچے اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر بولے تو بیشتر فتنے پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے۔
اپنےآپ کوقابومیں رکھ کرکلام کرناایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔یہ صفت ان لوگوں میں ہوتی ہےجواپنےآپ پرنظرثانی کرتے رہیں، جو اپنے قول وعمل کاحساب لیتے رہیں۔
آدمی کو چاہیے کہ جب وہ کوئی بات سنے تو وہ فوراً اس کا جواب نہ دے، وہ فوراً اپنا ردعمل پیش نہ کرے۔ وہ ایک لمحہ کے لیے ٹھہر کر سوچے کہ کہنے والے نے کیا بات کہی ہے اور میری طرف سے اس کا بہتر جواب کیا ہوسکتا ہے۔ بات کو سن کر ایک لمحہ کے لیے ٹھہرنا اس بات کی یقینی ضمانت ہےکہ وہ سنی ہوئی بات کادرست جواب دےگا،وہ پتھرکاجواب پتھر سے دینے کے بجائے پتھر کا جواب پھول سے دینے میں کا میاب ہو جائےگا۔
