ہم کہاں ہیں
22ستمبر1979 کو ایک بڑی اسلامی شخصیت کا انتقال ہوا۔ اس کے بعد اس شخصیت سے وابستہ اخبارات و رسائل میں مرحوم کے بارے میں کثرت سے مضامین شائع ہوئے۔ ان مضامین نے بتایا کہ مرحوم کے معتقدین مرحوم کے بارے میں کیسی غیر معمولی شیفتگی اور وارفتگی اپنے دلوں میں لیے ہوئے تھے۔ مرحوم کی موت نے ان کے دل کے پیمانہ کو چھلکا دیا اور انہوں نے مرحوم کے تذکرے انتہائی والہانہ انداز میں بیان کیے۔ ان مضامین کو دیکھ کر میں نے مرحوم کے ایک معتقد سے پوچھا کہ آپ کے یہ اخبارات و رسائل چوتھائی صدی سے بھی زیادہ مدت سے نکل رہے ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان پرچوں میں کبھی خدا کا تذکرہ بھی اس جوش اور وارفتگی کے ساتھ شائع ہوا ہو۔ مومن کی تعریف یہ ہے کہ وہ خدا کے کارناموں سے سرشار ہو اور خدا کے نام سے اس کے قلب و روح میں حرکت پیدا ہو جائے۔ پھر کیا آپ کے اخبارات ورسائل کے صفحات میں کبھی خدا کے لیے ان غیر معمولی کیفیات کا مظاہرہ ہوا ہے جو آپ نے اپنے رہنما کے بارے میں ظاہر کیا ہے۔ اس کے جواب میں وہ خاموش ہوگئے۔
یہ صرف کسی ایک اسلامی تحریک کا معاملہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ہمارے تمام اداروں اور تحریکوں کا حال یہی ہے۔ ان کی مجلسیں اپنے’’اکابر‘‘ کے تذکرے سے معمور ہیں۔ ہر ایک نے اپنے کچھ بڑے بنا لیے ہیں اور جب ان بڑوں کا نام آتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زبان و قلم پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی ہو۔ اس کے برعکس کسی بھی حلقہ میں یہ نظر نہیں آتا کہ وہاں خدا کے چرچے میں لوگوں کو لطف ملتا ہو، خدا کا نام آنے پر لوگوں کے اندر والہانہ کیفیت پیدا ہوتی ہو۔ خدا کی حیثیت بس ایک خشک عقیدہ کی ہے۔ جب کہ ان کی اپنی محبوب شخصیتوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کا نام آتے ہی ان کی پوری ہستی جھوم جاتی ہے۔ ان کے دل و دماغ کا چمن کھل اٹھتا ہے۔ ان کے تصور سے ان کی یادوں کی دنیا میں بہار آ جاتی ہے۔
خدا اپنے سورج کے ذریعہ سارے عالم کو روشن کر رہا ہے مگر اس کو دیکھ کر کسی پر غیر معمولی کیفیت طاری نہیں ہوتی۔ البتہ دنیا کو یہ بتانے میں وہ فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی محبوب شخصیت نے سارے عالم کو اپنی تقریروں سے جگمگا دیا ہے۔ ہواؤں کا نظام دیکھ کر انہیں خدا کی کاریگری پر وجد نہیں آتا۔ البتہ اپنے بزرگوں کے کارنامے بتانے کے لیے وہ یہ شان دار الفاظ پا رہے ہیں کہ انہوں نے ساری دنیا میں اپنے فیض کی ہوائیں چلا دی ہیں۔ زمین و آسمان میں خدا کی بے پایاں حکمتیں ان کی روح پر رقص طاری نہیں کرتیں۔ البتہ اپنے محبوب قائد کے فکر و تدبر کی عظمت کو بتانے کے لیے لغت کے سارے الفاظ بھی ان کو ناکافی معلوم ہوتے ہیں۔ خدا نے اپنی بے پناہ طاقت سے زمین و آسمان کو سنبھال رکھا ہے مگر اس کو دیکھ کر ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے نہیں ہوتے۔ البتہ اپنے بڑے ان کو اس طرح دکھائی دے رہے ہیں جیسے وہ تمام ملکوں اور قوموں کو تھامے ہوئے ہیں۔ پانی کا عجیب و غریب انتظام جس نے زمین کو ساری معلوم کائنات میں ایک استثنائی کرہ بنا دیا ہے ان کو حیرانی میں مبتلا نہیں کرتا۔ البتہ اپنے پیشواؤں کے کارنامے بیان کرنے کے لیے وہ پورے جوش سے کہہ اٹھتے ہیں کہ ان کے فیض کے چشمے سے ساری دنیا سیراب ہو رہی ہے— شاید انسان کسی دکھائی دینے والی چیزکو اپنا مرکز محبت بناناچاہتا ہے اور جب خالق اس کو دکھائی نہیں دیتا تو وہ کسی مخلوق کو اپنا مرکز محبت بنا لیتا ہے۔
